قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 468 — صحيح مسلم 1:374
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
اعمش کے دوشاگردوں ابو معاویہ اور وکیع نے اپنی اپنی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
حدیث 469 — صحيح مسلم 1:375
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، كِلاَهُمَا عَنْ رَوْحٍ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ، فَقَالَ نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا، وَكَذَا، انْظُرْ أَىْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ - قَالَ - فَتُدْعَى الأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَنْ تَنْظُرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْظُرُ رَبَّنَا ‏.‏ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ ‏.‏ فَيَقُولُونَ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ ‏.‏ فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ - قَالَ - فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ - مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ - نُورًا ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلاَلِيبُ وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لاَ يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ كَذَلِكَ ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّىْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا ‏.‏
ابو زبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، ان سے ( جنت اور جہنم میں ) وارد ہونے کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا : ہم قیامت کے دن فلاں فلاں ( سمت ) سے آئیں گے ( دیکھو ) ، یعنی اس سمت سے جو لوگوں کےاوپر ہے ۔ کہا : سب امتیں اپنے اپنے بتوں اور جن ( معبودوں ) کی بندگی کرتی تھیں ان کے ساتھ بلائی جائیں گی ، ایک کے بعد ایک ، پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور پوچھے گا : تم کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ تو وہ کہیں گے : ہم اپنے رب کے منتظر ہیں ۔ وہ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ۔ توسب کہیں گے : ( اس وقت ) جب ہم تمہیں دیکھ لیں ۔ تو وہ ہنستا ہوا ان کےسامنے جلوہ افروز ہو گا ۔ انہوں نے کہا : وہ انہیں لے کر جائے گااور وہ اس کے پیچھے ہوں گے ، ان میں ہر انسان کو ، منافق ہویا مومن ، ایک نور دیا جائے گا ، وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے ۔ اور جہنم کے پل پر کئی نوکوں والے کنڈے اور لوہے کے سخت کانٹے ہوں گے اور جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن نجات پائیں گے تو سب سے پہلا گروہ ( جو ) نجات پائے گا ، ان کے چہرے چودہویں کے چاند جیسے ہوں گے ( وہ ) ستر ہزار ہوں گے ، ان کا حساب نہیں کیا جائے گا ، پھر جو لوگ ان کے بعد ہوں گے ، ان کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے ، پھر اسی طرح ( درجہ بدرجہ ۔ ) اس کے بعد پھرشفاعت کا مرحلہ آئے گااور ( شفاعت کرنے والے ) شفاعت کریں گے حتی کہ ہر وہ شخص جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو گا اور جس کےدل میں جو کے وزن کے برابر بھی نیکی ( ایمان ) ہو گی ۔ ان کی جنت کے آگے کے میدان میں ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی چھڑکنا شروع کر دیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں اگ آتی ہے اور اس ( کے جسم ) کا جلا ہوا حصہ ختم ہو جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا حتی کہ اس کو دنیا اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید عطا کر دیا جائے گا ۔
حدیث 470 — صحيح مسلم 1:376
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم بِأُذُنِهِ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
سفیان بن عیینہ نے عمر ( بن دینار ) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انہوں نے اپنے دونوں کانٔن سے یہ بات نبی ﷺسنی ، آپ فرما رہے تھے : ’’ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 471 — صحيح مسلم 1:377
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
حماد بن زید نے کہا : میں نے عمر وبن دینارسے پوچھا : کیا آپ نے جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو شفاعت کے ذریعے سے آگ میں سے نکالے گا؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ۔
حدیث 472 — صحيح مسلم 1:378
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا إِلاَّ دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
قیس بن سلیم عنبری سے کہا : یزید الفقیر نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت جابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث سنائی ، انہوں نےکہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ کچھ لوگ آگ میں سے نکالے جائیں گے ، وہ اپنے چہروں کے علاوہ ( پورے کے پورے ) اس میں جل چکے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ‘ ‘
حدیث 473 — صحيح مسلم 1:379
وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ - قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، قَالَ كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْىٌ مِنْ رَأْىِ الْخَوَارِجِ فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ - قَالَ - فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ - جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ وَاللَّهُ يَقُولُ ‏{‏ إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ‏}‏ وَ ‏{‏ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا‏}‏ فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ قَالَ فَقَالَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ ‏.‏ - قَالَ - ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ - قَالَ - وَأَخَافُ أَنْ لاَ أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ - قَالَ - غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا - قَالَ - يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ ‏.‏ قَالَ فَيَدْخُلُونَ نَهْرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ ‏.‏ فَرَجَعْنَا قُلْنَا وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعْنَا فَلاَ وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ ‏.‏
م ، یعنی محمد بن ابی ایوب نے کہا : مجھے یزید الفقیر نےحدیث سنائی ، انہوں نے کہا : کہ خارجیوں کے نظریات میں سے ایک بات میرے دل میں گھر کر گئی تھی ۔ ہم ایک جماعت میں نکلے جس کی اچھی خاصی تعداد تھی ۔ ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں اور پھر لوگوں کو خلاف خروج کریں ( جنگ کریں ۔ ) ہم مدینہ سے گزرے تو ہم نےدیکھا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( ایک ستون کے پاس بیٹھے ) لوگوں کو رسول اللہﷺ کی احادیث سنا رہے ہیں ، انہوں نے اچانک «الجهميين» ( جہنم سے نکل کر جنت میں پہنچنے والے لوگوں ) کا تذکرہ کیا تو میں ان سے پوچھا : اے رسول اللہ کے ساتھی! یہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں ؟ حالانکہ اللہ فرماتا ہے : ’’بے شک جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا اس کو رسوا کر دیا ۔ ‘ ‘ اور : ’’وہ جب بھی اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے ، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ تویہ کیا بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں ؟ ( یزیدنے ) کہا : انہوں نے ( جواب میں ) کہا : کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی : ہاں!انہوں نے کہا : کیا تم نے محمدﷺ کے مقام کے بارے میں سنا ہے ، یعنی وہ مقام جس پر قیامت کے دن آپ کومبعوث کیا جائے گا؟ میں نے کہا : ہاں! انہوں نے کہا : بے شک و ہ محمدﷺ کا مقام محمود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں ( جہنم سے ) نکالنا ہو گا نکالے گا ، پھر انہو ں نے ( جہنم پر ) پل رکھے جانے اور اس پر سے لوگوں کے گزرنے کا منظر بیان کیا ۔ ( یزید نے ) کہا : مجھے ڈر ہے کہ میں اس کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکا ہوں ۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے بتایا : کچھ لوگ جہنم میں چلے جانے کے بعد اس سے نکلیں گے ، یعنی انہوں نےکہا : وہ اس طرح نکلیں گے جیسے وہ ’’تلوں ‘ ‘ ( کےپودوں ) کی لکڑیاں ہوں ، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہو ں گے اور اس میں نہائیں گے ، پھر اس میں سے ( کورے ) کاغذوں کی طرح ( ہوکر ) نکلیں گے ، پھر ( یہ حدیث سن کر ) ہم واپس آئے اورہم نے کہا : تم پر افسوس ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ بوڑھا ( صحابی حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھ رہا ہے ؟ اور ہم نے ( سابقہ رائے سے ) رجوع کر لیا ۔ اللہ کی قسم ! ہم میں سے ایک آدمی کے سوا کسی نے خروج نہ کیا ، یا جس طرح ( کے الفاظ میں ) ابو نعیم نے کہا ۔
حدیث 474 — صحيح مسلم 1:380
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَرْبَعَةٌ فَيُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا فَلاَ تُعِدْنِي فِيهَا ‏.‏ فَيُنْجِيهِ اللَّهُ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏
ابو عمران اور ثابت نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دوزخ سے چار آدمی نکلیں گے ، انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا ۔ ان میں سے ایک متوجہ ہو گا اور کہے گا : اے میرے رب !جب تو نے مجھے اس سے نکال ہی دیا ہے تو اب دوبارہ اس میں نہ ڈالنا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے نجات دے دے گا ۔ ‘ ‘
حدیث 475 — صحيح مسلم 1:381
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِكَ - وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ - فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا - قَالَ - فَيَأْتُونَ آدَمَ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْخَلْقِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا ‏.‏ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ - فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا - وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ - قَالَ - فَيَأْتُونَ نُوحًا صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ - فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا - وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلاً ‏.‏ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا - وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى صلى الله عليه وسلم الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ ‏.‏ قَالَ فَيَأْتُونَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلاَمُ - فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ - وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا - وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ ‏.‏ فَيَأْتُونَ عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ‏.‏ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم عَبْدًا قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ قُلْ تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ ‏.‏ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ ‏.‏ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ - قَالَ فَلاَ أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ - فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَىْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ‏"‏ ‏.‏ - قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ قَتَادَةُ أَىْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ‏.‏
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری اور محمد بن عبید غبری نے کہا : ( الفاظ ابو کامل کے ہیں ) ہمیں ابو عوانہ نے قتادہ سےحدیث سنائی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور وہ اس بات پر فکر مند ہوں گے ( کہ اس دن کی سختیوں سے کیسے نجات پائی جائے؟ ) ( ابن عبید نے کہا : ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی ) او ر وہ کہیں گے : اگر ہم اپنے رب کے حضور کوئی سفارش لائیں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ ( کی سختیوں ) سے راحت عطا کر دے ۔ آپ نے فرمایا : چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اورکہیں گے : آپ آدم ہیں ، تمام مخلوق کے والد ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ، آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں کہ وہ ہمیں اس ( اذیت ناک ) جگہ سے راحت دے ۔ وہ جواب دیں گے : میں اس مقام پر نہیں ، پھر وہ اپنی غلطی کو ، جو ان سے ہو گئی تھی ، یاد کر کے اس کی وجہ سے اپنےرب سے شرمندگی محسوس کریں گے ، ( اور کہیں گے : ) لیکن تم نوح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس جاؤ ، وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ( لوگوں کی طرف ) مبعوث فرمایا ، آپ نے فرمایا : تو اس پر لوگ نوح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آئیں گے ۔ وہ کہیں گے : یہ میرا مقام نہیں اور وہ اپنی غلطی کو ، جس کا ارتکاب ان سے ہو گیا تھا ، یادکرکے اس پر اپنے رب کی شرمندگی محسوس کریں گے ، ( اور کہیں گے : ) لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل ( خالص دوست ) بنایا ہے ۔ وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے : یہ میرا مقام نہیں ہے اور وہ اپنی غلطی کو یادکریں گےجو ان سے سرزد ہو گئی تھی اور اس پر اپنے رب سے شرمندہ ہوں گے ، ( اور کہیں گے : ) لیکن تم موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نےکلام کیا اور انہیں تورات عنایت کی ۔ لوگ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ کی خدمت میں حاضر ہوں گے ، وہ کہیں گے کہ میں اس مقام پر نہیں اور اپنی غلطی کو ، جو ان سے ہو گئی تھی ، یاد کر کے اس پر اپنے رب سے شرمندگی محسوس کریں گے ( او رکہیں گے : ) لیکن تم روح اللہ اور اس کے کلمے عیسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس جاؤ ۔ لوگ روح اللہ اور اس کے کلمے عیسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےپاس آئیں گے ۔ وہ ( بھی یہ ) کہیں گے : یہ میرا مقام نہیں ہے ، تم محمدﷺ کے پاس جاؤ ، وہ ایسے برگزیدہ عبد ( بندت ) ہیں جس کے اگلے پچھلے گناہ ( اگر ہوتے تو بھی ) معاف کیے جا چکے ۔ ‘ ‘ حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ پھر وہ میرے پاس آئیں گے ، میں اپنے رب ( کے پاس حاضری ) کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی ، اسے دیکھتے ہی میں سجدے میں گر جاؤں گا ، تو جب تک اللہ چاہے گا مجھے اس حالت ( سجدہ ) میں رہنے دے گا ۔ پھر کہا جائے گا : اے محمد! اپنا سر اٹھائیے ، کہیے : آپ کی بات سنی جائے گی ، مانگیے ، آپ کودیاجائے گا ، سفارش کیجیے ، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب تعالیٰ کی ایسی حمد وستائش بیان کروں گا جو میرا رب عز وجل خود مجھے سکھائے گا ، پھر میں سفارش کروں گا ۔ وہ میرے لیے حد مقرر کر دے گا ، میں ( اس کے مطابق ) لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا ، پھر میں واپس آکر سجدے میں گر جاؤں گا ۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے اسی حالت میں رہنے دے گا ، پھر کہا جائے گا : اپنا سر اٹھائیے ، اے محمدﷺ!کہیے : آپ کی بات سنی جائے گی ، مانگیے ، آپ کو ملے گا ، سفارش کیجیے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جومیرا رب مجھے سکھائے گا ، پھر میں سفارش کروں گا تووہ میرے لیے پھر ایک حد مقرر فرما دےگا ، میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا ۔ ‘ ‘ ( حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : مجھے یاد نہیں ، آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا ) پھر میں کہوں گا : ’’اےمیرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں بچا جنہیں قرآن نے روک لیا ہے ، یعنی جن کا ( دوزخ میں ) ہمیشہ رہنا ( اللہ کی طرف سے ) لازمی ہو گیا ہے ۔ ‘ ‘ ابن عبید نےاپنی روایت میں کہا : قتادہ نے کہا : یعنی جس کا ہمیشہ رہنا لازمی ہو گیا ۔
حدیث 476 — صحيح مسلم 1:382
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِكَ أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ‏"‏ ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ - أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ - فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ ‏"‏ ‏.‏
دوسری سند سے جس میں ( ابو عوانہ کے بجائے ) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کے دن مومن جمع ہوں گے اور اس ( کی ہولناکیوں سے بچنے ) کی فکر میں مبتلا ہوں گے یا یہ بات ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی ۔ ‘ ‘ .... ( آگے ) ابو عوانہ کی حدیث کےمانند ہے ، البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ کہا : ’’پھر میں چوتھی بار اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گا ( یا چوتھی بار لوٹوں گا ) اور کہوں گا : اے میرے رب! ان کے سوا جنہیں قرآن ( کے فیصلے ) نے روک رکھاہے اور کوئی باقی نہیں بچا ۔ ‘ ‘
حدیث 477 — صحيح مسلم 1:383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ ‏"‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَذَكَرَ فِي الرَّابِعَةِ ‏"‏ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَىْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ‏"‏ ‏.‏
معاذ بن ہشام نے کہا : میرے والد نے مجھے قتادہ کے حوالے سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی ﷺ نےفرمایا : ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع کرے گا ، پھر اس ( دن کی پریشانی سے بچنے ) کے لیے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی ۔ ‘ ‘ .... یہ حدیث بھی ان دونوں ( ابوعوانہ اور سعید ) کی حدیث کی طرح ہے ، چوتھی دفعہ کے بارے میں یہ کہا : ’’تو میں کہوں گا : اے میرے رب! آگ میں ان کے سوا اور کوئی باقی نہیں جسے قرآن ( کے فیصلے ) نے روک لیا ہے ، یعنی جس کے لیے ( آگ میں ) ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔