قرآني·Qurani
اردو

النكاح

3180 احادیث · #388–3567

حدیث 1278 — صحيح مسلم 5:116
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ ‏"‏ ‏.‏
شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : ’’ اس میں جو صحیح کے قریب تر ہے اس کی جستجو کرے ۔ ‘ ‘
حدیث 1279 — صحيح مسلم 5:117
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يُرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ ‏"‏ ‏.‏
فضیل بن عیاض نے منصور سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا : ’’وہ اس کی جستجو کرے جسے وہ صحیح سمجھتا ہے ۔ ‘ ‘
حدیث 1280 — صحيح مسلم 5:118
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِ هَؤُلاَءِ وَقَالَ ‏ "‏ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ‏"‏ ‏.‏
عبدالعزیز بن عبد الصمد نے منصور سے ان سب راویوں کی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : ’’وہ صحیح کی جستجو کرے
حدیث 1281 — صحيح مسلم 5:119
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏ "‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏
حکم نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺنے ظہر کی نماز ( میں ) پانچ رکعات پڑھا دیں ، جب آپ نے سلام پھیر ا تو آپ سے عرض کی گئی : کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ کیا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے کہا : آپ نے پانچ رکعات پڑھی ہیں ۔ توآپ نے دو سجدے کیے ۔
حدیث 1282 — صحيح مسلم 5:120
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا ‏.‏
ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن ادریس نے حسن بن عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم ( بن سوید ) سے اور انھوں نے علقمہ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے انھیں پانچ رکعات پڑھائیں ۔
حدیث 1283 — صحيح مسلم 5:121
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ قَالَ كَلاَّ مَا فَعَلْتُ ‏.‏ قَالُوا بَلَى - قَالَ - وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلاَمٌ فَقُلْتُ بَلَى قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ قَالَ لِي وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ زِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ فَانْفَتَلَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ لفظ انھی کے ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہمیں جریر نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم بن سوید سے روایت کی ، کہا : ہمیں علقمہ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا : ابو شبل! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ انھوں نے کہا : بالکل نہیں ، میں نے ایسا نہیں کیا ۔ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! ( آپ نے ایسا ہی کیا ہے ۔ ) ابراہیم نے کہا : میں لوگوں کے کنارے ( والے حصے ) میں تھا اور بچہ تھا ، میں نے کہا : ہاں !آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ۔ انھوں نے مجھ سے کہا : ایک آنکھ والے ! تو بھی یہی کہتا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! تو وہ مڑے اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر کہا : عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( بن مسعود ) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں ، جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی ۔ آپ نے پوچھا : ’’ تمھیں کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟آپ نے فرمایا : ’’ نہیں ۔ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ تو آپ پلٹے ، پھر دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر فرمایا : ’’ میں تمھاری ہی طرح کا انسان ہوں ، میں ( بھی ) بھول جاتا ہوں جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو ۔ ‘ ‘ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ’’جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
حدیث 1284 — صحيح مسلم 5:122
وَحَدَّثَنَاهُ عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمْسًا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ‏.‏
عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد سے ، انھوں نےحضرت عبداللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ کیا ؟ ‘ ‘ صحابہ نے کہا : آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں تمھاری طرح انسان ہوں ، میں بھی اسی طرح یا د رکھتا ہوں ، جس طرح تم یاد رکھتے ہو اور میں ( بھی ) اسی طرح بھو ل جاتا ہوں ، جس طرح تم بھول جاتے ہو ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کیے ۔
حدیث 1285 — صحيح مسلم 5:123
وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّي - فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏
(علی ) بن مسہر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضر عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور اس میں کچھ اضافہ کر دیا ۔ ابراہیم نے کہا کہ یہاں وہم مجھے ہوا ہے ، علقمہ کو نہیں ۔ عرض کی گئی : اللہ کے رسول ! کیا نماز مین اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ میں تمھاری طرح انسان ہی ہوں ، میں بھی بھولتا ہوں ، جیسے تم بھولتے ہو ، اس لیے جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے رخ ( قبلہ کی طرف ) پھیرا اور دو سجدے کیے ۔
حدیث 1286 — صحيح مسلم 5:124
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَالْكَلاَمِ ‏.‏
حفص اور ابو معاویہ نے اعمش سے باقی ماندہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی ﷺ نے سلام اور گفتگو کےبعد سہو کے دو سجدے کیے ۔
حدیث 1287 — صحيح مسلم 5:125
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَايْمُ اللَّهِ مَا جَاءَ ذَاكَ إِلاَّ مِنْ قِبَلِي - قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏
زائدہ نے سلیمان ( اعمش ) سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے زیادہ پڑھا دی تھی یا کم ۔ ابراہیم نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ ( وہم ) میری طرف سے ہے ۔ عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نیا حکم آگیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نہیں ‘ ‘ تو ہم نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا اس سے آگا ہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ جب آدمی زیادتی یا کمی کر لے تو دو سجدے کر ے ۔ ‘ ‘ ( عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : اس کے بعد آپ نے دو سجدے کیے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔