بکیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اس شخص کی مثال جو صدقہ کرتا ہے ، پھر اپنے صدقے کو واپس لے لیتا ہےاس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے پھر اپنی قے کھاتا ہے
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ سعید بن مسیب سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اپنی قے کی طرف لوٹنے والے کی طرح ہے
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
حدیث 4176 — صحيح مسلم 24:14
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اپنا ہبہ واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے ، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے
حدیث 4177 — صحيح مسلم 24:15
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا كَانَ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا " . فَقَالَ لاَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَارْجِعْهُ " .
امام مالک نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حمید بن عبدالرحمان اور محمد بن نعمان بن بشیر سے روایت کی ، وہ دونوں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے کہا : ان کے والد انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام تحفے میں دیا ہے جو میرا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اس جیسا تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے واپس لو
ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو ( ایسا ) تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
ابن عیینہ ، لیث بن سعد ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ یونس اور معمر کی حدیث میں " تمام بیٹوں کو " کے الفاظ ہیں اور لیث اور ابن عیینہ کی حدیث میں " تمام اولاد کو " ہے اور محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمان سے روایت کردہ لیث کی روایت ( یوں ) ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ ( اپنے بیٹے ) نعمان رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے
عروہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " یہ کیسا غلام ہے؟ " انہوں نے کہا : یہ میرے والد نے مجھے دیا ہے ۔ ( پھر ) آپ نے ( نعمان رضی اللہ عنہ کے والد سے ) پوچھا : " تم نے اس کے تمام بھائیوں کو بھی اسی طرح عطیہ دیا ہے جیسے اس کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
حدیث 4181 — صحيح مسلم 24:19
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ تَصَدَّقَ عَلَىَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لاَ أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ " . قَالَ لاَ . قَالَ " اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلاَدِكُمْ " . فَرَجَعَ أَبِي فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ .
حصین نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے ہبہ کیا ( یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے ) تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ ( ہبہ ) پر گواہ بنائیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " کیا تم نے یہ ( سلوک ) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو ۔ " چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ ( ہبہ ) واپس لے لیا
ابوحیان تیمی نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ان کی والدہ ، ( عمرہ ) بنت رواحہ نے ان کے والد سے ، ان کے مال میں سے ، اپنے بیٹے کے لیے ( باغ ، زمین وغیرہ ) کچھ ہبہ کیے جانے کا مطالبہ کیا ، انہوں نے اسے ایک سال تک التوا میں رکھا ، پھر انہیں ( اس کا ) خیال آیا تو انہوں ( والدہ ) نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اس پر ، جو تم نے میرے بیٹے کے لیے ہبہ کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ تھاما ، میں ان دنوں بچہ تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! اس کی والدہ بنت رواحہ کو یہ پسند ہے کہ میں آپ کو اس چیز پر گواہ بناؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : بشیر! کیا اس کے سوا بھی تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! آپ نے پوچھا : کیا ان سب میں سے ہر ایک کو تم نے اسی طرح ہبہ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیںآپ نے فرمایا : پھر مجھے گواہ نہ بناؤ ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا