عبدالملک بن عُمَیر نے مُصعب بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی تو میں نے عرض کی : کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " میں نے عرض کی : تو آدھے کی؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " میں نے عرض کی : ایک تہائی کی؟ تو آپ نے فرمایا : " ہاں ، اور تہائی بھی زیادہ ہے
(عبدالوہاب ) ثقفی نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرو بن سعید سے ، انہوں نے حُمید بن عبدالرحمان حمیری سے اور انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ( دس سے زائد میں سے ) تین بیٹوں ( عامر ، مصعب اور محمد ) سے روایت کی ، وہ سب اپنے والد سے حدیث بیان کرتے تھے کہ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کرنے کے لیے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے تو وہ رونے لگے ، آپ نے پوچھا : " تمہیں کیا بات رلا رہی ہے؟ " انہوں نے کہا : مجھے ڈر ہے کہ میں اس سرزمین میں فوت ہو جاؤں گا جہاں سے ہجرت کی تھی ، جیسے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! سعد کو شفا دے ۔ اے اللہ! سعد کو شفا دے ۔ " تین بار فرمایا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف میری بیٹی بنے گی ، کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " انہوں نے کہا : دو تہائی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ۔ " انہوں نے کہا : نصف کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ۔ " انہوں نے کہا : ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا : " ( ہاں ) ایک تہائی کی ( وصیت کر دو ) اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔ اپنے مال میں سے تمہارا صدقہ کرنا صدقہ ہے ، اپنے عیال پر تمہارا خرچ کرنا صدقہ ہے اور جو تمہارے مال سے تمہاری بیوی کھاتی ہے صدقہ ہے اور تم اپنے اہل و عیال کو ( کافی مال دے کر ) خیر کے عالم میں چھوڑ جاؤ ۔ ۔ یا فرمایا : ( اچھی ) گزران کے ساتھ چھوڑ جاؤ ۔ ۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔ " اور آپ نے اپنے ہاتھ سےاشارہ کر کے دکھایا ۔
حدیث 4216 — صحيح مسلم 25:13
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ ثَلاَثَةٍ، مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ قَالُوا مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ . بِنَحْوِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ .
ہمیں حماد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ایوب نے عمرو بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان حمیری سے اور انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے تین بیٹوں سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے ہاں تشریف لائے ۔ ۔ آگے ثقفی کی حدیث کے ہم معنی ہے
محمد نے حمید بن عبدالرحمان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے تین بیٹوں نے حدیث بیان کی ، ان میں ہر ایک مجھے اپنے دوسرے ساتھی کے مانند حدیث بیان کر رہا تھا ، کہا : حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں بیمار ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے ۔ ۔ آگے حمید حمیری سے عمرو بن سعید کی حدیث کے ہم معنی ہے
عیسیٰ بن یونس ، وکیع اور ابن نمیر سب نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : کاش لوگ تہائی سے کم کر کے چوتھائی کی وصیت کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : "" تہائی ( تک کی وصیت کرو ) ، اور تہائی بھی زیادہ ہے وکیع کی حدیث میں "" بڑا ہے "" یا "" زیادہ ہے "" کے الفاظ ہیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : میرے والد فوت ہو گئے ہیں ، انہوں نے مال چھوڑا ہے اور وصیت نہیں کی ، اگر ( یہ مال ) ان کی طرف سے صدقہ کر دیا جائے تو کیا ( یہ ) ان کی طرف سے کفارہ بنے گا؟ آپ نے فرمایا : " ہاں
یحییٰ بن سعید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ سے خبر دی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : میری والدہ اچانک وفات پا گئیں ، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ بات کرتیں تو صدقہ کرتیں ، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا میرے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں
محمد بن بشر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اللہ کے رسول! میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں اور وصیت نہیں کر سکیں ، مجھے ان کے بارے میں یقین ہے کہ اگر وہ کلام کرتیں تو ضرور صدقہ کرتیں ، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا ان کے لیے اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں
ابواسامہ ، شعیب بن اسحاق ، روح بن قاسم اور جعفر بن عون ، سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابواسامہ اور روح کی حدیث میں ہے : کیا میرے لیے اجر ہے؟ جس طرح یحییٰ بن سعید نے کہا ۔ اور شعیب اور جعفر کی حدیث میں ہے : کیا ان کے لیے اجر ہے؟ جس طرح ابن بشیر کی روایت ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے ( وہ منقطع نہیں ہوتے ) : صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے