قرآني·Qurani
اردو

صفات القيامة والجنة والنار

85 احادیث · #7045–7129

حدیث 7085 — صحيح مسلم 52:39
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ ‏.‏ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
ہشام ( دستوائی ) نے قتادہ سےروایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر تمہارے پاس زمین ( کی مقدار ) بھر سونا موجود ہوتو کیا تم ( جہنم کے عذاب سے بچنے کے لئے ) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو اس سے کہا جائے گا : تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیاگیا تھا ۔
حدیث 7086 — صحيح مسلم 52:40
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - كِلاَهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَيُقَالُ لَهُ كَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن ابی عرو بہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے ( اس طرح ) کہا؛ " تو اس سے کہاجائے گا : تم جھوٹ بولتے ہو ، تم سے تو اس سے بہت آسان ( بات کا ) مطالبہ کیاگیا تھا ۔
حدیث 7087 — صحيح مسلم 52:41
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏ "‏ أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا ‏.‏
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے)
حدیث 7088 — صحيح مسلم 52:42
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ ‏.‏ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ فَيَقُولُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤُسٌ قَطُّ وَلاَ رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ ‏"‏ ‏.‏
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اہل دوزخ میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ تر اور خوشحال تھا ، پس دوزخ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے دنیا میں کبھی آرام دیکھا تھا؟ کیا تجھ پر کبھی چین بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! اے میرے رب! کبھی نہیں اور اہل جنت میں سے ایک ایسا شخص لایا جائے گا جو دنیا میں سب لوگوں سے سخت تر تکلیف میں رہا تھا ، جنت میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! تو نے کبھی تکلیف بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر شدت اور رنج بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! مجھ پر تو کبھی تکلیف نہیں گزری اور میں نے تو کبھی شدت اور سختی نہیں دیکھی ۔
حدیث 7089 — صحيح مسلم 52:43
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا ‏"‏ ‏.‏
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا ۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے ۔ رہا کافر ، اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لئے کی ہوتی ہیں ، اسی دنیا میں کھلا ( پلا ) دیا جاتاہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے ۔
حدیث 7090 — صحيح مسلم 52:44
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی : " بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کر تا ہے ۔ تو اس کے بدلے اسے دنیاکے کھانوں ( نعمتوں ) میں سے ایک لقمہ ( نعمت کی صورت میں ) کھلادیتاہے اور مومن اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت میں کرتا جاتا ہے ۔ اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں ( بھی ) اسے رزق عطا فرماتا ہے ۔
حدیث 7091 — صحيح مسلم 52:45
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا ‏.‏
سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں ( ہمام اور سلیمان ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
حدیث 7092 — صحيح مسلم 52:46
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لاَ تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ وَلاَ يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلاَءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الأَرْزِ لاَ تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ ‏"‏ ‏.‏
۔ عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے ۔ ہوا مسلسل اس کو ( ایک یا دوسری طرف ) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں ، اور منافق کی مثال ودیوار درخت کی طرح ہے ( جس کا تناؤ ہوا میں بھی تن کرکھڑا رہتا ہے ) ۔ بلتا نہیں حتیٰ کہ ( ایک ہی بار ) اسے کاٹ کر گرادیاجاتا ہے ۔
حدیث 7093 — صحيح مسلم 52:47
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَكَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ ‏ "‏ تُفِيئُهُ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی مگر عبدالرزاق کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : " اسے جھکاتی رہتی ہے " کے بجائے " اسے موڑتی رہتی ہے " کے الفاظ ہیں ۔
حدیث 7094 — صحيح مسلم 52:48
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ وَتَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى حَتَّى تَهِيجَ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لاَ يُفِيئُهَا شَىْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏
زکریا بن ابی زائدہ نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کے باریک تیلی جیسے تنے کی ہے ۔ ہوا اسے موڑ دیتی ، ایک مرتبہ زمین پر لٹادیتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے سیدھا کریتی ہے ، یہاں تک کہ وہ پیلا ہوکر خشک ہوجاتا ہے اور کافر کی مثال ویودار درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر تن کر کھڑا ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز موڑ نہیں سکتی ، یہاں تک کہ اس کا اکھڑ کاگرنا ایک ہی بار ہوتا ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔