قرآني·Qurani
اردو

صلاة الكسوف

34 احادیث · #2089–2122

حدیث 2119 — صحيح مسلم 10:28
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ كُنْتُ أَرْتَمِي بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا فَقُلْتُ وَاللَّهِ لأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلاَةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا حُسِرَ عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے جریری سے ، انھوں نے حیان بن نمیر سے اور انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے تھے ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک د ن مدینہ میں ا پنے تیروں سے نشانے لگا رہا تھا کہ اچانک سورج کو گرہن لگ گیا ، اس پر میں نے انھیں ( تیروں کو ) پھینکا اور ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم!میں ضرور د یکھوں گا کہ سورج کے گرہن کے اس و قت میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوئی ہے ۔ کہا : میں آپ کے پاس آیا ، آپ نماز میں کھرے تھے ، دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے ، پھر آپ نے تسبیح ، حمد و ثنا لاالٰہ الا اللہ اور اللہ کی بڑائی کا ورد اور د عا مانگنی شروع کردی یہاں تک کہ سورج کا گرہن چھٹ گیا ، کہا : اور جب سورج کا گرہن چھٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی ۔
حدیث 2120 — صحيح مسلم 10:29
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ، عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى، بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا ‏.‏
سالم بن نوح نے کہا : ہمیں جریری نے حیان بن عمیر سے خبر دی اور انھوں نے عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باہر نکل کر اپنے تیروں سے نشانہ بازی کی مشق کررہا تھا کہ سورج گرہن ہوگیا ، پھر ( سالم بن نوح نے ) ان دونوں ( بشر اور عبدالاعلیٰ ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حدیث 2121 — صحيح مسلم 10:30
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا ‏"‏ ‏.‏
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر سنایا کرتے تھے ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یقیناً سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں ، جب تم انھیں ( اس طرح ) دیکھو تو نماز پڑھو ۔
حدیث 2122 — صحيح مسلم 10:31
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ - حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ قَالَ زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ - سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْكَشِفَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا ، اسی دن جب ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتاہے اور نہ کسی کی زندگی سے اس لئے جب تم ان کو ( گرہن لگا ) دیکھو تو اللہ کو پکارو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ گرہن زائل ہوجائے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔