عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی اور کہا : ہمیں اپنے ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث سنائی اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ، ان میں سے پانچ رکعتوں کے ذریعے وتر ( ادا ) کرتے تھے ، ان میں آخری رکعت کے علاوہ کسی میں بھی تشہد کے لئے نہ بیٹھتے تھے ۔ ( بعض راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول ہوتا)
عبدہ بن سلیمان ، وکیع اور ابو اسامہ سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) روایت بیان کی ہے ۔
حدیث 1722 — صحيح مسلم 6:151
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَىِ الْفَجْرِ .
عروہ بن مالک نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں سمیت تیرہ ر کعتیں پڑھا کرتے تھے ۔
سعید بن ابی سعید مقبری نے ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے ہوتی تھی؟انھوں نے جواب دیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور اس کے علاوہ ( دوسرے مہینوں ) میں ( فجر سے پہلے ) گیارہ رکعتوں سے زائد نہیں پڑھتے تھے ، چار رکعتیں پڑھتے ، ان کی خوبصورتی اور ان کی طوالت کے بارے میں مت پوچھو ، پھر چار رکعتیں پڑھتے ، ان کے حسن اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو ، پھرتین رکعتیں پڑھتے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوجاتے ہیں؟تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ!میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا ۔ " ( وہ بدستور اللہ کے ذکر میں مشغول ر ہتا ہے)
ہشام نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوا ل کیا تو انھوں نے کہا آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ، آٹھ رکعتیں پڑھتے پھر ( ایک رکعت سے ) وتر ادا فرماتے ، پھر بیٹھے ہوئے دو رکعتیں پڑھتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے ، پھر صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے ۔ ( کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد اور وتر کی ترتیب یہ بن جاتی تھی)
شیبان اور معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ نے بتایا کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکے بارے میں پوچھا ۔ ۔ ۔ آگے سابقہ حدیث کی طرح ہے ، البتہ ان دونوں کی روایت میں ہے : " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر نو رکعتیں پڑھتے تھے وتر انھی میں ادا کرتے ۔
عبداللہ بن ابی لبید سے روایت ہے کہ انھوں نے ابو سلمہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اے میری ماں!مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتایئے ۔ تو انھوں نے کہا : رمضان اور غیر رمضان میں رات کے وقت آپ کی نماز تیرہ رکعتیں تھی ، ان میں فجر کی ( سنت ) دو کعتیں بھی شامل تھیں ۔
حدیث 1727 — صحيح مسلم 6:156
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ عَشَرَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فَتِلْكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
قاسم بن محمد سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، فرمارہی تھی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دس رکعتیں تھی اور آپ ایک رکعت وتر ادا کرتے ، پھر فجر کی ( سنتیں ) دو رکعت پڑھتے ۔ اس طرح یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں ۔
ابو خثیمہ ( زہیر بن معاویہ ) نے ابو اسحاق سے خبر دی ، کہا : میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی ۔ انھوں ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصے میں سوجاتے اور آخری حصے کو زندہ کرتے ( اللہ کے سامنے قیام فرماتے ہوئے جاگتے ) پھر اگر اپنے گھر والوں سےکوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے اور سوجاتے ، پھر جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ اچھل کر کھڑے ہوجاتے ( راوی نے کہا : ) اللہ کی قسم!عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وثب کہا ، قام ( کھڑے ہوتے ) نہیں کہا ۔ پھر اپنے اوپر پانی بہاتے ، اللہ کی قسم! انھوں نے اغتسل ( نہاتے ) نہیں کہا : " اپنے اوپر پانی بہاتے " میں جانتا ہوں ان کی مراد کیا تھی ۔ ( یعنی زیادہ مقدار میں پانی بہاتے ) اور اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو جس طرح آدمی نماز کے لئے وضو کرتا ہے ، اسی طرح وضو فرماتے ، پھر دو رکعتیں ( سنت فجر ) ادا فرماتے ۔
عمار بن زریق نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ر ات کو نماز پڑھتے حتیٰ کہ ان کی نماز کا آخری حصہ وتر ہوتا ۔ ( اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی تھا)