حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
علی بن مسہر نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے ، انھوں نے علقمہ بن قیس سے اور انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی یہ آخری دو آیات پڑھیں ، وہ اس کے لئے کافی ہوں گی ۔ "" عبدالرحمان نے کہا : میں خود ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا ، وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے ، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے مجھے یہ روایت ( براہ راست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائی ۔
معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے سالم بن ابی جعد غطفانی سے ، انھوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس ( مسلمان ) نے سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کرلیں ، اسے دجال کے فتنے سے محفوظ کرلیا گیا ۔
شعبہ اور ہمام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔ اس میں شعبہ نے سورہ کہف کی آخری ( دس ) آیات کہا ہے جبکہ ہمام نے ابتدائی ( دس ) آیات کہا ہے جس طرح ہشام کی روایت ہے ۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے ابو منذر!کیا تم جانتے ہو کتاب اللہ کی کونسی آیت ، جو تمھارے پاس ہے ، سب سے عظیم ہے؟ " کہا : میں نے عرض کی : اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ نے ( دوبارہ ) فرمایا : " اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو اللہ کی کتاب کی کونسی آیت جو تمہارے پاس ہے ، سب سے عظمت والی ہے؟ " کہا : میں نے عرض کیاللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ کہا : تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اللہ کی قسم !ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو ۔
شعبہ نے قتادہ سے ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے ، انھوں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کرلے؟ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : ( کوئی شخص ) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کرسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
سعید بن ابی عروبہ اور ابان عطار نے قتادہ سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی ، ان دونوں ( سعید اور ابان ) کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء ( حصے ) کئے ہیں اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کو قرآن کے اجزاء میں سے ایک جز قرار دیاہے ۔
حدیث 1888 — صحيح مسلم 6:316
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى، - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْشِدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ . ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلاَ إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
یزید بن کیسان نے کہا : ہمیں ابو حازم نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اکھٹے ہوجاؤ!میں تمھارے سامنے ایک تہائی قرآن مجید پڑھوں گا ۔ " جنھوں نے جمع ہونا تھا وہ جمع ہوگئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کی قراءت فرمائی ، پھر گھر میں چلے گئے تو ہم میں سے ایک سے دوسرے نے کہا : مجھے لگتاہے آپ کے پاس شاید آسمان سے کوئی اہم خبرآئی ہے ۔ جو آپ کو اندر لے گئی ہے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( دوبارہ ) باہر تشریف لائے اور فرمایا : " میں نے تم سے کہا تھا نا کہ میں تمھیں تہائی قرآن سناؤں گا ، جان لو یہ کہ ( سورت ) قرآن کے تیسرے حصے کے برابر ہے ۔
ابواسماعیل بشیر نے ابو حازم سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : " میں تمھارے سامنے تہائی قرآن کی قراءت کرتا ہوں ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿ اللَّهُ الصَّمَدُ پڑھا یہاں تک کہ اسے ( سورت ) کو ختم کردیا ۔