قرآني·Qurani
اردو

صلاة المسافرين

381 احادیث · #1570–1950

حدیث 1920 — صحيح مسلم 6:348
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ‏.‏
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ۔ اور صبح کے بعد سورج طلوع ہو نے تک نماز سے منع فر ما یا ۔
حدیث 1921 — صحيح مسلم 6:349
وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، - قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، - أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ، وَاحِدٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَىَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ‏.‏
منصور نے قتادہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ہمیں ابو عالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ہے ۔
حدیث 1922 — صحيح مسلم 6:350
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ، الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ، بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ ‏.‏
شعبہ سعید اور معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہ روا یت بیان کی ، البتہ سعید اور ہشام کی حدیث میں ( نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک کے بجا ئے ) " صبح کے بعد سورج چمکنے تک " کے الفاظ ہیں ۔
حدیث 1923 — صحيح مسلم 6:351
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ۔
حدیث 1924 — صحيح مسلم 6:352
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلاَ عِنْدَ غُرُوبِهَا ‏"‏ ‏.‏
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ( جان بوجھ کر ) طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت کا قصد کرکے ان اوقات میں نماز نہ پڑھے ۔
حدیث 1925 — صحيح مسلم 6:353
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحَرَّوْا بِصَلاَتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَىْ شَيْطَانٍ ‏"‏ ‏.‏
ہشام کے والد عروہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنی نماز کے لئے جان بوجھ کر نہ سورج کے طلوع ہونے کا قصد کرو اور نہ اس کے غروب ہونے کا کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے ساتھ طلوع ہوتا ہے ۔
حدیث 1926 — صحيح مسلم 6:354
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ، بِشْرٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَغِيبَ ‏"‏ ‏.‏
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب سورج کا کنارہ نمودار ہوجائے تو نماز موخر کردو حتیٰ کہ وہ ( سورج ) نکل آئے ( بلند ہوجائے ) اور جب سورج کا کنارہ غروب ہوجائے تو نماز موخر کردو حتیٰ کہ وہ ( سورج ) پوری طرح غائب ہوجائے ۔
حدیث 1927 — صحيح مسلم 6:355
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلاَ صَلاَةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ ‏"‏ ‏.‏ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ ‏.‏
لیث نے خیر بن نعیم حضرمی سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سے ، انھوں نے ابو تمیم جیشانی سے اور انھوں نے ابو بصرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غفاری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخمص نامی جگہ میں عصر کی نماز پڑھائی اور فرمایا " یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کو دی گئی ( ان پر فرض کی گئی ) تو انھوں نے اسے ضائع کردیا ، اس لئے جو بھی اس کی حفاظت کرے گا اسے اس کا دوگنا اجر ملے گا اور ا س کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ ( اس کا ) شاہد طلوع ہوجائے ۔ " شاہد ( سے مراد ) ستارہ ہے ۔
حدیث 1928 — صحيح مسلم 6:356
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ، - وَكَانَ ثِقَةً - عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
یزید بن ابی حبیب نے خیر بن نعیم حضرمی سے ، انھوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سبائی سے ۔ ۔ ۔ اور وہ ثقہ تھے ۔ انھوں نے ابو تمیم جیشانی سے اور انھوں نے ابو بصرہ غفار ی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ۔ ۔ ۔ آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے ۔
حدیث 1929 — صحيح مسلم 6:357
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ ثَلاَثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ ‏.‏
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ تین ا وقات ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں : جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا ( سایہ ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج ( آگے کو ) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ ( پوری طرح ) غروب ہوجائے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔