امام مالک نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سردی اور ہوا والی ایک رات اذان کہی اور اس کے آخر میں کہا : ( أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ) سنو! ( اپنے ) ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ۔ " پھر کہا کہ جب رات سرد اور بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو حکم دیتے کہ وہ کہے ( أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ) سنو! ( اپنے ) ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۔
(محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے سردی ، ہوا اور بارش و الی ایک رات میں اذان دی اور اذان کے آخر میں کہا : " سنو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ، سنو! ٹھکانوں میں نماز پڑھو ، " پھر کہا : جب سفر میں رات سرد یا بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موذن کو یہ کہنے کا حکم دیتے " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِکُم ) " سنو!اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو ۔
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ انھوں نے ( مکہ سے چھ میل کے فاصلے پر واقع ) بضَجنانَ پہاڑ پر اذان کہی ۔ ۔ ۔ پھر اوپر والی حدیث کے مانند بیان کیا اور ( ابو اسامہ نے ) کہا : " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِکُم " اور انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوبارہ " أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " کہنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو بارش ہوگئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، " تم میں سے جو چاہے اپنی قیام گاہ میں نماز پڑھ لے ۔
اسماعیل ( ابن علیہ ) نے ( ابن ابی سفیان ) الزیادی کے ساتھی عبدالحمید سے ، انھوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے ایک بارش والے دن اپنے موذن سے فرمایا : جب تم اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمد ا رسول الله کہہ چکو تو حيي علي الصلوة نہ کہنا ( بلکہ ) صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ ( اپنے گھروں میں نماز پڑھو ) کہنا ۔ کہا : لوگوں نے گویا اس کو ایک غیر معروف کام سمجھا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیاتم اس پر تعجب کررہے ہو؟ یہ کام انھوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہترتھے ۔ جمعہ پڑھنالازم ہے اور مجھے برا معلوم ہوا کہ میں تمھیں تنگی میں مبتلا کروں اور تم کیچڑاور پھسلن میں چل کر آؤ ۔
ابو کامل جحدری نے کہا : ہمیں حماد ، یعنی ابن زید نے عبدالحمید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک پھسلن والے دن ہمارے سامنے خطبہ دیا ۔ ۔ ۔ آگے ابن علیہ کی حدیث کےہم معنی روایت بیان کی ، لیکن جمعے کا نام نہیں لیا ، اور کہا : یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر تھے ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ کام کیا ہے ) ابو کامل نے کہا : حماد نے ہم سے یہ حدیث ( عبدالحمید کی بجائے ) عاصم سے ، انھوں نے عبداللہ بن حارث سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
حدیث 1606 — صحيح مسلم 6:37
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، - هُوَ الزَّهْرَانِيُّ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَعَاصِمٌ الأَحْوَلُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
ابو ربیع عتکی زہرانی نے کہا : ہمیں حماد یعنی ابن زید نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ایوب اور عاصم احول نے اس سند کےساتھ حدیث سنائی ، البتہ انھوں ( ابو ربیع ) نے اپنی حدیث میں یعنی النبي صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
شعبہ نے کہا : ہمیں عبدالحمید صاحب الزیادی نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا ، انھوں نے کہا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موذن نے جمعے کے روز بارش والے دن اذان دی ۔ ۔ ۔ پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، اورکہا : میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ تم پھسلن میں چل کرآؤ ۔
شعبہ اور معمر دونوں نے ( اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے ) عاصم احول سے اور انھوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے موذن کو حکم دیا ۔ معمر کی روایت میں ہے : جمعے کے روز بارش کے دن ۔ ۔ ۔ ( آگے ) سابقہ راویوں کی روایت کی طرح ہے ۔ اور معمر کی حدیث میں یہ بھی ہے : یہ کام انھوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر ہیں ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
وہیب نے کہا : ہمیں ایوب نے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی ۔ وہیب نے کہا : ایوب نے یہ حدیث عبداللہ بن حارث سے نہیں سنی ۔ ( جبکہ ابن حجر ؒ کی تحقیق ہ کہ وہیب کہ بات درست نہیں بلکہ ایوب نے یہ حدیث سنی ہے ) انھوں نے کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمعے کے روز بارش کے دن اپنے موذن کو حکم دیا ۔ ۔ ۔ ( آگے اسی طرح ہے ) جس طرح دوسرے راویوں نے بیان کیا ۔