وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ عَنْ يَسَارِي قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ .
ابو عوانہ نے ( اسماعیل بن عبدالرحمان ) سدی سے روایت کہ ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : جب میں نماز پڑھ لوں تو اپنارخ کیسے موڑوں ، اپنی دائیں طرف یا اپنی بائیں طرف سے؟انھوں نے کہا : میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ تردائیں طرف سے رخ پھیرتے دیکھا ہے ۔
حدیث 1641 — صحيح مسلم 6:72
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ .
سفیان بن عینیہ نے سدی سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سے رخ پھیراکرتے تھے ۔
ا بن ابی زائدہ نے مسعر سے ، انھوں نے ثابت بن عبید سے انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ( عبید ) سے اور انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو پسند کرتے تھے کہ ہم آپ کی دائیں طرف ہوں ، آپ ہماری طرف رخ فرمائیں ۔ ( براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے ( ایسے ہی ایک موقع پر ) آپ کو یہ فرماتے ہوئےسنا : " اے میرےرب ! تو جب اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا ۔
شعبہ نے ورقاء سے انھوں نے عمرو بن دینار سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، " جب نماز کے لئے اقامت ہوجائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ۔
روح نے کہا : ہمیں زکریا بن اسحاق نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا ، ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے عطاء بن یسار سے سنا وہ کہہ رہے تھے : حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی ۔
(روح کی بجائے ) عبدالرزاق نے خبر دی کہ ہمیں زکریا بن اسحاق نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی ۔
حدیث 1648 — صحيح مسلم #1648
حماد بن زید نے ایوب سے روایت کی ، انھوں نے عمرو بن دینار سے انھوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند روایت کی ۔ حماد نے کہا : پھر میں ( براہ راست ) عمرو ( بن دینار ) سے ملا تو انھوں نے مجھے یہ حدیث سنائی لیکن انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا ۔ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول روایت کیا)
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث سنائی ۔ انھوں نے حفص بن عاصم سے اور ا نھوں نے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہاتھا جب صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی جاچکی تھی آپ نے کسی چیز کے بارے میں اس سے گفتگو فرمائی ہم نہ جان سکے کہ وہ کیا تھی جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اسے گھیرلیا ہم پوچھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟اس نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" لگتا ہے کہ تم میں سے کوئی صبح کی چار رکعات پڑھنے لگے گا ۔ "" قعنبی نے کہا : عبداللہ بن مالک ابن بحینہ نے رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ۔ ابو الحسین مسلم ؒ ( مولف کتاب ) نے کہا : قعنبی کا اس حدیث میں "" عَنْ أَبِيهِ "" ( والد سے روایت کی ) کہنا درست نہیں ۔ ( عبداللہ کے والد صحابی مالک صحابی تو ہیں لیکن ان سے کوئی حدیث مروی نہیں)