حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا ، کہا : جس وقت ہم غار میں تھے ، میں نے اپنے سرو ں کی جانب ( غار کے اوپر ) مشرکین کے قدم دیکھے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے پیروں کی طرف نظر کی تووہ نیچے ہمیں دیکھ لے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابو بکر!تمھارا ان دو کے بارے میں کیا گیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے؟ " ( انھیں کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا ۔)
حدیث 6170 — صحيح مسلم 44:2
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي، النَّضْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ " عَبْدٌ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ زَهْرَةَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ " . فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَبَكَى فَقَالَ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا . قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ الْمُخَيَّرُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَىَّ فِي مَالِهِ وَصُحْبَتِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلاً وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِسْلاَمِ لاَ تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلاَّ خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ " .
امام مالک نے ابو نضر سے ، انھوں نے عبید بن حنین سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا : " کہ اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ چاہے دنیا کی دولت لے اور چاہے اللہ تعالیٰ کے پاس رہنا اختیار کرے ، پھر اس نے اللہ کے پاس رہنا اختیار کیا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ روئے ( سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہے ) اور بہت روئے ۔ پھر کہا کہ ہمارے باپ دادا ہماری مائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ( پھر معلوم ہوا ) کہ اس بندے سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب لوگوں سے زیادہ مجھ پر ابوبکر کا احسان ہے مال کا بھی اور صحبت کا بھی اور اگر میں کسی کو ( اللہ تعالیٰ کے سوا ) دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا ۔ ( اب خلّت تو نہیں ہے ) لیکن اسلام کی اخوت ( برادری ) ہے ۔ مسجد میں کسی کی کھڑکی نہ رہے ( سب بند کر دی جائیں ) لیکن ابوبکر کے گھر کی کھڑکی قائم رکھو ۔
حدیث 6171 — صحيح مسلم 44:3
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ، بْنِ حُنَيْنٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ يَوْمًا . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
سالم نےابو نضر سے ، انھوں نے عبید بن حنین اور بسر بن سعید سے ، انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا ، ( اس کے بعد ) مالک کی حدیث کی مانند ہے ۔
اسماعیل بن رجاء نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی ہذیل کو ابواحوص سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کررہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں کسی شخص کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا لیکن وہ میرے ( دینی ) بھائی اور ساتھی ہیں اور تمھارے ساتھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اللہ عزوجل نےاپنا خلیل بنایا ہے ۔
شعبہ نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے ابو احوص سے ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا ۔
سفیان نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے ابو احوص سے ، انھوں نے عبداللہ سے روایت کی ، ابو عمیس نے ابن ابی ملیکہ سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں کسی کو خلیل بناتاتو ابوقحافہ کے فرزند ( ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو خلیل بناتا ۔
واصل بن حیان نے عبداللہ بن ابی ہذیل سے ، انھوں نے ابو احوص سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں زمین پر رہنے والوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو قحافہ کے بیٹے کو خلیل بناتا ، لیکن تمہارے صاحب ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے خلیل ہیں ۔
عبداللہ بن مرہ نے ابو احوص سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سن رکھو!میں ہر خلیل کی رازدارانہ دوستی سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا ۔ تمھارا صاحب ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کا خلیل ہے ۔
عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے ان کو ذات السلاسل کے لشکر کے ساتھ بھیجا ( ذات السلاسل نواحی شام میں ایک پانی کا نام ہے وہاں کی لڑائی جمادی الاخری۸ھ میں ہوئی ) ۔ وہ آئے آپ کے پاس انہوں نے کہا یا رسول اﷲؐ! سب لوگوں میں آپ کو کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپ نے فرمایا عائشہ صدیقہؓ سے ۔ انہوں نے کہا مرودں میں کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ان کے باپ سے ۔ انہوں نے کہا پھر ان کے بعد کس سے؟ آپؐ نے فرمایا عمرؓ سے یہاں تک کہ آپ نے کئی آدمیوں کا ذکر کیا ۔
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، ان سے پوچھا گیا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ کرتے تو کس کو کرتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( خلیفہ ) بناتے ۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کس کو ( خلیفہ ) بناتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ( خلیفہ ) بناتے ۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کس کو ( خلیفہ ) بناتے؟ انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح کو ۔ پھر خاموش ہو رہیں ۔