قرآني·Qurani
اردو

فضائل الصحابة

331 احادیث · #6169–6499

حدیث 6279 — صحيح مسلم 44:109
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ إِلَى قِصَّةِ الشَّاةِ وَلَمْ يَذْكُرِ الزِّيَادَةَ بَعْدَهَا ‏.‏
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ بکری ( ذبح کرنے ) کے قصے تک ابو اسامہ کی حدیث کی طرح حدیث بیا ن کی ۔ اس کے بعد کے زائد الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حدیث 6280 — صحيح مسلم 44:110
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا غِرْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ لِكَثْرَةِ ذِكْرِهِ إِيَّاهَا وَمَا رَأَيْتُهَا قَطُّ ‏.‏
زہری نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ، آپ کی کسی بیوی پر ایسا رشک نہیں ہوا جیسا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر ہوا ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ ان کو بہت کثرت سے یاد کرتے تھے ، حالانکہ میں نے انھیں کبھی دیکھا تک نہ تھا ۔
حدیث 6281 — صحيح مسلم 44:111
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمْ يَتَزَوَّجِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خَدِيجَةَ حَتَّى مَاتَتْ ‏.‏
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات تک اور شادی نہیں کی ۔
حدیث 6282 — صحيح مسلم 44:112
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاحَ لِذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ‏"‏ ‏.‏ فَغِرْتُ فَقُلْتُ وَمَا تَذْكُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ فَأَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا ‏.‏
علی بن مسہر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : کہ خدیحہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا کہ یا اللہ! ہالہ بنت خویلد ۔ مجھے رشک آیا تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا قریش کی بوڑھیوں میں سے سرخ مسوڑھوں والی ایک بڑھیا کو یاد کرتے ہیں ( یعنی انتہا کی بڑھیا جس کے ایک دانت بھی نہ رہا ہو نری سرخی ہی سرخی ہو ، دانت کی سفیدی بالکل نہ ہو ) جو مدت گزری فوت ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بہتر عورت دی ( جوان باکرہ جیسے میں ہوں ) ۔
حدیث 6283 — صحيح مسلم 44:113
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي الرَّبِيعِ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلاَثَ لَيَالٍ جَاءَنِي بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ ‏.‏ فَأَكْشِفُ عَنْ وَجْهِكِ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ‏"‏ ‏.‏
حماد نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " تم مجھے تین راتوں تک خواب میں دکھائی دیتی رہی ہو ، ایک فرشتہ ریشم کے ایک ٹکڑے پر تمھیں ( تمھاری تصویر کو ) لے کر میرے پاس آیا ۔ وہ کہتا : یہ تمھاری بیوی ہے ، میں تمھارے چہرے سے کپڑا ہٹاتا تو وہ تم ہوتیں ، میں کہتا : یہ ( پیشکش ) اگر اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کردے گا ۔
حدیث 6284 — صحيح مسلم 44:114
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
ابن ادریس اور ابو اسامہ نے ہشام سے ، اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث 6285 — صحيح مسلم 44:115
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَىَّ غَضْبَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَالَ ‏"‏ أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لاَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى قُلْتِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلاَّ اسْمَكَ ‏.‏
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جان لیتا ہوں جب تو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو خوش ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم ، اور جب ناراض ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ نہیں قسم ہے ابراہیم ( علیہ السلام ) کے رب کی ۔ میں نے عرض کیا کہ بیشک اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے سوا اور کسی بات کو ترک ن ہیں کرتی ( محبت ، اطاعت ، توجہ ہر لمحہ آپ ہی کی طرف رہتی ہے)
حدیث 6286 — صحيح مسلم 44:116
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ‏.‏
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان؛ " نہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! " تک روایت کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حدیث 6287 — صحيح مسلم 44:117
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ وَكَانَتْ تَأْتِينِي صَوَاحِبِي فَكُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَرِّبُهُنَّ إِلَىَّ ‏.‏
عبدالعزیز بن محمد نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھیں ، کہا : اور میری سہیلیاں میرے پاس آتی تھیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( آمد کی ) وجہ سے ( گھر کے کسی کونے میں ) چھپ جاتی تھیں ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ( بلا کر ) میری طرف بھیج دیتے تھے ۔
حدیث 6288 — صحيح مسلم 44:118
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فِي بَيْتِهِ وَهُنَّ اللُّعَبُ ‏.‏
ابو اسامہ ، جریر اور محمد بن بشر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور جریر کی حدیث میں کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی اور وہ ( ہمارے ) کھلونے ہوتی تھیں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔