محمد بن عمرو بن حلحلہ دؤلی نے کہا : ابن شہاب نے انھیں حدیث بیان کی ، انھیں علی بن حسین ( زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے حدیث بیان کی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ یزید بن معاویہ کے ہاں سے مدینہ منورہ آئے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے ملے اور کہا : آپ کو مجھ سے کو ئی بھی کا م ہو تو مجھے حکم کیجیے ۔ ( حضرت علی بن حسین نے ) کہا : میں نے ان سے کہا : نہیں ( کو ئی کا م نہیں ) حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار ( حفاظت کے لیے ) مجھے عطا کریں گے ، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ لو گ اس ( تلوار ) کے معاملے میں آپ پرغالب آنے کی کو شش کریں گے اور اللہ کی قسم !اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو کو ئی اس تک نہیں پہنچ سکے گا یہاں تک کہ میری جا ن اپنی منزل پر پہنچ جا ئے ۔ ( مجھے یا د ہے کہ ) جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہو تے ہو ئے ابوجہل کی بیٹی کو نکا ح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبرپر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور میں ان دنوں بلوغت کو پہنچ چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فاطمہ مجھ سے ہے ( میرے جسم کا ٹکڑا ہے ) اور مجھے اندیشہ ہے کہ اسے دین کے معاملے میں آزمائش میں ڈالا جا ئے گا ۔ کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس میں سے اپنے داماد ( حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا ذکر فر ما یا اور اس کی اپنے ساتھ اس قرابت داری کی تعریف فرمائی اور اچھی طرح تعریف فر ما ئی ۔ آپ نے فر ما یا : " اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچ کہا ۔ میرے ساتھ وعدہ کیا تو پورا کیااور میں کسی حلال کا م کو حرام قرار نہیں دیتا اور کسی حرام کو حلال نہیں کرتا اور لیکن اللہ کی قسم!اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ ( ایک خاوندکے نکا ح میں ) اکٹھی نہیں ہو ں گی ۔
شعیب نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے علی بن حسین ( زین العابدین ) نے خبر دی کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کے لیے نکا ح کا پیغام دیا : جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے پاس ( نکاح میں ) تھیں تو جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بات سنی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ سے کہا : آپ کی قوم ( بنو ہاشم ) کے لو گ یہ کہتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا اور یہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو ابو جہل کی بیٹی سے نکا ح کرنے والے ہیں ۔ حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہو ئے جب آپ نے شہادت کے الفاظ ادا کیے تو میں نے سنا ، پھر آپ نے فر ما یا : " اس کے بعد!میں نے ابو العاص بن ربیع کو رشتہ دیا تو اس نے میرے ساتھ بات کی تو سچی بات کی ، بے شک فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میری جان کا ایک حصہ ہے ۔ مجھے یہ بہت برا لگتا ہے کہ لو گ اسے آزمائش میں ڈالیں ۔ اور بات یہ ہے کہ اللہ کی قسم!اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکا ح میں اکٹھی نہیں ہو ں گی ۔ " ( حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکا ح کا ارادہ ترک کر دیا ۔
عروہ بن زبیر نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلا یا اور ان کو راز داری سے ( سر گوشی کرتے ہو ئے ) کو ئی بات کہی تو حضرت فاطمہ روپڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو رازداری سے کو ئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : یہ کیا بات تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو راز داری سے کہی اور آپ روپڑیں ، پھر دوبارہ رازداری سے بات کی تو ہنس دیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کا ن میں بات کی اور اپنی موت کی خبر دی تو میں روپڑی ، پھر دوسری بار میرے کان میں بات کی اور مجھے بتا یا کہ ان کے گھر والوں میں سے پہلی میں ہو ں گی جو ان سے جا ملوں گی تو میں ہنس دی ۔
حدیث 6313 — صحيح مسلم 44:143
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهُ لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا فَقَالَ " مَرْحَبًا بِابْنَتِي " . ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ . فَقُلْتُ لَهَا خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهَا مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ مَا كُنْتُ أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِرَّهُ . قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِي مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَمَّا الآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الأُولَى فَأَخْبَرَنِي " أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الآنَ مَرَّتَيْنِ وَإِنِّي لاَ أُرَى الأَجَلَ إِلاَّ قَدِ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ " . قَالَتْ فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ فَقَالَ " يَا فَاطِمَةُ أَمَا تَرْضَىْ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ " . قَالَتْ فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ .
ابو عوانہ نے فراس سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج آپ کے پاس موجود تھیں ، ان میں سے کو ئی ( وہاں سے ) غیر حاضر نہیں ہوئی تھی ، اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا چلتی ہو ئی آئیں ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے ذرہ برابر مختلف نہ تھی ۔ جب آپ نے انھیں دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا اور فر ما یا : " میری بیٹی کو خوش آمدید ! " پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا یا ، پھر رازی داری سے ان کے ساتھ بات کی تو وہ شدت سے رونے لگیں ۔ جب آپ نے ان کی شدید نے قراری دیکھی تو آپ نے دوبارہ ان کے کا ن میں کو ئی بات کہی تو ہنس پڑیں ۔ ( بعد میں ) میں نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ سے راز داری کی بات کی ، آپ روئیں ( کیوں ؟ ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس جگہ سے ) تشریف لے گئے تو میں نے ان سے پو چھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا کہا : ؟ انھوں نے کہا : میں ایسی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کردوں ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو میں نے ان سے کہا : میرا آپ پر جو حق ہے میں اس کی بنا پر اصرار کرتی ہوں ( اور یہ اصرار جاری رہے گا ) الایہ کہ آپ مجھے بتا ئیں کہ آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا تھا؟انھوں نےکہا : اب ( اگر آپ پوچھتی ہیں ) تو ہاں ، پہلی بار جب آپ نے سرگوشی کی تو مجھے بتایا : " جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ قرآن کادور کیا کرتے تھے اور ابھی انھوں نے ایک ساتھ دوبارہ دور کیا ہے اور مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ اجل ( مقررہ وقت ) قریب آگیا ہے ، اس لئے تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے صبرکرنا ، میں تمھارے لیے بہترین پیش رو ہوں گا ۔ " ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : اس پر میں اس طرح روئی جیسا آپ نے دیکھا ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شدید بے قراری دیکھی تو دوسری بار میرے کان میں بات کی اور فرمایا : " فاطمہ!کیا تم اس پرراضی نہیں ہوکہ تم ایماندار عورتوں کی سردار بنو یا ( فرمایا : ) اس امت کی عورتوں کی سردار بنو؟ " کہا : تو اس پر میں اس طرح سے ہنس پڑی جیسے آپ نے دیکھا ۔
حدیث 6314 — صحيح مسلم 44:144
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَرْحَبًا بِابْنَتِي " . فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَاطِمَةُ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ أَيْضًا فَقُلْتُ لَهَا مَا يُبْكِيكِ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ . فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ثُمَّ تَبْكِينَ وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ إِنَّهُ كَانَ حَدَّثَنِي " أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ وَلاَ أُرَانِي إِلاَّ قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ " . فَبَكَيْتُ لِذَلِكِ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي فَقَالَ " أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ " . فَضَحِكْتُ لِذَلِكِ .
زکریا نے فراس سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں ) ، کوئی بیوی ایسی نہ تھیں جو پاس نہ ہو کہ اتنے میں سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ بالکل اسی طرح چلتی تھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو مرحبا کہا اور فرمایا کہ مرحبا میری بیٹی ۔ پھر ان کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں آہستہ سے کچھ فرمایا تو وہ بہت روئیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ حال دیکھا تو دوبارہ ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنسیں ۔ میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص تم سے راز کی باتیں کیں ، پھر تم روتی ہو ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں ہوں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان کو قسم دی اس حق کی جو میرا ان پر تھا اور کہا کہ مجھ سے بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا ، تو انہوں نے کہا کہ اب البتہ میں بیان کروں گی ۔ پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں یہ فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال ایک بار یا دو بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دوبار دور کیا ، اور میں خیال کرتا ہوں کہ میرا ( دنیا سے جانے کا ) وقت قریب آ گیا ہے ، پس اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر ، میں تیرا بہت اچھا منتظر ہوں ۔ یہ سن کر میں رونے لگی جیسے تم نے دیکھا تھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا رونا دیکھا تو دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا کہ اے فاطمہ! تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟ یہ سن کر میں ہنسی جیسے کہ تم نے دیکھا تھا ۔
معتمر بن سلیمان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا : ہمیں ابو عثمان نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ اگر ہو سکے تو سب سے پہلے بازار میں مت جا اور نہ سب کے بعد وہاں سے نکل ، کیونکہ بازار شیطان کا میدان جنگ ہے اور وہیں وہ اپنا جھنڈا گاڑتا ہے ۔ ( ابو عثمان نہدی نے ) کہا : اور مجھے خبر دی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگے ، پھر کھڑے ہوئے ( یعنی چلے گئے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ کون شخص تھے؟ انہوں نے کہا کہ دحیہ کلبی تھے ۔ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم تو انہیں دحیہ کلبی ہی سمجھے ، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری خبر بیان کرتے تھے ۔ میں ( راوی حدیث ) نے کہا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ۔
عائشہ بنت طلحہ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم میں سب سے جلدی میرے ساتھ آملنے والی ( میری وہ اہلیہ ہوگی جو ) تم میں سب سے لمبے ہاتھوں والی ہے ۔ "" انھوں نے کہا : ہم لمبائی ناپا کرتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں ۔ انھوں نے کہا : اصل میں زینب ہم سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی تھیں کیونکہ وہ ا پنے ہاتھوں سے کام کرتیں اور ( اس کی اجرت ) صدقہ کرتی تھیں ۔
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، میں بھی آ پ کے ساتھ گیا ، انھوں نے آپ کے ہاتھ میں ایک برتن دیا جس میں مشروب تھا ۔ کہا : تو مجھے معلوم انھوں نے اچانک روزے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وہ مشروب ) پکڑا دیا تھا یا آپ اسے پینا نہیں چاہتے تھے ، ( آپ نے پینے میں تردد فرمایا ) تو وہ آپ کے سامنے زور زور سے بولنے اور غصے کا اظہار کرنے لگیں ( جس طرح ایک ماں کرتی ہے ۔)
حدیث 6318 — صحيح مسلم 44:148
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلاَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعُمَرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزُورُهَا . فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالاَ لَهَا مَا يُبْكِيكِ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَتْ مَا أَبْكِي أَنْ لاَ أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْىَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ . فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلاَ يَبْكِيَانِ مَعَهَا .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لئے چلو ہم اس سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے ۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔ دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو سامان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہتر ہے ۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لئے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا ۔ ام ایمن کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔