قرآني·Qurani
اردو

فضائل الصحابة

331 احادیث · #6169–6499

حدیث 6329 — صحيح مسلم 44:159
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ، قَالَ شَهِدْتُ أَبَا مُوسَى وَأَبَا مَسْعُودٍ حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَتُرَاهُ تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ فَقَالَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنْ كَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا ‏.‏
ابو اسحٰق سے روایت ہے انھوں نے کہا : میں نے ابو حوص سے سنا ، انھوں نے کہا : جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا میں نے اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں حاضری دی تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے پو چھا : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کو ئی ایسا شخص چھوڑ گئے ہیں جو ان جیسا ہو ؟انھوں نے جواب دیا : جب آپ نے یہ بات کہہ دی تو حقیقت یہ ہے کہ انھیں اس وقت ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضری کی اجا زت ہو تی تھی ، جب ہمیں روک لیا جا تاتھا ، اور وہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھےجب ہم مو جو دنہ ہو تے تھے ۔
حدیث 6330 — صحيح مسلم 44:160
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ كُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَى مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ كَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا ‏.‏
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے ، انھوں نے مالک بن حارث سے ، انھوں نے ابو احوص سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند ساتھیوں ( شاگردوں ) کے ہمراہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں تھے ۔ وہ سب ایک مصحف ( قرآن مجید کا نسخہ ) دیکھ رہے تھے ، اس اثناءمیں حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے ، جو ( ابھی ) اٹھا ہے ، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ نے یہ کہا ہے تو ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ) یہ اس وقت حاضر ر ہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اورا نھیں ( اس وقت بھی ) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی ۔
حدیث 6331 — صحيح مسلم 44:161
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - هُوَ ابْنُ مُوسَى - عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا مُوسَى فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّهِ وَأَبَا مُوسَى ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ وَأَبِي مُوسَى وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ قُطْبَةَ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ ‏.‏
ابو عبیدہ نے اعمش سے ، انھوں نے زید بن وہب سے روایت کی ، کہا : میں حضرت حذیفہ اورابو موسیٰ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اور ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ قطبہ کی حدیث مکمل اور زیادہ ہے ۔
حدیث 6332 — صحيح مسلم 44:162
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ ‏{‏ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‏}‏ ثُمَّ قَالَ عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي أَنْ أَقْرَأَ فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ شَقِيقٌ فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلاَ يَعِيبُهُ ‏.‏
شقیق نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے پڑھا : "" ”اور جو کوئی چیز چھپا رکھے گا ، وہ اس کو قیامت کے دن لائے گا“ ( سورۃ : آل عمران : 161 ) پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرآت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا ۔ شفیق نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں ، میں نے کسی کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا ۔
حدیث 6333 — صحيح مسلم 44:163
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ سُورَةٌ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي تَبْلُغُهُ الإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ ‏.‏
مسروق نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے سواکوئی معبود نہیں!کتاب اللہ کی کوئی صورت نہیں مگر میں اسکے متعلق جانتاہوں کہ وہ کب نازل ہوئی ، اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نہیں مگر مجھے علم ہے کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی ، اور اگر مجھے یہ معلوم ہوکہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والاہے ۔ اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہیں تو میں ( اونٹوں پر سفر کرکے ) اس کے پاس جاؤں ( اور قرآن کا علم حاصل کروں ۔)
حدیث 6334 — صحيح مسلم 44:164
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ - وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عِنْدَهُ - فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلاً لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ - فَبَدَأَ بِهِ - وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ‏"‏ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ ( علمی ) گفتگو کیاکرتے تھے ۔ اور ابن نمیر نے کہا : ان کے پاس ( گفتگو کیا کرتے تھے ) چنانچہ ایک دن ہم نے ( ان کے سامنے ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نےکہا : تم نے مجھ سے اس شخص کا ذکر کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سننے کے بعد سے مسلسل اس سے محبت کرتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قرآن چار آدمیوں سے سیکھو : ابن ام عبد ( حضرت ابن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ۔ آپ نے ابتداء ان سے کی ۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابن ابی کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےآزاد کردہ غلام سالم سے ۔
حدیث 6335 — صحيح مسلم 44:165
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرْنَا حَدِيثًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ - فَبَدَأَ بِهِ - وَمِنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَمِنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَمِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏ وَحَرْفٌ لَمْ يَذْكُرْهُ زُهَيْرٌ قَوْلُهُ يَقُولُهُ ‏.‏
قتیبہ بن سعید ، زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو وائل ( شقیق ) سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، مسروق کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس تھے کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جس سے میں ( اس وقت سے ) محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے ۔ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تم قرآن چار آدمیوں سے سیکھو ۔ ایک ام عبد کے بیٹے ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود ) سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی سے شروع کیا اور ابی بن کعب سے اور سالم مولیٰ ابوحذیفہ سے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے ۔ اور زہیر بن حرب نے ( حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے ) جو ایک لفظ بیان نہیں کیا وہ ہے : جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔
حدیث 6336 — صحيح مسلم 44:166
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَوَكِيعٍ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَدَّمَ مُعَاذًا قَبْلَ أُبَىٍّ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ أُبَىٌّ قَبْلَ مُعَاذٍ ‏.‏
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے جریر اور وکیع کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابو معاویہ سے ابو بکر کی روایت میں انھوں نے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقدم رکھا اورابو کریب کی روایت میں ابی ( بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے ہیں ۔
حدیث 6337 — صحيح مسلم 44:167
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ، خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِمْ وَاخْتَلَفَا عَنْ شُعْبَةَ، فِي تَنْسِيقِ الأَرْبَعَةِ ‏.‏
ابن ابی عدی اور محمد بن جعفر دونوں نے شعبہ سے ، انھوں نے اعمش سے انھی کی سندکے ساتھ روایت کی ، شعبہ سے روایت کرتے ہوئے ان دونوں نے چاروں کی ترتیب میں اختلاف کیا ہے ۔
حدیث 6338 — صحيح مسلم 44:168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ ذَكَرُوا ابْنَ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ ذَاكَ رَجُلٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‏"‏ ‏.‏
ابراہیم نے مسروق سے روایت کی ، کہا : لوگوں نےحضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا : وہ ایسے ہیں جن سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( ایک بات ) سننے کے بعد سے مسلسل محبت کرتا آیا ہوں ، آپ نے فرمایا تھا؛ " چارآدمیوں سے قرآن پڑھنا سیکھو : ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔