قرآني·Qurani
اردو

فضائل الصحابة

331 احادیث · #6169–6499

حدیث 6359 — صحيح مسلم 44:189
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلاَ جِمَاعَ لَكَ فِيمَا بَعْدُ ‏.‏ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ فَجَعَلَ يَبْكِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْكَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا أُنَيْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا - قَالَ - وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثِ سِنِينَ ‏.‏ قُلْتُ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ ‏.‏ قُلْتُ فَأَيْنَ تَوَجَّهُ قَالَ أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ ‏.‏ فَقَالَ أُنَيْسٌ إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي ‏.‏ فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَرَاثَ عَلَىَّ ثُمَّ جَاءَ فَقُلْتُ مَا صَنَعْتَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلاً بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ ‏.‏ قُلْتُ فَمَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ يَقُولُونَ شَاعِرٌ كَاهِنٌ سَاحِرٌ ‏.‏ وَكَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَاءِ ‏.‏ قَالَ أُنَيْسٌ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ فَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَقَالَ الصَّابِئَ ‏.‏ فَمَالَ عَلَىَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَىَّ - قَالَ - فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ - قَالَ - فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا وَلَقَدْ لَبِثْتُ يَا ابْنَ أَخِي ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلاَّ مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ - قَالَ - فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَةَ - قَالَ - فَأَتَتَا عَلَىَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الأُخْرَى - قَالَ - فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا - قَالَ - فَأَتَتَا عَلَىَّ فَقُلْتُ هَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لاَ أَكْنِي ‏.‏ فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلاَنِ وَتَقُولاَنِ لَوْ كَانَ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا ‏.‏ قَالَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ قَالَ ‏"‏ مَا لَكُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَ ‏"‏ مَا قَالَ لَكُمَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتَا إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلأُ الْفَمَ ‏.‏ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ أَبُو ذَرٍّ ‏.‏ فَكُنْتُ أَنَا أَوَّلُ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ - قَالَ - فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِ انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ ‏.‏ فَذَهَبْتُ آخُذُ بِيَدِهِ فَقَدَعَنِي صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَتَى كُنْتَ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ قَدْ كُنْتُ هَا هُنَا مُنْذُ ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ ‏"‏ فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلاَّ مَاءُ زَمْزَمَ ‏.‏ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا أَجِدُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ ‏"‏ إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ ‏.‏ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ لاَ أُرَاهَا إِلاَّ يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُ أُنَيْسًا فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ‏.‏ قَالَ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ‏.‏ فَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ‏.‏ فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ ‏.‏ وَقَالَ نِصْفُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا ‏.‏ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي وَجَاءَتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَتُنَا نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ ‏.‏ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
ہداب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے عبداللہ بن صامت سے خبر دی ، انھوں نے کہا ، کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ، میرا بھائی انیس اور ہماری ماں تینوں اپنی قوم غفار میں سے نکلے جو حرام مہینے کو بھی حلال سمجھتے تھے ۔ پس ہم اپنے ایک ماموں کے پاس اترے ۔ اس نے ہماری خاطر کی اور ہمارے ساتھ نیکی کی تو اس کی قوم نے ہم سے حسد کیا اور ( ہمارے ماموں سے ) کہنے لگے کہ جب تو اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے تو انیس تیری بی بی کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ وہ ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ بات ( حماقت سے ) مشہور کر دی ۔ میں نے کہا کہ تو نے ہمارے ساتھ جو احسان کیا تھا وہ بھی خراب ہو گیا ہے ، اب ہم تیرے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ آخر ہم اپنے اونٹوں کے پاس گئے اور اپنا اسباب لادا اور ہمارے ماموں نے اپنا کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کر دیا ۔ ہم چلے ، یہاں تک کہ مکہ کے سامنے اترے ۔ انیس نے ہمارے اونٹوں کے ساتھ اتنے ہی اور کی شرط لگائی ۔ پھر دونوں کاہن کے پاس گئے تو کاہن نے انیس کو کہا کہ یہ بہتر ہے ۔ پس انیس ہمارے پاس سارے اونٹ اور اتنے ہی اور اونٹ لایا ۔ ابوذر نے کہا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے پہلے تین برس پہلے نماز پڑھی ہے ۔ میں نے کہا کہ کس کے لئے پڑھتے تھے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ۔ میں نے کہا کہ کدھر منہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ادھر منہ کرتا تھا جدھر اللہ تعالیٰ میرا منہ کر دیتا تھا ۔ میں رات کے آخر حصہ میں عشاء کی نماز پڑھتا اور سورج طلوع ہونے تک کمبل کی طرح پڑ رہتا تھا ۔ انیس نے کہا کہ مجھے مکہ میں کام ہے ، تم یہاں رہو میں جاتا ہوں ۔ وہ گیا اور اس نے آنے میں دیر کی ۔ پھر آیا تو میں نے کہا کہ تو نے کیا کیا؟ وہ بولا کہ میں مکہ میں ایک شخص سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے ۔ میں نے کہا کہ لوگ اسے کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ لوگ اس کو شاعر ، کاہن اور جادوگر کہتے ہیں ۔ اور انیس خود بھی شاعر تھا ۔ اس نے کہا کہ میں نے کاہنوں کی بات سنی ہے لیکن جو کلام یہ شخص پڑھتا ہے وہ کاہنوں کا کلام نہیں ہے اور میں نے اس کا کلام شعر کے تمام بحروں پر رکھا تو وہ کسی کی زبان پر میرے بعد شعر کی طرح نہ جڑے گا ۔ اللہ کی قسم وہ سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں ۔ میں نے کہا کہ تم یہاں رہو میں اس شخص کو جا کر دیکھتا ہوں ۔ پھر میں مکہ میں آیا تو میں نے ایک ناتواں شخص کو مکہ والوں میں سے چھانٹا ( اس لئے کہ طاقتور شخص شاید مجھے کوئی تکلیف پہنچائے ) ، اور اس سے پوچھا کہ وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی ( بےدین ) کہتے ہو؟ اس نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ صابی ہے ( جب تو صابی کا پوچھتا ہے ) یہ سن کر تمام وادی والوں نے ڈھیلے اور ہڈیاں لے کر مجھ پر حملہ کر دیا ، یہاں تک کہ میں بیہوش ہو کر گر پڑا ۔ جب میں ہوش میں آ کر اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گویا میں لال بت ہوں ( یعنی سر سے پیر تک خون سے سرخ ہوں ) ۔ پھر میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے سب خون دھویا اور زمزم کا پانی پیا ۔ پس اے میرے بھتیجے! میں وہاں تیس راتیں یا تیس دن رہا اور میرے پاس سوائے زمزم کے پانی کے کوئی کھانا نہ تھا ( جب بھوک لگتی تو میں اسی کو پیتا ) ۔ پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی بٹیں ( موٹاپے سے ) جھک گئیں اور میں نے اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پائی ۔ ایک بار مکہ والے چاندنی رات میں سو گئے کہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کوئی نہ کرتا تھا ، صرف دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں ( اساف اور نائلہ مکہ میں دو بت تھے اساف مرد تھا اور نائلہ عورت تھی اور کفار کا یہ اعتقاد تھا کہ ان دونوں نے وہاں زنا کیا تھا ، اس وجہ سے مسخ ہو کر بت ہو گئے تھے ) ، وہ طواف کرتی کرتی میرے سامنے آئیں ۔ میں نے کہا کہ ایک کا نکاح دوسرے سے کر دو ( یعنی اساف کا نائلہ سے ) ۔ یہ سن کر بھی وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں ۔ پھر میں نے صاف کہہ دیا کہ ان کے فلاں میں لکڑی ( یعنی یہ فخش اساف اور نائلہ کی پرستش کی وجہ سے ) اور میں نے کنایہ نہ کیا ( یعنی کنایہ اشارہ میں میں نے گالی نہیں دی بلکہ ان مردود عورتوں کو غصہ دلانے کے لئے اساف اور نائلہ کو کھلم کھلا گالی دی ، جو اللہ تعالیٰ کے گھر میں اللہ کو چھوڑ کر اساف اور نائلہ کو پکارتی تھیں ) یہ سن کر وہ دونوں عورتیں چلاتی اور کہتی ہوئی چلیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی ہوتا ( جو اس شخص کو بے ادبی کی سزا دیتا ) ۔ راہ میں ان عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور وہ پہاڑ سے اتر رہے تھے ۔ انہوں نے عورتوں سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ وہ بولیں کہ ایک صابی آیا ہے جو کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس صابی نے کیا کہا؟ وہ بولیں کہ ایسی بات بولا جس سے منہ بھر جاتا ہے ( یعنی اس کو زبان سے نہیں نکال سکتیں ) ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، یہاں تک حجراسود کو بوسہ دیا اور اپنے ساتھی کے ساتھ طواف کیا اور نماز پڑھی ۔ جب نماز پڑھ چکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اول میں نے ہی سلام کی سنت ادا کی اور کہا کہ السلام علیکم یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وعلیک ورحمۃ اللہ ۔ پھر پوچھا کہ تو کون ہے؟ میں نے کہا کہ غفار کا ایک شخص ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ جھکایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں ( جیسے کوئی ذکر کرتا ہے ) میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا برا معلوم ہوا کہ میں ( قبیلہ ) غفار میں سے ہوں ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑنے کو لپکا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال جانتے تھے مجھے روکا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ تو یہاں کب آیا؟ میں نے عرض کیا میں یہاں تیس رات یا دن سے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے کھانا کون کھلاتا ہے؟ میں نے کہا کہ کھانا وغیرہ کچھ نہیں سوائے زمزم کے پانی کے ۔ پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بٹ مڑ گئے اور میں اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پاتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمزم کا پانی برکت والا ہے اور وہ کھانا بھی ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھر دیتا ہے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آج کی رات اس کو کھلانے کی اجازت مجھے دیجئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی میں بھی ان دونوں کے ساتھ چلا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک دروازہ کھولا اور اس میں سے طائف کی سوکھی ہوئی کشمش نکالیں ، یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا ۔ پھر میں رہا جب تک کہ رہا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک کھجور والی زمین دکھلائی گئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ زمین یثرب کے سوا کوئی اور نہیں ہے ۔ ( یثرب مدینہ کا نام تھا ) ، پس تو میری طرف سے اپنی قوم کو دین کی دعوت دے ، شاید اللہ تعالیٰ ان کو تیری وجہ سے نفع دے اور تجھے ثواب دے ۔ میں انیس کے پاس آیا تو اس نے پوچھا کہ تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا کہ میں اسلام لایا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی ۔ وہ بولا کہ تمہارے دین سے مجھے بھی نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام لایا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی ۔ پھر ہم دونوں اپنی ماں کے پاس آئے وہ بولی کہ مجھے بھی تم دونوں کے دین سے نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام لائی اور میں نے تصدیق کی ۔ پھر ہم نے اونٹوں پر اسباب لادا ، یہاں تک کہ ہم اپنی قوم غفار میں پہنچے ۔ آدھی قوم تو مسلمان ہو گئی اور ان کا امام ایماء بن رحضہ غفاری تھا وہ ان کا سردار بھی تھا ۔ اور آدھی قوم نے یہ کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوں گے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور آدھی قوم جو باقی تھی وہ بھی مسلمان ہو گئی اور ( قبیلہ ) اسلم کے لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم بھی اپنے غفاری بھائیوں کی طرح مسلمان ہوتے ہیں تو وہ بھی مسلمان ہو گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غفار کو اللہ نے بخش دیا اور اسلم کو اللہ تعالیٰ نے بچا دیا ۔
حدیث 6360 — صحيح مسلم 44:190
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ وَكُنْ عَلَى حَذَرٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا ‏.‏
ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اورابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول : ۔ ۔ ۔ میں نے کہا : اب میری طرف سے تو ( سب کام ) سنبھال تاکہ میں جاؤں اور دیکھوں ۔ کے بعد مزید یہ کہا : اس نے کہا : ہاں اور اہل مکہ سے محتاط رہنا کیونکہہ وہ ان ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے نفرت کرنے لگے ہیں اور بُری طرح پیش آتے ہیں ۔
حدیث 6361 — صحيح مسلم 44:191
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا ابْنَ أَخِي صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ قَالَ حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللَّهُ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَتَنَافَرَا إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْكُهَّانِ ‏.‏ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ أَخِي أُنَيْسٌ يَمْدَحُهُ حَتَّى غَلَبَهُ - قَالَ - فَأَخَذْنَا صِرْمَتَهُ فَضَمَمْنَاهَا إِلَى صِرْمَتِنَا ‏.‏ وَقَالَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ فَإِنِّي لأَوَّلُ النَّاسِ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ - قَالَ - قُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ مَنْ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَقَالَ ‏"‏ مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مُنْذُ خَمْسَ عَشْرَةَ ‏.‏ وَفِيهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتْحِفْنِي بِضِيَافَتِهِ اللَّيْلَةَ ‏.‏
ابن عون نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے عبداللہ بن صامت سے روایت کی ، کہا : حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : بھتیجے!میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دو سال پہلے نماز پڑھی ہے ، کہا : میں نے پوچھا : آپ کس طرف رخ کیاکرتے تھے؟انھوں نے کہا : جس طرح اللہ تعالیٰ میرا رخ کردیتاتھا؟پھر ( ابن عون نے ) سلیمان بن مغیرہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ کہا : " ان دونوں کا آپس میں مقابلہ کاہنوں میں سے ایک آدمی کے سامنے ہوا اور میرا بھائی انیس ( اشعار میں مسلسل ) اس ( کاہن ) کی مدح کرتا رہا یہاں تک کہ اس شخص پر غالب آگیا تو ہم نے اس کا گلہ بھی لے لیا اور اسے اپنے گلے میں شامل کرلیا ۔ انھوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا : ( ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، بیت اللہ کاطواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں ۔ کہا : تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں پہلا شخص ہوں جس نے آپ کو اسلامی طریقے سے سلام کیا ۔ تو کہا : میں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ پر سلامتی ہو!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اورتم پر بھی سلامتی ہو!تم کون ہو؟اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے : آپ نے پوچھا : " تم کتنے دنوں سے یہاں ہو؟ " کہا : میں نے عرض کی : پندرہ دن سے ، اور اس میں یہ ( بھی ) ہے کہ کہا : ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس کی آج رات کی میزبانی بطور تحفہ مجھے عطا کردیجئے ۔
حدیث 6362 — صحيح مسلم 44:192
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَالَ لأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي ‏.‏ فَانْطَلَقَ الآخَرُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ وَكَلاَمًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ ‏.‏ فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي فِيمَا أَرَدْتُ ‏.‏ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ - يَعْنِي اللَّيْلَ - فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ احْتَمَلَ قُرَيْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلاَ يَرَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَمْسَى فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ مَا أَنَى لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ وَلاَ يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَقَامَهُ عَلِيٌّ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَلاَ تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ هَذَا الْبَلَدَ قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ ‏.‏ فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي ‏.‏ فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ‏.‏ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ وَثَارَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ فَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَالَ وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تُجَّارِكُمْ إِلَى الشَّامِ عَلَيْهِمْ ‏.‏ فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا وَثَارُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَأَنْقَذَهُ ‏.‏
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں مبعوث ہونے کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ سوار ہو کر اس وادی کو جا اور اس شخص کو دیکھ کر آ جو کہتا ہے مجھے آسمان سے خبر آتی ہے ، ان کی بات سن پھر میرے پاس آ ۔ وہ روانہ ہوا ، یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا ، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر گیا اور بولا کہ میں نے اس شخص کو دیکھا ، وہ اچھی خصلتوں کا حکم کرتا ہے اور ایک کلام سناتا ہے جو شعر نہیں ہے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس سے تسلی نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے خود زادراہ لیا اور پانی کی ایک مشک لی یہاں تک کہ مکہ میں آئے اور مسجدالحرام میں داخل ہوئے ۔ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہ تھے اور انہوں نے پوچھنا بھی مناسب نہ جانا ، یہاں تک کہ رات ہو گئی اور وہ لیٹ رہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا اور پہچانا کہ کوئی مسافر ہے پھر ان کے پیچھے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہیں کی یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ پھر وہ اپنا توشہ اور مشک مسجد میں اٹھا لائے اور سارا دن وہاں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شام تک نہ دیکھا ۔ پھر وہ اپنے سونے کی جگہ میں چلے گئے ۔ وہاں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ گزرے اور کہا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اس شخص کو اپنا ٹھکانہ معلوم ہو ۔ پھر ان کو کھڑا کیا اور ان کو ساتھ لے گئے لیکن کسی نے دوسرے سے بات نہ کی ۔ پھر تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا ۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے ساتھ کھڑا کیا ، پھر کہا کہ تم مجھ سے وہ بات کیوں نہیں کہتے جس کے لئے تم اس شہر میں آئے ہو؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے عہد اور وعدہ کرتے ہو کہ راہ بتلاؤ گے تو میں بتاتا ہوں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تو انہوں نے بتایا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ شخص سچے ہیں اور وہ بیشک اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تم صبح کو میرے ساتھ چلنا ، اگر میں کوئی خوف کی بات دیکھوں گا جس میں تمہاری جان کا ڈر ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا جیسے کوئی پانی بہاتا ہے ( یعنی پیشاب کا بہانہ کروں گا ) اور اگر چلا جاؤں تو تم بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آنا ۔ جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس آنا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور ان کے پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ پہنچے ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اسی جگہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قوم کے پاس جا اور ان کو دین کی خبر کر یہاں تک کہ میرا حکم تجھے پہنچے ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں تو یہ بات ( یعنی دین قبول کرنے کی ) مکہ والوں کو پکار کر سنا دوں گا ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں آئے اور چلا کر بولے کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں“ ۔ لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کو مارتے مارتے لٹا دیا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ پر جھکے اور لوگوں سے کہا کہ تمہای خرابی ہو ، تم نہیں جانتے کہ یہ شخص ( قوم ) غفار کا ہے اور تمہارا سوداگری کا راستہ شام کی طرف ( قوم ) غفار کے ملک پر سے ہے ( تو وہ تمہاری تجارت بند کر دیں گے ) ۔ پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں سے چھڑا لیا ۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دوسرے دن پھر ویسا ہی کیا اور لوگ دوڑے اور مارا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے اور انہیں چھڑا لیا ۔
حدیث 6363 — صحيح مسلم 44:193
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي، حَازِمٍ يَقُولُ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ ‏.‏
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور عبد الحمید بن بیان واسطی نے خالد بن عبد اللہ سے ، انھوں نے بیان سے روایت کی ، کہا : میں نے قیس بن ابی حازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے جب سے اسلام قبول کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اپنے حجرے سے باہر نہیں روکا اور آپ نے جب بھی مجھے دیکھا آپ ہنس دیے ۔
حدیث 6364 — صحيح مسلم 44:194
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَ��َا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي ‏.‏ زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ‏"‏ ‏.‏
بو بکربن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع اور ابو اسامہ نے اسماعیل سے حدیث بیان کی ، نیز ابن نمیر نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسماعیل نے قیس سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب سے میں اسلام لا یا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی گھر سے باہر نہیں رو کا اور آپ نے کبھی مجھے نہیں مگر آپ ہمیشہ میرے سامنے مسکرا ئے ہیں ۔ ابن نمیر نے ابن ادریس سے اپنی روایت میں مزید یہ کہا : میں نے آپ سے شکا یت کی کہ میں گھوڑےپر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپ نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور فر ما یا : " اے اللہ!اسے ثبات ( مضبوطی ) عطا کر اور اسے ہدایت پہنچانے والاہدایت پا نے والابنا دے ۔
حدیث 6365 — صحيح مسلم 44:195
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ وَالْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَالْكَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ وَالشَّامِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَكَسَرْنَاهُ وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ - قَالَ - فَدَعَا لَنَا وَلأَحْمَسَ ‏.‏
عبد الحمید بن بیان نے کہا : ہمیں خ رحمۃ اللہ علیہ الد نے بیان سے خبر دی ، انھوں نے قیس سے ، انھوں نے حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گاہ تھی جس کو ذوالخلصہ کہتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جا تا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما یا : " کیا تم مجھے ذوالخلصہ کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی اذیت سے راحت دلا ؤ گے؟ " تو میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو جوانوں کے ساتھ اس کی طرف گیا ۔ ہم نے اس بت خانے کو تو ڑ دیا اور جن لو گوں کو وہاں پا یا ان سب کو قتل کر دیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر سنائی تو آپ نے ہمارے لیے اور ( پورے ) قبیلہ احمس کے لیے دعا فر ما ئی ۔
حدیث 6366 — صحيح مسلم 44:196
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ، بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا جَرِيرُ أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ‏"‏ ‏.‏ بَيْتٍ لِخَثْعَمَ كَانَ يُدْعَى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ ‏.‏ قَالَ فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْنَاهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ‏.‏ فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ ‏.‏
جریر نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انھوں نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " جریر!کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے راحت نہیں دلا ؤ گے؟ " یہ خثعم کا بت خانہ تھا جسے کعبہ یمانیہ بھی کہا جا تا تھا ۔ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں ڈیڑھ سو گھڑسوار لے کر اس کی طرف روانہ ہوا اور میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے میرے سینے پر اپنا مبارک ہاتھ مارا اور دعا فر ما یا : " اے اللہ !اس کو ( گھوڑے پر ) جماد ے اور اسے ہدایت پہنچانے والا ہدایت پانے والا بنادے ۔ " ( قیس بن ابی حازم نے ) کہا؛ پھر وہ روانہ ہو ئے اور اس بت خانے کو آگ لگا کر جلا دیا ، پھر حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا ۔ اس کی کنیت ابوار طاۃ تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے عرض کی ، میں آپ کے پاس اسی وقت حاضر ہوا ہوں جب ہم نے اس ( بت خانے ) کو خارش زدہ اونٹ کی طرح ( دیکھنے میں مکروہ ٹوٹا پھوٹا ) کر چھوڑا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیا دوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فر ما ئی ۔
حدیث 6367 — صحيح مسلم 44:197
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَرْوَانَ فَجَاءَ بَشِيرُ جَرِيرٍ أَبُو أَرْطَاةَ حُصَيْنُ بْنُ رَبِيعَةَ يُبَشِّرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
وکیع عبد اللہ بن نمیر ، سفیان ، مروان فرازی اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور مروان کی حدیث میں کہا : تو حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے خوش خبری دینے والے ابو ارطاۃ حصین بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری دینے والے کے لیے آئے ۔
حدیث 6368 — صحيح مسلم 44:198
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ قَالاَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّوسلم أَتَى الْخَلاَءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ ‏"‏ مَنْ وَضَعَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالُوا ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قُلْتُ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ ‏"‏ ‏.‏
زہیر بن حرب اور ابو بکر بن نضر نے کہا : ہمیں ہاشم بن قاسم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ورقا ء بن عمر یشکری نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے عبید اللہ بن ابی یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر ( انسانوں سے ) خالی علاقے میں تشریف لے گئے میں نے ( اس دورا ن میں ) آپ کے لیے وضوکا پا نی رکھ دیا ۔ جب آپ آئے تو آپ نے پو چھا : " یہ پانی کس نے رکھا ہے ۔ ؟ ۔ ۔ ۔ زہیر کی روایت میں ہے ۔ لوگوں نے کہا : اور ابوبکر کی روایت میں ہے ۔ میں نے کہا ۔ ۔ ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ آپ نے فر ما یا : " اے اللہ !اسے دین کا گہرا فہم عطا کر ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔