قرآني·Qurani
اردو

فضائل الصحابة

331 احادیث · #6169–6499

حدیث 6409 — صحيح مسلم 44:240
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ - حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلاَ يُقَاعِدُونَهُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا نَبِيَّ اللَّهِ ثَلاَثٌ أَعْطِنِيهِنَّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُكَهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَلَوْلاَ أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُسْئَلُ شَيْئًا إِلاَّ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏
عکرمہ نے کہا : ہمیں ابو زمیل نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مسلمان نہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کرتے تھے نہ ان کے ساتھ بیٹھتے اٹھتے تھے ۔ اس پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ مجھے تین چیزیں عطا فر ما دیجیے ۔ ( تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرما لیجیے ۔ ) آپ نے جواب دیا : " ہاں ۔ " کہا میری بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل خاتون ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتا ہوں ۔ آپ نے فر مایا : " ہاں ۔ " کہا : اور معاویہ ( میرابیٹا ) آپ اسے اپنے پاس حاضر رہنے والا کا تب بنا دیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہاں ۔ " پھر کہا : آپ مجھے کسی دستے کا امیر ( بھی ) مقرر فرمائیں تا کہ جس طرح میں مسلمانوں کے خلاف لڑتا تھا اسی طرح کافروں کے خلا ف بھی جنگ کروں ۔ آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " ابو زمیل نے کہا : اگر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کیا ہو تا تو آپ ( از خود ) انھیں یہ سب کچھ عطا نہ فر ما تے کیونکہ آپ سے کبھی کو ئی چیز نہیں مانگی جا تی تھی مگر آپ ( اس کے جواب میں ) " ہاں " کہتے تھے ۔
حدیث 6410 — صحيح مسلم #6410
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ - إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ ثَلاَثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي - قَالَ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنَا هَا هُنَا وَأَمَرَنَا بِالإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا ‏.‏ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا - قَالَ - فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا - أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا - وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلاَّ لأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ - قَالَ - فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا - يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ - نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا - عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَائِرَةً وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ ‏.‏ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلاَّ وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَسْأَلُهُ وَوَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي ‏.‏
بُرَید نے ابو بُردہ سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( مکہ سے ) نکلنے کی خبر ملی تو ہم یمن میں تھے ۔ ہم ( بھی ) آپ کی طرف ہجرت کرتے ہو ئے نکل پڑے ۔ میں میرے دو بھا ئی جن سے میں چھوٹا تھا ۔ ایک ابو بردہ اور دوسرا ابو رہم ۔ ۔ ۔ اور میری قوم میں سے پچاس سے کچھ اوپریا کہا : تریپن یا باون لوگ ( نکلے ) ۔ ۔ کہا : ہم کشتی میں سوار ہو ئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجا شی کے ہاں جا پھینکا ۔ اس کے ہاں ہم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے ہو گئے ۔ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے تم لو گ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہرو ۔ کہا : ہم ان کے ساتھ ٹھہرگئے ۔ حتی کہ ہم سب اکٹھے ( واپس ) آئے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عین ) اس وقت آکر ملے جب آپ نے خیبر فتح کیا تو آپ نے ہمارا بھی حصہ نکا لا یا کہا : ہمیں بھی اس مال میں سے عطا فر ما یا : آپ نے کسی شخص کو بھی جو فتح خیبر میں مو جود نہیں تھا کو ئی حصہ نہیں دیا تھا ، سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ ( فتح میں ) شریک تھے مگر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری کشتی والوں کو دیا ، ان کے لیے ان ( فتح میں شریک ہو نے والوں ) کے ساتھ ہی حصہ نکا لا ۔ کہا : تو ان میں سے کچھ لوگ ہمیں ۔ ۔ ۔ یعنی کشتی والوں کو ۔ ۔ ۔ کہتے تھے ، ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت حاصل کی ۔
حدیث 6411 — صحيح مسلم 44:241
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالآخَرُ أَبُو رُهْمٍ - إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ ثَلاَثَةً وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلاً مِنْ قَوْمِي - قَالَ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنَا هَا هُنَا وَأَمَرَنَا بِالإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا ‏.‏ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا - قَالَ - فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا - أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا - وَمَا قَسَمَ لأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلاَّ لأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ - قَالَ - فَكَانَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا - يَعْنِي لأَهْلِ السَّفِينَةِ - نَحْنُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا - عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَائِرَةً وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ‏.‏ قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ ‏.‏ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ كَلِمَةً كَذَبْتَ يَا عُمَرُ كَلاَّ وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ فِي الْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَسْأَلُهُ وَوَاللَّهِ لاَ أَكْذِبُ وَلاَ أَزِيغُ وَلاَ أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالاً يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنَ الدُّنْيَا شَىْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلاَ أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقَالَتْ أَسْمَاءُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي ‏.‏
بُرَید نے ابو بُردہ سے انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( مکہ سے ) نکلنے کی خبر ملی تو ہم یمن میں تھے ۔ ہم ( بھی ) آپ کی طرف ہجرت کرتے ہو ئے نکل پڑے ۔ میں میرے دو بھا ئی جن سے میں چھوٹا تھا ۔ ایک ابو بردہ اور دوسرا ابو رہم ۔ ۔ ۔ اور میری قوم میں سے پچاس سے کچھ اوپریا کہا : تریپن یا باون لوگ ( نکلے ) ۔ ۔ کہا : ہم کشتی میں سوار ہو ئے تو ہماری کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجا شی کے ہاں جا پھینکا ۔ اس کے ہاں ہم حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ اکٹھے ہو گئے ۔ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے تم لو گ بھی ہمارے ساتھ یہیں ٹھہرو ۔ کہا : ہم ان کے ساتھ ٹھہرگئے ۔ حتی کہ ہم سب اکٹھے ( واپس ) آئے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عین ) اس وقت آکر ملے جب آپ نے خیبر فتح کیا تو آپ نے ہمارا بھی حصہ نکا لا یا کہا : ہمیں بھی اس مال میں سے عطا فر ما یا : آپ نے کسی شخص کو بھی جو فتح خیبر میں مو جود نہیں تھا کو ئی حصہ نہیں دیا تھا ، سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ ( فتح میں ) شریک تھے مگر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری کشتی والوں کو دیا ، ان کے لیے ان ( فتح میں شریک ہو نے والوں ) کے ساتھ ہی حصہ نکا لا ۔ کہا : تو ان میں سے کچھ لوگ ہمیں ۔ ۔ ۔ یعنی کشتی والوں کو ۔ ۔ ۔ کہتے تھے ، ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت حاصل کی ۔
حدیث 6412 — صحيح مسلم 44:242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَتَى عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلاَلٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَاهُمْ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ قَالُوا لاَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أُخَىَّ ‏.‏
معاویہ بن قرہ نے عائذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند اور لوگوں کی موجودگی میں حضرت سلیمان ، حضرت صہیب اور حضرت بلال رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس سے گزرے تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ تک نہیں پہنچیں ۔ کہا : اس پر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق یہ کہتے ہو ۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ بات بتا ئی تو آپ نے فر ما یا : " ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! شاید تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے ۔ اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا ہے تو اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا : میرے بھائیو! کیا میں نے تم کو ناراض کردیا؟ انھوں نے کہا : نہیں بھا ئی ! اللہ آپ کی مغفرت فر ما ئے ۔
حدیث 6413 — صحيح مسلم 44:243
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ فِينَا نَزَلَتْ ‏{‏ إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا‏}‏ بَنُو سَلِمَةَ وَبَنُو حَارِثَةَ وَمَا نُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا‏}‏ ‏.‏
عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہو ئی " جب تم میں سے دوجماعتوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا اور اللہ ان دونوں کا مدد گا ر تھا " یہ آیت بنوسلمہ اور بنو حارثہ کے متعلق نازل ہو ئی ( اس کے اندر ) اللہ کے اس فر ما ن : " اللہ ان دونوں ( جماعتوں ) کا مددگار تھا " کی بنا پر ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ یہ آیت نال نہ ہو ئی ہوتی ۔
حدیث 6414 — صحيح مسلم #6414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
محمد بن جعفر اور عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے انھوں نے حضرت زید بن راقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد انصار کو خطبہ دیتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !انصار کی مغفرت فر ما ، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما ، انصار بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فر ما
حدیث 6415 — صحيح مسلم #6415
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَلأَبْنَاءِ الأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
محمد بن جعفر اور عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے انھوں نے حضرت زید بن راقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے بعد انصار کو خطبہ دیتے ہو ئے ) فر ما یا : " اے اللہ !انصار کی مغفرت فر ما ، انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما ، انصار بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فر ما
حدیث 6416 — صحيح مسلم 44:245
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ - أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَغْفَرَ لِلأَنْصَارِ - قَالَ - وَأَحْسِبُهُ قَالَ ‏ "‏ وَلِذَرَارِيِّ الأَنْصَارِ وَلِمَوَالِي الأَنْصَارِ ‏"‏ ‏.‏ لاَ أَشُكُّ فِيهِ ‏.‏
عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے لیے مغفرت کی دعاکی ۔ ( اسحاق نے ) کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : " اور انصارکی اولاد دوں اور انصارکے ساتھ نسبت رکھنے والوںکی بھی ( مغفرت فرما ۔ ) " مجھے اس کے بارےمیں کو ئی شک نہیں ۔
حدیث 6417 — صحيح مسلم 44:246
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُمْثِلاً فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الأَنْصَارَ ‏.‏
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصارکے ) کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہو ئے دیکھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو گئے ۔ اور فرما یا : " میرا اللہ! ( گواہ ہے ) تم ان لوگوں میں سے ہو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ میرا اللہ ! ( گواہ ہے ) تم ان لوگوں میں سے ہوجو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ " آپ کی مراد انصار سے تھی ۔
حدیث 6418 — صحيح مسلم 44:247
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَخَلاَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لأَحَبُّ النَّاسِ إِلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ‏.‏
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا : انصار میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیحدگی میں اس کی بات سنی اور تین بار فر ما یا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! تم لو گ سب سے زیادہ پیارےہو ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔