قرآني·Qurani
اردو

فضائل الصحابة

331 احادیث · #6169–6499

حدیث 6489 — صحيح مسلم 44:318
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ وَوَكِيعٍ ذِكْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ‏.‏
وکیع اور شعبہ نے اعمش سے جریر اور ابو معاویہ کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی ، لیکن شعبہ اور وکیع کی حدیث میں عبدالرحمٰن بن عوف اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ نہیں ہے ۔
حدیث 6490 — صحيح مسلم 44:319
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ، وَفَدُوا، إِلَى عُمَرَ وَفِيهِمْ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ فَقَالَ عُمَرُ هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنَ الْقَرَنِيِّينَ فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ رَجُلاً يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ لاَ يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : مجھے سعید جریری نے ابو نضرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اُسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اہل کوفہ ایک وفد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ، ان میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو حضرت اویس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ٹھٹا اڑاتا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا : یہاں قرن کے رہنے والوں میں سے کوئی ہے؟وہ شخص ( آگے ) آگیاتوحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " تمھارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا ، اس کا نام اویس ہوگا ، یمن میں اس کی والدہ کےسوا کوئی نہیں جسے وہ چھوڑ کرآئے ۔ اس ( کے جسم ) پرسفید ( برص کے ) نشان ہیں ۔ اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے ایک دینار یا درہم کے برابر چھوڑ کر باقی سارا نشان ہٹادیا ، وہ تم میں سے جس کو ملے ( وہ اس سے درخواست کرےکہ ) وہ تم لوگوں کےلیے مغفرت کی دعاکرے ۔
حدیث 6491 — صحيح مسلم 44:320
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ - عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏
حماد بن سلمہ نے سعید جریری سے اسی سند کےساتھ حدیث بیان کی ، کہا : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تابعین میں ایک بہترین شخص ہے جس کو اویس کہتے ہیں ، اس کی ایک ماں ہے ( یعنی رشتہ داروں میں سے صرف ماں زندہ ہو گی ) اور اس کو ایک سفیدی ہو گی ۔ تم اس سے کہنا کہ تمہارے لئے دعا کرے ۔
حدیث 6492 — صحيح مسلم 44:321
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا - وَاللَّفْظُ، لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ أَمْدَادُ أَهْلِ الْيَمَنِ سَأَلَهُمْ أَفِيكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ حَتَّى أَتَى عَلَى أُوَيْسٍ فَقَالَ أَنْتَ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ فَبَرَأْتَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ لَكَ وَالِدَةٌ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ ‏"‏ ‏.‏ فَاسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ الْكُوفَةَ ‏.‏ قَالَ أَلاَ أَكْتُبُ لَكَ إِلَى عَامِلِهَا قَالَ أَكُونُ فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ حَجَّ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ فَوَافَقَ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ أُوَيْسٍ قَالَ تَرَكْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ قَلِيلَ الْمَتَاعِ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَى أُوَيْسًا فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ اسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي ‏.‏ قَالَ لَقِيتَ عُمَرَ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ‏.‏ فَفَطِنَ لَهُ النَّاسُ فَانْطَلَقَ عَلَى وَجْهِهِ ‏.‏ قَالَ أُسَيْرٌ وَكَسَوْتُهُ بُرْدَةً فَكَانَ كُلَّمَا رَآهُ إِنْسَانٌ قَالَ مِنْ أَيْنَ لأُوَيْسٍ هَذِهِ الْبُرْدَةُ
زرارہ بن اوفیٰ نے اُسیر بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن سے مدد کے لوگ آتے ( یعنی وہ لوگ جو ہر ملک سے اسلام کے لشکر کی مدد کے لئے جہاد کرنے کو آتے ہیں ) تو وہ ان سے پوچھتے کہ تم میں اویس بن عامر بھی کوئی شخص ہے؟ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود اویس کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارا نام اویس بن عامر ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم مراد قبیلہ کی شاخ قرن سے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم برابر باقی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری ماں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تمہارے پاس اویس بن عامر یمن والوں کی کمکی فوج کے ساتھ آئے گا ، وہ قبیلہ مراد سے ہے جو قرن کی شاخ ہے ۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درہم باقی ہے ۔ اس کی ایک ماں ہے ۔ اس کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے ۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے تو اس سے اپنے لئے دعا کرانا ۔ تو میرے لئے دعا کرو ۔ پس اویس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے بخشش کی دعا کی ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ کوفہ میں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں کوفہ کے حاکم کے نام ایک خط لکھ دوں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے خاکساروں میں رہنا اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ جب دوسرا سال آیا تو ایک شخص نے کوفہ کے رئیسوں میں سے حج کیا ۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس کا حال پوچھا تو وہ بولا کہ میں نے اویس کو اس حال میں چھوڑا کہ ان کے گھر میں اسباب کم تھا اور ( خرچ سے ) تنگ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اویس بن عامر تمہارے پاس یمن والوں کے امدادی لشکر کے ساتھ آئے گا ، وہ مراد قبیلہ کی شاخ قرن میں سے ہے ۔ اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا صرف درہم کے برابر باقی ہے ۔ اس کی ایک ماں ہے جس کے ساتھ وہ نیکی کرتا ہے ۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کو سچا کرے ۔ پھر اگر تجھ سے ہو سکے کہ وہ تیرے لئے دعا کرے تو اس سے دعا کرانا ۔ وہ شخص یہ سن کر اویس کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرے لئے دعا کرو ۔ اویس نے کہا کہ تو ابھی نیک سفر کر کے آ رہا ہے ( یعنی حج سے ) میرے لئے دعا کر ۔ پھر وہ شخص بولا کہ میرے لئے دعا کر ۔ اویس نے یہی جواب دیا پھر پوچھا کہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا؟ وہ شخص بولا کہ ہاں ملا ۔ اویس نے اس کے لئے دعا کی ۔ اس وقت لوگ اویس کا درجہ سمجھے ۔ وہ وہاں سے سیدھے چلے ۔ اسیر نے کہا کہ میں نے ان کو ان کا لباس ایک چادر پہنائی جب کوئی آدمی ان کو دیکھتا تو کہتا کہ اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی ہے؟ ( وہ ایسے تھے کہ ایک مناسب چادر بھی ان کے پاس ہونا باعث تعجب تھا ۔)
حدیث 6493 — صحيح مسلم 44:322
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ، سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ شُمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلاَنِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَىْ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجَ مِنْهَا ‏.‏
ابن وہب نے کہا : ہمیں حرملہ بن عمران تحبیی نے عبدالرحمٰن بن شماسہ مہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم عنقریب ایک زمین کو فتح کرو گےجس میں قیراط کا نام لیا جاتا ہوگا ( یہ ان کے چھوٹے سکے کا نام ہوگا ) تم اس سرزمین کے رہنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بات سن رکھو ، کیونکہ ان کا ( ہم پر ) حق بھی ہے اور رشتہ بھی ، پھر جب تم دو انسانوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لئے قتال پر آمادہ دیکھو تو وہاں سے چلے آنا ۔ "" ( حرملہ بن عمران نے ) کہا : تو ( عبدالرحمان بن شماسہ ) حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں ربیعہ اور عبدالرحمان کے قریب سے گزرے ، وہ ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑ رہے تھے تو وہ وہاں ( مصر ) سے نکل آئے ۔
حدیث 6494 — صحيح مسلم 44:323
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ، عَنْ أَبِي، ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا ‏.‏
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا ، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا» أَوْ قَالَ «ذِمَّةً وَصِهْرًا ، فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَاخْرُجْ مِنْهَا» قَالَ : فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ ، وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا
حدیث 6495 — صحيح مسلم 44:324
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو الرَّاسِبِيِّ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً إِلَى حَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ أَنَّ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ مَا سَبُّوكَ وَلاَ ضَرَبُوكَ ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عمرو راسبی نے کہا : میں نے حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو قبائل عرب میں سے ایک قبیلے کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے ان کو گالیاں دیں اور مارا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کوخبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھیں گالیاں دیتے نہ مارتے ۔
حدیث 6496 — صحيح مسلم 44:325
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيَّ - أَخْبَرَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ، رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ - قَالَ - فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولاً لِلرَّحِمِ أَمَا وَاللَّهِ لأُمَّةٌ أَنْتَ أَشَرُّهَا لأُمَّةٌ خَيْرٌ ‏.‏ ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ وَقَوْلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مِنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ - قَالَ - فَأَبَتْ وَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَىَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي - قَالَ - فَقَالَ أَرُونِي سِبْتَىَّ ‏.‏ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللَّهِ قَالَتْ رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ وَأَمَّا الآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لاَ تَسْتَغْنِي عَنْهُ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَنَا ‏ "‏ أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلاَ إِخَالُكَ إِلاَّ إِيَّاهُ - قَالَ - فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا ‏.‏
ہمیں اسود بن شیبان نے ابو نوافل سے خبردی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کے جسد خاکی ) کو شہر کی گھاٹی میں ( کھجور کے ایک تنے سے لٹکا ہوا ) دیکھا ، کہا : تو قریش اور دوسرے لوگوں نے وہاں سے گزرنا شروع کردیا ، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے تو وہ ان ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس کھڑے ہوگئے ، اور ( انھیں مخاطب کرتے ہوئے ) کہا : ابو خبیب!آپ پر سلام! ابو خبیب!آپ پر سلام! ابو خبیب!آپ پر سلام!اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ گواہ ہے کہ میں آپ کو اس سے روکتا تھا ، اللہ کی قسم!آپ ، جتنا مجھے علم ہے بہت روزے رکھنے والے ، بہت قیام کرنے والے ، بہت صلہ رحمی کرنے و الے تھے ۔ اللہ کی قسم!وہ امت جس میں آپ سب سے بُرے ( قرار دیے گئے ) ہوں ، وہ امت تو پوری کی پوری بہترین ہوگی ( جبکہ اس میں تو بڑے بڑے ظالم ، قاتل اور مجرم موجود ہیں ۔ آپ کسی طور پر اس سلوک کے مستحق نہ تھے ۔ ) پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے چلے گئے ۔ حجاج کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وہاں کھڑے ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے کارندے بھیجے ، ان ( کے جسدخاکی ) کو کھجور کے تنے سے اتارا گیا اور انھیں جاہلی دور کی یہود کی قبروں میں پھینک دیا گیا ، پھر اس نے ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کارندہ بھیجا ۔ انھوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کردیا ۔ اس نے دوبارہ قاصد بھیجا کہ یا تو تم میرے پاس آؤ گی یا پھر میں تمھارے پاس ان لوگوں کو بھیجو ں گا جو تمھیں تمھارے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے آئیں گے ۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پھر انکار کردیا اورفرمایا : میں ہرگز تیرے پاس نہ آؤں گی یہاں تک کہ تو میرے پاس ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لےجائے ۔ کہا : توحجاج کہنے لگا : مجھے میرے جوتے دکھاؤ ، اس نے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیزی سے چل پڑا ، یہاں تک کہ ان کے ہاں پہنچا اور کہا : تم نے مجھے دیکھا کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا؟انھوں نے جواب دیا : میں نے تمھیں دیکھا ہے کہ تم نے اس پر اس کی دنیا تباہ کردی جبکہ اس نے تمھاری آخرت برباد کردی ، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو اسے دو پیٹیوں والی کا بیٹا ( ابن ذات النطاقین ) کہتا ہے ۔ ہاں ، اللہ کی قسم!میں دو پیٹیوں والی ہوں ۔ ایک پیٹی کے ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کھانا سواری کے جانور پر باندھتی تھی اور دوسری پیٹی وہ ہے جس سے کوئی عورت مستغنی نہیں ہوسکتی ( سب کو لباس کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ) اور سنو!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ بنو ثقیف میں ایک بہت بڑا کذاب ہوگا اور ایک بہت بڑا سفاک ہوگا ۔ کذاب ( مختار ثقفی ) کو تو ہم نے دیکھ لیا اور رہا سفاک تو میں نہیں سمجھتی کہ تیرے علاوہ کوئی اورہوگا ، کہا : تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور انھیں کوئی جواب نہ دے سکا ۔
حدیث 6497 — صحيح مسلم 44:326
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنِ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ - أَوْ قَالَ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ - حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن اصم جزری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کا کوئی شخص ۔ ۔ ۔ یا آپ نے فرمایا ۔ ۔ ۔ فرزندان فارس میں سے کوئی شخص اس تک پہنچتا اور اسے حاصل کرلیتا ۔
حدیث 6498 — صحيح مسلم 44:327
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا قَرَأَ ‏{‏ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ‏}‏ قَالَ رَجُلٌ مَنْ هَؤُلاَءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا - قَالَ - وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ - قَالَ - فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلاَءِ ‏"‏ ‏.‏
ابو غیث نے حضرت ابو ہریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ نازل ہوئی اور آپ نے یہ پڑھا : ﴿ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا﴾ "" ان میں اور بھی لوگ ہیں جو اب تک آکر ان سے نہیں ملے ہیں ۔ "" ( الجمعۃ 62 : 3 ) تو ایک نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کون لوگ ہیں؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ اس نے آپ سے ایک یا دو یا تین بار سوال کیا ، کہا : اس وقت ہم میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہاتھ رکھا ، پھر فرمایا؛ "" اگر ایمان ثریا کے قریب بھی ہوتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کو حاصل کرلیتے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔