وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الآخِرَةِ " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا میں شراب پئے گا پھر اس سے توبہ نہ کرے گا تو آخرت میں شراب سے محروم رہے گا ۔
حدیث 1548 — موطأ مالك 42:12
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ، . أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا " . قَالَ لاَ . فَسَارَّهُ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ . فَقَالَ لَهُ صلى الله عليه وسلم " بِمَ سَارَرْتَهُ " . فَقَالَ أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا " . فَفَتَحَ الرَّجُلُ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا .
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے ایک مشک شراب کی تحفہ لایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کیا ہے وہ بولا مجھے خبر نہیں، ایک شخص نے چپکے سے اس کے کان میں کچھ کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تو نے کیا کہا؟ وہ بولا میں نے بیچ ڈالنے کو کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اس کا پینا حرام کیا اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا یہ سن کر اس شخص نے مشک کا منہ کھول دیا سب شراب بہہ گئی ۔
انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں ابوعیبد بن جراح اور ابی بن کعب کو شراب پلایا کرتا تھا کھجور اور خشک کھجور کی اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا شراب حرام ہوگئی، ابوطلحہ نے کہا اے انس اٹھو گھڑے پھوڑ دو میں اٹھا اور موسل سے مار کر سب گھڑوں کو پھوڑ دیا ۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب شام کی طرف آئے تو لوگوں نے وبا اور آب و ہوا کے بھاری ہونے کا بیان کیا اور کہا بغیر اس شراب کے ہمارا مزاج اچھا نہیں رہتا آپ نے کہاشہد پیو انہوں نے کہا شہد موافق نہیں ایک شخص بولا ہم اسی کو اس طرح تیار کریں جس میں نشہ نہ ہو آپ نے کہا ہاں، انہوں نے اس کو پکایا اتنا کہ ایک تہائی رہ گیا دو تہائی جل گیا اس کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لائے انہوں نے انگلی ڈالی جب وہ چَپ چَپ کرنے لگا آپ نے فرمایا یہ طلا تو اونٹ کے طلا کے مشابہ ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے پینے کی اجازت دی عبادہ بن صامت نے کہا آپ نے حلال کر دیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نہیں قسم اللہ کی یا اللہ میں نے کبھی اس چیز کو حلال نہیں کیا جس کو تو نے حرام کیا اور نہ حرام کیا جس کو تو نے حلال کیا ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے عراق کے لوگوں نے کہا ہم کھجور اور انگور کے پھل خریدتے ہیں پھر اس کی شراب بنا کر بیچتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو اور فرشتوں کو اور جو سنتے ہیں جن اور آدمی کہ میں اجازت نہیں دیتا تم کو بیچنے کی نہ خریدنے کی نہ نچوڑنے کی نہ پینے کی نہ پلانے کی کیونکہ شراب پلید ہے شیطان کا کام ہے۔