وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيَّ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَاسِعُ الدَّارِ فَمُرْنِي لَيْلَةً أَنْزِلُ لَهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ " .
ابو النصر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن انیس جہنی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا گھر دور ہے تو ایک رات مقرر کیجئے کہ اس رات میں اس مسجد میں رہوں اور عبادت کروں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسویں شب کو رمضان میں
انس بن مالک سے روایت ہے کہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اور فرمایا کہ مجھے شب قدر معلوم ہوگئی تھی مگر دو آدمیوں نے غل مچایا تو میں بھول گیا پس ڈھونڈو اس کو اکیسویں تئیسویں ، اور پچیسویں شب میں یا انتیسویں اور ستائیسویں میں ۔
حدیث 702 — موطأ مالك 19:13
صحیح
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رِجَالاً، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ " .
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رِجَالاً، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ " .
امام مالک کو پہنچا کہ چند صحابہ نے شب قدر کو دیکھا خواب میں رمضان کی اخیر سات راتوں میں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں دیکھتا ہوں کہ خواب تمہارا موافق ہوا میرے خواب کے رمضان کی اخیر سات راتوں میں سو جو کوئی تم میں سے شب قدر کو ڈھونڈنا چاہے تو ڈھونڈے اخیر کی سات راتوں میں ۔ امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک معتبر شخص سے اہل علم میں سے کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائیں گئیں جتنا اللہ کو منظور تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی عمروں کو کم سمجھا اور خیال کیا کہ یہ لوگ ان کے برابر عمل نہ کر سکیں گے پس دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شب قدر جو بہتر ہے ہزار مہینے سے ۔ امام مالک کو پہنچا سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص حاضر ہو عشاء کی جماعت میں شب قدر کو تو اس نے ثواب شب قدر کا حاصل کر لیا