قرآني·Qurani
اردو

البيوع

96 احادیث · #1290–1385

حدیث 1300 — موطأ مالك 31:11
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تُزْهِي فَقَالَ ‏"‏ حِينَ تَحْمَرُّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ‏"‏ ‏.‏
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ خوش رنگ ہو جائیں لوگوں نے کہا اس سے کیا مراد ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرخ یا زرد ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اگر اللہ ان پھلوں کو پکنے نہ دے تو کس چیز کے بدلے میں تم میں سے کوئی اپنی بھائی کا مال لے گا ۔
حدیث 1301 — موطأ مالك 31:12
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَبَيْعُ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا مِنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پھلوں کی بیع سے یہاں تک کہ آفت کا خوف جاتا رہے ۔
حدیث 1302 — موطأ مالك 31:13
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ كَانَ لاَ يَبِيعُ ثِمَارَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا ‏.‏
زید بن ثابت اپنے پھلوں کو اس وقت بیچتے جب ثریا کے تارے نکل آتے ۔ کہا مالک نے خربوزہ اور ککڑی اور گا جر کا بیچنا درست ہے جب ان کو بہتری کا حال معلوم ہو جائے پھر جو کچھ اگیں وہ فصل کے تمام ہونے تک مشتری (خریدنے والا) کے ہوں گے اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہر جگہ کے دستور اور رواج کے موافق حکم ہوگا اگر قبل اس وقت کے کسی آفت کے سبب نقصان ہو تہائی مال تک تو مشتری (خریدنے والا) کو وہ نقصان مجرادیا جائے گا تہائی سے کم اگر نقصان ہو تو مجرانہ دیا جائے گا۔
حدیث 1303 — موطأ مالك 31:14
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا ‏.‏
زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی عریہ والے اپنا میوہ بیچنے کی اٹکل سے ۔
حدیث 1304 — موطأ مالك 31:15
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ‏.‏ يَشُكُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی عریوں کے بیچنے کی اٹکل سے بشرطیکہ پانچ وسق سے کم ہوں یا پانچ وسق کے اندر ہوں ۔ کہا مالک نے عریہ کا اندازہ درختوں پر کر لیا جائے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز رکھا یہ تولیہ یا اقالہ یا شرکت کے مثل ہے اگر یہ اور بیعوں کے مثل ہوتا تو کھانے کی چیزوں کا تولیہ یا اقالہ یا شرکت قبل قبضے کے نا درست ہے یہ بھی درست نہ ہوتا۔
حدیث 1305 — موطأ مالك 31:16
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ، ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ لَهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَفْعَلَ فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَأَلَّى أَنْ لاَ يَفْعَلَ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ لَهُ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے باغ کے پھل خریدے اور اس کی درستی میں مصروف ہوا مگر ایسی آفت آئی جس سے نقصان معلوم ہوا تو باغ کے مالک سے کہا یا تو پھلوں کی قیمت کچھ کم کر دو یا اس بیع کو فسخ کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریداری کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریدار کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آن کر یہ سب قصہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا قسم کھالی اس نے کہ میں یہ بہتری کا کام نہ کروں گا جب مالک باغ کو یہ خبر پہنچی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا خریدار کہے وہ مجھ کو منظور ہے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا مشتری (خریدنے والا) کو نقصان دلانے کا جب کھیت یا میوے کو آفت پہنچے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس آفت سے تہائی مال یا زیادہ نقصان ہوا ہو اگر اس سے کم نقصان ہوگا اس کا شمار نہیں ۔
حدیث 1306 — موطأ مالك 31:17
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَضَى بِوَضْعِ الْجَائِحَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْجَائِحَةُ الَّتِي تُوضَعُ عَنِ الْمُشْتَرِي الثُّلُثُ فَصَاعِدًا وَلاَ يَكُونُ مَا دُونَ ذَلِكَ جَائِحَةً ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَضَى بِوَضْعِ الْجَائِحَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْجَائِحَةُ الَّتِي تُوضَعُ عَنِ الْمُشْتَرِي الثُّلُثُ فَصَاعِدًا وَلاَ يَكُونُ مَا دُونَ ذَلِكَ جَائِحَةً ‏.‏
حدیث 1307 — موطأ مالك 31:18
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، كَانَ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْهُ ‏.‏
قاسم بن محمد اپنے باغ کے میووں کو بیچتے پھر اس میں سے کچھ مستثنی کر لیتے ۔
حدیث 1308 — موطأ مالك 31:19
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ جَدَّهُ، مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ بَاعَ ثَمَرَ حَائِطٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ الأَفْرَاقُ بِأَرْبَعَةِ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَاسْتَثْنَى مِنْهُ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ تَمْرًا ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ان کے دادا محمد بن عمرہ بن حزم نے اپنے باغ کا میوہ بیچا چار ہزار درہم کو اس میں سے آٹھ سو درہم کے کھجور مستثنی کر لئے اس باغ کا نام افرق تھا ۔
حدیث 1309 — موطأ مالك 31:20
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّ أُمَّهُ، عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ تَبِيعُ ثِمَارَهَا وَتَسْتَثْنِي مِنْهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا بَاعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ أَنَّ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ثُلُثِ الثَّمَرِ لاَ يُجَاوِزُ ذَلِكَ وَمَا كَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَلاَ بَأْسَ بِذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الرَّجُلُ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ ثَمَرَ نَخْلَةٍ أَوْ نَخَلاَتٍ يَخْتَارُهَا وَيُسَمِّي عَدَدَهَا فَلاَ أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا لأَنَّ رَبَّ الْحَائِطِ إِنَّمَا اسْتَثْنَى شَيْئًا مِنْ ثَمَرِ حَائِطِ نَفْسِهِ وَإِنَّمَا ذَلِكَ شَىْءٌ احْتَبَسَهُ مِنْ حَائِطِهِ وَأَمْسَكَهُ لَمْ يَبِعْهُ وَبَاعَ مِنْ حَائِطِهِ مَا سِوَى ذَلِكَ ‏.‏
عمرہ بنت عبدالرحمن اپنے پھلوں کو بیچتیں اور اس میں سے کچھ نکال لیتیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو آدمی اپنے باغ کا میوہ بچے اس کو اختیار ہے کہ تہائی مال تک مستثنیٰ کرے اس سے زیادہ درست نہیں اور جو سارے باغ میں سے ایک درخت یا درخت کے پھل مستثنی کرلے اور اس کو معین کر دے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے کیونکہ گویا مالک نے سوائے ان درختوں کے باقی کو بیچا اور ان کو نہ بیچا اس امر کا مالک کو اختیار ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔