قرآني·Qurani
اردو

البيوع

96 احادیث · #1290–1385

حدیث 1320 — موطأ مالك 31:31
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَدِّهِ، مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلاَ الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَدِّهِ، مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلاَ الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
حدیث 1321 — موطأ مالك 31:32
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا أَرَى بِمِثْلِ هَذَا بَأْسًا ‏.‏ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ أَنَا أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ لاَ أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا ‏.‏ ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنْ لاَ تَبِيعَ ذَلِكَ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ ‏.‏
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے ایک برتن پانی پینے کا سونے یا چاندی کا اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے بدلے میں بیچا تو ابوالدردا نے ان سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع کرتے تھے مگر برابر برابر بیچنا درست رکھتے تھے معاویہ نے کہا میرے نزدیک کچھ قباحت نہیں ہے ابوالدردا نے کہا بھلا کان میرے عذر قبول کرے گا اگر میں معاویہ کو اس بدلہ دوں میں تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور وہ مجھ سے اپنی رائے بیان کرتے ہیں اب میں تمہارے ملک میں نہ رہوں گا پھر ابودردا مدینہ میں حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے یہ قصہ بیان کیا حضرت عمر نے معاویہ کو لکھا کہ ایسی بیع نہ کریں مگر برابر تول کر۔
حدیث 1322 — موطأ مالك #1322
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالذَّهَبِ أَحَدُهُمَا غَائِبٌ وَالآخَرُ نَاجِزٌ وَإِنِ اسْتَنْظَرَكَ إِلَى أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلاَ تُنْظِرْهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا ‏.‏
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص کوئی میوہ تر یا خشک خریدے اس کو نہ بیچے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرلے اور میوے کو میوے سے بدلیں اگر بیچے تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور جو میوہ لیا ایسا ہے کہ سوکھا کر کھایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے اس کو اگر میوے کے بدلے میں بیچے اور ایک جنس ہو تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور برابر بیچے کمی بیشی اس میں درست نہیں البتہ اگر جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد بیچنا چاہیے اس میں میعاد لگانا درست نہیں اور جو میوہ سوکھایا نہیں جاتا بلکہ تر کھایا جاتا ہے ۔ جیسے خربوزہ ککڑی ، ترنج ، کیلا، گا جر، انار وغیرہ اس کو ایک دوسرے کے بدلے میں اگرچہ جنس ایک ہو کمی بیشی کے ساتھ بھی درست ہے جب اس میں میعاد نہ ہو نقدا نقد ہو۔
حدیث 1323 — موطأ مالك 31:34
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلاَ تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ‏.‏ وَإِنِ اسْتَنْظَرَكَ إِلَى أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلاَ تُنْظِرْهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا ‏.‏
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا بیچو سونے کو سونے کے مگر برابر برابر نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو دوسرا وعدہ پر بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے تو اتنی بھی اجازت مت دے میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا ۔ حضرت عمر نے کہا ایک دینار بدلے میں ایک دینار کے چاہے ایک درہم بدلے میں ایک درہم کے اور ایک صاع بدلے میں ایک صاع کے اور نہ بیچو نقد بدلے میں وعدے کے ۔
حدیث 1324 — موطأ مالك 31:35
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالصَّاعُ بِالصَّاعِ وَلاَ يُبَاعُ كَالِئٌ بِنَاجِزٍ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالصَّاعُ بِالصَّاعِ وَلاَ يُبَاعُ كَالِئٌ بِنَاجِزٍ ‏.‏
حدیث 1325 — موطأ مالك 31:36
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ لاَ رِبًا إِلاَّ فِي ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ بِمَا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے نہیں ربا ہے مگر سونے میں یا چاندی میں یا جو چیز ناپ تول کر بکتی ہے کھانے پینے کی ۔
حدیث 1326 — موطأ مالك 31:37
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ قَطْعُ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ مِنَ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا إِذَا كَانَ تِبْرًا أَوْ حَلْيًا قَدْ صِيغَ فَأَمَّا الدَّرَاهِمُ الْمَعْدُودَةُ وَالدَّنَانِيرُ الْمَعْدُودَةُ فَلاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَشْتَرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا حَتَّى يُعْلَمَ وَيُعَدَّ فَإِنِ اشْتُرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا فَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ الْغَرَرُ حِينَ يُتْرَكُ عَدُّهُ وَيُشْتَرَى جِزَافًا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَّا مَا كَانَ يُوزَنُ مِنَ التِّبْرِ وَالْحَلْىِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُبَاعَ ذَلِكَ جِزَافًا وَإِنَّمَا ابْتِيَاعُ ذَلِكَ جِزَافًا كَهَيْئَةِ الْحِنْطَةِ وَالتَّمْرِ وَنَحْوِهِمَا مِنَ الأَطْعِمَةِ الَّتِي تُبَاعُ جِزَافًا وَمِثْلُهَا يُكَالُ فَلَيْسَ بِابْتِيَاعِ ذَلِكَ جِزَافًا بَأْسٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنِ اشْتَرَى مُصْحَفًا أَوْ سَيْفًا أَوْ خَاتَمًا وَفِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ ذَهَبٌ أَوْ فِضَّةٌ بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فَإِنَّ مَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ وَفِيهِ الذَّهَبُ بِدَنَانِيرَ فَإِنَّهُ يُنْظَرُ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنَ الذَّهَبِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلاَ يَكُونُ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَمَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ بِالْوَرِقِ مِمَّا فِيهِ الْوَرِقُ نُظِرَ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنَ الْوَرِقِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ عِنْدَنَا ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے روپیہ اشرفی کا کانٹا گویا ملک میں فساد کرنا ہے ۔ کہا امام مالک رحمة اللہ علیہ نے اگر سونے کو چاندی کے بدلے میں یا چاندی کو سونے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب وہ ڈلی ہوں یا زیور ہوں لیکن روپے اشرفی کا خریدنا بغیر گنے ہوئے جائز نہیں بلکہ اس میں دھوکا ہے اور مسلمانوں کے دستور کے خلاف ہے لیکن سونے چاندی کا ڈلا یا زیور جو تل کے بکتا ہے اس کو اٹکل سے خریدنا جیسے گیہوں یا کھجور وغیرہ کو خریدتے ہیں برا نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کلام مجید یا تلوار یا انگوٹھی جس میں سونا یا چاندی لگا ہو روپے اشرفی کے بدلے میں خرید کرے تو دیکھیں گے اگر ان چیزوں میں سونا لگا ہوا ہے اور اشرفیوں کے بدلے میں اس کو خرید کیا اور اس چیز کی قیمت دو ثلث سے کم نہیں ہے اور جس قدر سونا اس میں لگا ہوا ہے اس کی قیمت ایک ثلث سے زیادہ نہیں ہے تو درست ہے جب نقدا نقد ہو اسی طرح اگر چاندی لگی ہوئی ہے اور روپیوں کے بدلے میں خرید کیا تب بھی یہی حکم ہے۔
حدیث 1327 — موطأ مالك 31:38
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ، أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ قَالَ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ حَتَّى يَأْتِيَنِي خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ ‏.‏ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لاَ تُفَارِقْهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ - ثُمَّ قَالَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏
مالک بن اوس نے کہا مجھے حاجت ہوئی سو دینار کے درہم لینے کی تو مجھے بلایا طلحہ بن عبیداللہ نے پھر ہم دونوں راضی ہوئے صرف کے اوپر اور انہوں نے دینار مجھ سے لے لئے اور ہاتھ سے لٹ پلٹ کرنے لگے اور کہا صبر کرو یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ آ جائے حضرت عمر نے یہ سن کر کہا نہیں قسم اللہ کی مت چھوڑنا طلحہ کو بغیر روپے لئے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کا بیچنا چاندی کے بدلے میں ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور گہیوں بدلے گیہوں کے بیچنا ربا ہے مگر نقدا نقد اور کھجور بدلے کھجور کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور جو بدلے جو کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور نمک بدلے نمک کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے روپے اشرفیوں کے بدلے میں لئے پھر اس میں ایک روپیہ کھوٹا نکلا اب اس کو پھیرنا چاہے تو سب اشرفیاں اپنی پھیر لے اور سب روپے اس کے واپس دے دے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا بدلے میں چاندی کے ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور حضرت عمر نے فرمایا اگر تجھ سے اپنے گھر جانے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دے اگر ایک روپیہ اس کو پھیر دے گا اور اس سے جدا ہو جائے گا تو مثل دین کے یا میعاد کے ہو جائے گا اسی واسطے یہ مکروہ ہے خود اس بیع کو توڑ ڈالنا چاہیے کہ ایک طرف نقد ہو دوسرے طرف وعدہ خواہ ایک جنس یا کئی جنس ہوں ۔
حدیث 1328 — موطأ مالك 31:39
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّهُ رَأَى سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُرَاطِلُ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ فَيُفْرِغُ ذَهَبَهُ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَيُفْرِغُ صَاحِبُهُ الَّذِي يُرَاطِلُهُ ذَهَبَهُ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ الأُخْرَى فَإِذَا اعْتَدَلَ لِسَانُ الْمِيزَانِ أَخَذَ وَأَعْطَى ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ مُرَاطَلَةً أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ أَنْ يَأْخُذَ أَحَدَ عَشَرَ دِينَارًا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ يَدًا بِيَدٍ إِذَا كَانَ وَزْنُ الذَّهَبَيْنِ سَوَاءً عَيْنًا بِعَيْنٍ وَإِنْ تَفَاضَلَ الْعَدَدُ وَالدَّرَاهِمُ أَيْضًا فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الدَّنَانِيرِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنْ رَاطَلَ ذَهَبًا بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقًا بِوَرِقٍ فَكَانَ بَيْنَ الذَّهَبَيْنِ فَضْلُ مِثْقَالٍ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ قِيمَتَهُ مِنَ الْوَرِقِ أَوْ مِنْ غَيْرِهَا فَلاَ يَأْخُذُهُ فَإِنَّ ذَلِكَ قَبِيحٌ وَذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا لأَنَّهُ إِذَا جَازَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ الْمِثْقَالَ بِقِيمَتِهِ حَتَّى كَأَنَّهُ اشْتَرَاهُ عَلَى حِدَتِهِ جَازَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ الْمِثْقَالَ بِقِيمَتِهِ مِرَارًا لأَنْ يُجِيزَ ذَلِكَ الْبَيْعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ صَاحِبِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَوْ أَنَّهُ بَاعَهُ ذَلِكَ الْمِثْقَالَ مُفْرَدًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ لَمْ يَأْخُذْهُ بِعُشْرِ الثَّمَنِ الَّذِي أَخَذَهُ بِهِ لأَنْ يُجَوِّزَ لَهُ الْبَيْعَ فَذَلِكَ الذَّرِيعَةُ إِلَى إِحْلاَلِ الْحَرَامِ وَالأَمْرُ الْمَنْهِيُّ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يُرَاطِلُ الرَّجُلَ وَيُعْطِيهِ الذَّهَبَ الْعُتُقَ الْجِيَادَ وَيَجْعَلُ مَعَهَا تِبْرًا ذَهَبًا غَيْرَ جَيِّدَةٍ وَيَأْخُذُ مِنْ صَاحِبِهِ ذَهَبًا كُوفِيَّةً مُقَطَّعَةً وَتِلْكَ الْكُوفِيَّةُ مَكْرُوهَةٌ عِنْدَ النَّاسِ فَيَتَبَايَعَانِ ذَلِكَ مِثْلاً بِمِثْلٍ إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ صَاحِبَ الذَّهَبِ الْجِيَادِ أَخَذَ فَضْلَ عُيُونِ ذَهَبِهِ فِي التِّبْرِ الَّذِي طَرَحَ مَعَ ذَهَبِهِ وَلَوْلاَ فَضْلُ ذَهَبِهِ عَلَى ذَهَبِ صَاحِبِهِ لَمْ يُرَاطِلْهُ صَاحِبُهُ بِتِبْرِهِ ذَلِكَ إِلَى ذَهَبِهِ الْكُوفِيَّةِ فَامْتَنَعَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَ ثَلاَثَةَ أَصْوُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ بِصَاعَيْنِ وَمُدٍّ مِنْ تَمْرٍ كَبِيسٍ فَقِيلَ لَهُ هَذَا لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ فَجَعَلَ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ وَصَاعًا مِنْ حَشَفٍ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ بَيْعَهُ فَذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُ الْعَجْوَةِ لِيُعْطِيَهُ صَاعًا مِنَ الْعَجْوَةِ بِصَاعٍ مِنْ حَشَفٍ وَلَكِنَّهُ إِنَّمَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ لِفَضْلِ الْكَبِيسِ أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ بِعْنِي ثَلاَثَةَ أَصْوُعٍ مِنَ الْبَيْضَاءِ بِصَاعَيْنِ وَنِصْفٍ مِنْ حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ فَيَقُولُ هَذَا لاَ يَصْلُحُ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏.‏ فَيَجْعَلُ صَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ وَصَاعًا مِنْ شَعِيرٍ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ الْبَيْعَ فِيمَا بَيْنَهُمَا فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيُعْطِيَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ بَيْضَاءَ لَوْ كَانَ ذَلِكَ الصَّاعُ مُفْرَدًا وَإِنَّمَا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ لِفَضْلِ الشَّامِيَّةِ عَلَى الْبَيْضَاءِ فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ وَهُوَ مِثْلُ مَا وَصَفْنَا مِنَ التِّبْرِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَكُلُّ شَىْءٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالطَّعَامِ كُلِّهِ الَّذِي لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُبَاعَ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَلاَ يَنْبَغِي أَنْ يُجْعَلَ مَعَ الصِّنْفِ الْجَيِّدِ مِنَ الْمَرْغُوبِ فِيهِ الشَّىْءُ الرَّدِيءُ الْمَسْخُوطُ لِيُجَازَ الْبَيْعُ وَلِيُسْتَحَلَّ بِذَلِكَ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الأَمْرِ الَّذِي لاَ يَصْلُحُ إِذَا جُعِلَ ذَلِكَ مَعَ الصِّنْفِ الْمَرْغُوبِ فِيهِ وَإِنَّمَا يُرِيدُ صَاحِبُ ذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ بِذَلِكَ فَضْلَ جَوْدَةِ مَا يَبِيعُ فَيُعْطِيَ الشَّىْءَ الَّذِي لَوْ أَعْطَاهُ وَحْدَهُ لَمْ يَقْبَلْهُ صَاحِبُهُ وَلَمْ يَهْمُمْ بِذَلِكَ وَإِنَّمَا يَقْبَلُهُ مِنْ أَجْلِ الَّذِي يَأْخُذُ مَعَهُ لِفَضْلِ سِلْعَةِ صَاحِبِهِ عَلَى سِلْعَتِهِ فَلاَ يَنْبَغِي لِشَىْءٍ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالطَّعَامِ أَنْ يَدْخُلَهُ شَىْءٌ مِنْ هَذِهِ الصِّفَةِ فَإِنْ أَرَادَ صَاحِبُ الطَّعَامِ الرَّدِيءِ أَنْ يَبِيعَهُ بِغَيْرِهِ فَلْيَبِعْهُ عَلَى حِدَتِهِ وَلاَ يَجْعَلْ مَعَ ذَلِكَ شَيْئًا فَلاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ ‏.‏
یزید بن عبداللہ بن قسیط نے کہا سعید بن مسیب کو دیکھا جب سونے کو سونے کے بدلے میں بیچتے تو اپنے سونے کو ایک پلہ میں رکھتے اور دوسرا شخص اپنے سونے کو دوسرے پلے میں رکھتا جب ترازو کا کاٹنا برابر ہو جاتا تو دوسرے کا سونا لے لیتا اور اپنا سونا دے دیتے۔ کہا مالک نے جو شخص سونے کو سونے کے بدلے میں تول کر بیچے تو کچھ قباحت نہیں اگرچہ ایک پلڑے میں گیارہ دینار چڑھیں اور دوسری طرف دس دینار جب نقدا نقد ہوں اور وزن برابر ہو اگرچہ شمار میں کم زیادہ ہوں ایسا ہی دراہم کا حکم ہے۔
حدیث 1329 — موطأ مالك 31:40
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ‏"‏ ‏.‏
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ‏"‏ ‏.‏
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔