قرآني·Qurani
اردو

البيوع

96 احادیث · #1290–1385

حدیث 1340 — موطأ مالك 31:2
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ فَنِيَ عَلَفُ حِمَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ لِغُلاَمِهِ خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِكَ فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلاَ تَأْخُذْ إِلاَّ مِثْلَهُ ‏.‏
سلیمان بن یسار نے کہا سعد بن ابی وقاص کے گدھے کا چارہ تمام ہو گیا انہوں نے اپنے غلام سے کہا گھر میں سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جو تلوا لا زیادہ مت لیجیو۔
حدیث 1341 — موطأ مالك 31:3
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَنِيَ عَلَفُ دَابَّتِهِ فَقَالَ لِغُلاَمِهِ خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِكَ طَعَامًا فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلاَ تَأْخُذْ إِلاَّ مِثْلَهُ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَنِيَ عَلَفُ دَابَّتِهِ فَقَالَ لِغُلاَمِهِ خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِكَ طَعَامًا فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلاَ تَأْخُذْ إِلاَّ مِثْلَهُ ‏.‏
حدیث 1342 — موطأ مالك 31:4
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ مُعَيْقِيبٍ الدَّوْسِيِّ، مِثْلُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنْ لاَ تُبَاعَ الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَلاَ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَلاَ الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ وَلاَ التَّمْرُ بِالزَّبِيبِ وَلاَ الْحِنْطَةُ بِالزَّبِيبِ وَلاَ شَىْءٌ مِنَ الطَّعَامِ كُلِّهِ إِلاَّ يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ الأَجَلُ لَمْ يَصْلُحْ وَكَانَ حَرَامًا وَلاَ شَىْءَ مِنَ الأُدْمِ كُلِّهَا إِلاَّ يَدًا بِيَدٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يُبَاعُ شَىْءٌ مِنَ الطَّعَامِ وَالأُدْمِ إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ فَلاَ يُبَاعُ مُدُّ حِنْطَةٍ بِمُدَّىْ حِنْطَةٍ وَلاَ مُدُّ تَمْرٍ بِمُدَّىْ تَمْرٍ وَلاَ مُدُّ زَبِيبٍ بِمُدَّىْ زَبِيبٍ وَلاَ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْحُبُوبِ وَالأُدْمِ كُلِّهَا إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ وَإِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ إِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ لاَ يَحِلُّ فِي شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ الْفَضْلُ وَلاَ يَحِلُّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا اخْتَلَفَ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ مِمَّا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ فَبَانَ اخْتِلاَفُهُ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ وَصَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ زَبِيبٍ وَصَاعٌ مِنْ حِنْطَةٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ سَمْنٍ فَإِذَا كَانَ الصِّنْفَانِ مِنْ هَذَا مُخْتَلِفَيْنِ فَلاَ بَأْسَ بِاثْنَيْنِ مِنْهُ بِوَاحِدٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ الأَجَلُ فَلاَ يَحِلُّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ تَحِلُّ صُبْرَةُ الْحِنْطَةِ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ وَلاَ بَأْسَ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ بِصُبْرَةِ التَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ وَذَلِكَ أَنَّهُ لاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ جِزَافًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكُلُّ مَا اخْتَلَفَ مِنَ الطَّعَامِ وَالأُدْمِ فَبَانَ اخْتِلاَفُهُ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى بَعْضُهُ بِبَعْضٍ جِزَافًا يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَهُ الأَجَلُ فَلاَ خَيْرَ فِيهِ وَإِنَّمَا اشْتِرَاءُ ذَلِكَ جِزَافًا كَاشْتِرَاءِ بَعْضِ ذَلِكَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ جِزَافًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَنَّكَ تَشْتَرِي الْحِنْطَةَ بِالْوَرِقِ جِزَافًا وَالتَّمْرَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا فَهَذَا حَلاَلٌ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ صَبَّرَ صُبْرَةَ طَعَامٍ وَقَدْ عَلِمَ كَيْلَهَا ثُمَّ بَاعَهَا جِزَافًا وَكَتَمَ الْمُشْتَرِي كَيْلَهَا فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ فَإِنْ أَحَبَّ الْمُشْتَرِي أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ الطَّعَامَ عَلَى الْبَائِعِ رَدَّهُ بِمَا كَتَمَهُ كَيْلَهُ وَغَرَّهُ وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا عَلِمَ الْبَائِعُ كَيْلَهُ وَعَدَدَهُ مِنَ الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ ثُمَّ بَاعَهُ جِزَافًا وَلَمْ يَعْلَمِ الْمُشْتَرِي ذَلِكَ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ عَلَى الْبَائِعِ رَدَّهُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ خَيْرَ فِي الْخُبْزِ قُرْصٍ بِقُرْصَيْنِ وَلاَ عَظِيمٍ بِصَغِيرٍ إِذَا كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ أَكْبَرَ مِنْ بَعْضٍ فَأَمَّا إِذَا كَانَ يَتَحَرَّى أَنْ يَكُونَ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يُوزَنْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَصْلُحُ مُدُّ زُبْدٍ وَمُدُّ لَبَنٍ بِمُدَّىْ زُبْدٍ وَهُوَ مِثْلُ الَّذِي وَصَفْنَا مِنَ التَّمْرِ الَّذِي يُبَاعُ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ وَصَاعًا مِنْ حَشَفٍ بِثَلاَثَةِ أَصْوُعٍ مِنْ عَجْوَةٍ حِينَ قَالَ لِصَاحِبِهِ إِنَّ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ بِثَلاَثَةِ أَصْوُعٍ مِنَ الْعَجْوَةِ لاَ يَصْلُحُ ‏.‏ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُجِيزَ بَيْعَهُ وَإِنَّمَا جَعَلَ صَاحِبُ اللَّبَنِ اللَّبَنَ مَعَ زُبْدِهِ لِيَأْخُذَ فَضْلَ زُبْدِهِ عَلَى زُبْدِ صَاحِبِهِ حِينَ أَدْخَلَ مَعَهُ اللَّبَنَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالدَّقِيقُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ لاَ بَأْسَ بِهِ وَذَلِكَ لأَنَّهُ أَخْلَصَ الدَّقِيقَ فَبَاعَهُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلَوْ جَعَلَ نِصْفَ الْمُدِّ مِنْ دَقِيقٍ وَنِصْفَهُ مِنْ حِنْطَةٍ فَبَاعَ ذَلِكَ بِمُدٍّ مِنْ حِنْطَةٍ كَانَ ذَلِكَ مِثْلَ الَّذِي وَصَفْنَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ فَضْلَ حِنْطَتِهِ الْجَيِّدَةِ حَتَّى جَعَلَ مَعَهَا الدَّقِيقَ فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ ‏.‏
عبدالرحمن بن اسود کے جانور کا چارہ تمام ہو گیا انہوں نے اپنے غلام سے کہا گھر سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جو تلوا لا ۔ ابن معیقب دوسری سے بھی ایسا ہی مروی ہے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نہ بیچا جائے گا گیہوں بدلے میں گیہوں کے اور کھجور بدلے کھجور کے اور گیہوں بدلے میں کھجور کے اور کھجور بدلے میں انگور کے مگر نقدا نقد کسی طرف میعاد نہ ہو اگر میعاد ہوگی تو حرام ہو جائے گا اسی طرح جتنی چیزیں روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ بدلے تو نقدا نقد لے۔ کہا مالک نے جتنی کھانے کی چیزیں ہیں یا روٹی کے ساتھ لگانے کی جب جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں ۔ مثلا ایک مد گیہوں کو دو مد گیہوں کے بدلے میں یا ایک مد کھجور کو دو مد کھجور کے بدلے میں یا ایک مد انگور کو دو مد انگور کے بدلے میں نہ بیچیں گے اسی طرح جو چیزیں ان کے مشابہ ہیں کھانے کی یا روٹی کے ساتھ لگانے کی جب ان کی جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں اگرچہ نقدا نقد ہو جیسے کوئی چاندی کو چاندی کے بدلے میں اور سونے کو سونے کے بدلے میں اور بیچے تو کمی بیشی درست نہیں بلکہ ان سب چیزوں میں ضروری ہے کہ برابر ہوں ۔ اور نقدا نقد ہوں ۔ کہا مالک نے جب جنس میں اختلاف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا چاہیے جیسے کوئی ایک صاع کھجور کو دو صاع گیہوں کے بدلے میں یا ایک صاع کھجور کو دو صاع انگور کے بدلے یا ایک صاع گیہوں کے دو صاع گھی کے بدلے میں خریدے تو کچھ قباحت نہیں جب نقدا نقد ہوں میعاد نہ ہو اگر میعاد ہوگی تو درست نہیں ۔ کہا مالک نے یہ درست نہیں کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر دوسرا گیہوں کا بورا اس کے بدلے میں لے یہ درست ہے کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر کھجور کا بورا اس کے بدلے میں لے نقدا نقد کیونکہ کھجور کو گیہوں کے بدلے میں ڈھیر لگا کر اٹکل سے بیچنا درست ہے۔ کہا مالک نے جتنی چیزیں کھانے کی یا روٹی کے ساتھ لگانے کی ہیں جب ان میں جنس مختلف ہو تو ایک دوسرے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر بیچنا درست ہے جب نقدا نقد ہو اگر اس میں میعاد ہو تو درست نہیں جیسے کوئی چاندی سونے کے بدلے میں ان چیزوں کا ڈھیر لگا کر بیچے تو درست ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے گیہوں تول کر ایک ڈھیر بنایا اور وزن چھپا کر کسی کے ہاتھ یبچا تو یہ درست نہیں ۔ اگر مشتری (خریدنے والا) یہ چاہے کہ وہ گیہوں بائع (بچنے والا) کو واپس کر دے اس وجہ سے کہ بائع (بچنے والا) نے دیا ہو دانستہ وزن کو اس سے چھپایا اور دھوکا دیا تو ہو سکتا ہے اسی طرح جو چیز بائع (بچنے والا) وزن چھپا کر بیچے تو مشتری (خریدنے والا) کا اس کے پھیر دینے کا اختیار ہے اور ہمیشہ اہل علم اس بیع کو منع کرتے رہے۔ کہا مالک نے ایک روٹی کو دو روٹیوں سے بدلنا یا بڑی روٹی کو چھوٹی روٹی سے بدلنا اچھا نہیں البتہ اگر روٹی کو دوسری روٹی کے برابر سمجھے تو بدلنا درست ہے اگرچہ وزن نہ کرے۔ کہا مالک نے ایک مدزبد اور ایک مدلبن کو دو مدزبد کے بدلے میں لینا درست نہیں کیونکہ اس نے اپنے زبد کی عمدگی لبن کے شریک کرکے برابر کرلی اگر علیحدہ لبن کو بیچتا تو کبھی ایک صاع لبن کے بدلے میں ایک صاع زبد نہ آتی۔ اس قسم کا مسئل اوپر بیان ہوچکا۔ سعید بن مسیب سے محمد بن عبداللہ بن مریم نے پوچھا میں غلہ خرید کرتا ہوں جار کا تو کبھی میں ایک دینار اور نصف درہم کو خرید کرتا ہوں کیا نصف درہم کے بدلے میں اناج دے دوں سعید نے کہا نہیں بلکہ ایک درہم دے دے اور جس قدر باقی رہے اس کے بدلے میں بھی اناج لے لے ۔
حدیث 1343 — موطأ مالك 31:5
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ الطَّعَامَ يَكُونُ مِنَ الصُّكُوكِ بِالْجَارِ فَرُبَّمَا ابْتَعْتُ مِنْهُ بِدِينَارٍ وَنِصْفِ دِرْهَمٍ فَأُعْطَى بِالنِّصْفِ طَعَامًا ‏.‏ فَقَالَ سَعِيدٌ لاَ وَلَكِنْ أَعْطِ أَنْتَ دِرْهَمًا وَخُذْ بَقِيَّتَهُ طَعَامًا ‏.‏
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ الطَّعَامَ يَكُونُ مِنَ الصُّكُوكِ بِالْجَارِ فَرُبَّمَا ابْتَعْتُ مِنْهُ بِدِينَارٍ وَنِصْفِ دِرْهَمٍ فَأُعْطَى بِالنِّصْفِ طَعَامًا ‏.‏ فَقَالَ سَعِيدٌ لاَ وَلَكِنْ أَعْطِ أَنْتَ دِرْهَمًا وَخُذْ بَقِيَّتَهُ طَعَامًا ‏.‏
حدیث 1344 — موطأ مالك 31:6
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، كَانَ يَقُولُ لاَ تَبِيعُوا الْحَبَّ فِي سُنْبُلِهِ حَتَّى يَبْيَضَّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَلَمَّا حَلَّ الأَجَلُ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِصَاحِبِهِ لَيْسَ عِنْدِي طَعَامٌ فَبِعْنِي الطَّعَامَ الَّذِي لَكَ عَلَىَّ إِلَى أَجَلٍ ‏.‏ فَيَقُولُ صَاحِبُ الطَّعَامِ هَذَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يُسْتَوْفَى ‏.‏ فَيَقُولُ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِغَرِيمِهِ فَبِعْنِي طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ حَتَّى أَقْضِيَكَهُ ‏.‏ فَهَذَا لاَ يَصْلُحُ لأَنَّهُ إِنَّمَا يُعْطِيهِ طَعَامًا ثُمَّ يَرُدُّهُ إِلَيْهِ ‏.‏ فَيَصِيرُ الذَّهَبُ الَّذِي أَعْطَاهُ ثَمَنَ الَّذِي كَانَ لَهُ عَلَيْهِ وَيَصِيرُ الطَّعَامُ الَّذِي أَعْطَاهُ مُحَلَّلاً فِيمَا بَيْنَهُمَا وَيَكُونُ ذَلِكَ إِذَا فَعَلاَهُ بَيْعَ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ لَهُ عَلَى رَجُلٍ طَعَامٌ ابْتَاعَهُ مِنْهُ وَلِغَرِيمِهِ عَلَى رَجُلٍ طَعَامٌ مِثْلُ ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِغَرِيمِهِ أُحِيلُكَ عَلَى غَرِيمٍ لِي عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّعَامِ الَّذِي لَكَ عَلَىَّ بِطَعَامِكَ الَّذِي لَكَ عَلَىَّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ إِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ إِنَّمَا هُوَ طَعَامٌ ابْتَاعَهُ فَأَرَادَ أَنْ يُحِيلَ غَرِيمَهُ بِطَعَامٍ ابْتَاعَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ وَذَلِكَ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ سَلَفًا حَالاًّ فَلاَ بَأْسَ أَنْ يُحِيلَ بِهِ غَرِيمَهُ لأَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِبَيْعٍ وَلاَ يَحِلُّ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى لِنَهْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالإِقَالَةِ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ أَنْزَلُوهُ عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ وَلَمْ يُنْزِلُوهُ عَلَى وَجْهِ الْبَيْعِ وَذَلِكَ مِثْلُ الرَّجُلِ يُسَلِّفُ الدَّرَاهِمَ النُّقَّصَ فَيُقْضَى دَرَاهِمَ وَازِنَةً فِيهَا فَضْلٌ فَيَحِلُّ لَهُ ذَلِكَ وَيَجُوزُ وَلَوِ اشْتَرَى مِنْهُ دَرَاهِمَ نُقَّصًا بِوَازِنَةٍ لَمْ يَحِلَّ ذَلِكَ وَلَوِ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ حِينَ أَسْلَفَهُ وَازِنَةً وَإِنَّمَا أَعْطَاهُ نُقَّصًا لَمْ يَحِلَّ لَهُ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَأَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ ذَلِكَ أَنَّ بَيْعَ الْمُزَابَنَةِ بَيْعٌ عَلَى وَجْهِ الْمُكَايَسَةِ وَالتِّجَارَةِ وَأَنَّ بَيْعَ الْعَرَايَا عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ لاَ مُكَايَسَةَ فِيهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَنْبَغِي أَنْ يَشْتَرِيَ رَجُلٌ طَعَامًا بِرُبُعٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ كِسْرٍ مِنْ دِرْهَمٍ عَلَى أَنْ يُعْطَى بِذَلِكَ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَبْتَاعَ الرَّجُلُ طَعَامًا بِكِسْرٍ مِنْ دِرْهَمٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يُعْطَى دِرْهَمًا وَيَأْخُذُ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِرْهَمِهِ سِلْعَةً مِنَ السِّلَعِ لأَنَّهُ أَعْطَى الْكِسْرَ الَّذِي عَلَيْهِ فِضَّةً وَأَخَذَ بِبَقِيَّةِ دِرْهَمِهِ سِلْعَةً فَهَذَا لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ عِنْدَ الرَّجُلِ دِرْهَمًا ثُمَّ يَأْخُذُ مِنْهُ بِرُبُعٍ أَوْ بِثُلُثٍ أَوْ بِكِسْرٍ مَعْلُومٍ سِلْعَةً مَعْلُومَةً فَإِذَا لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ سِعْرٌ مَعْلُومٌ وَقَالَ الرَّجُلُ آخُذُ مِنْكَ بِسِعْرِ كُلِّ يَوْمٍ فَهَذَا لاَ يَحِلُّ لأَنَّهُ غَرَرٌ يَقِلُّ مَرَّةً وَيَكْثُرُ مَرَّةً وَلَمْ يَفْتَرِقَا عَلَى بَيْعٍ مَعْلُومٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ بَاعَ طَعَامًا جِزَافًا وَلَمْ يَسْتَثْنِ مِنْهُ شَيْئًا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّهُ لاَ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا إِلاَّ مَا كَانَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْهُ وَذَلِكَ الثُّلُثُ فَمَا دُونَهُ فَإِنْ زَادَ عَلَى الثُّلُثِ صَارَ ذَلِكَ إِلَى الْمُزَابَنَةِ وَإِلَى مَا يُكْرَهُ فَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا إِلاَّ مَا كَانَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْهُ وَلاَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْهُ إِلاَّ الثُّلُثَ فَمَا دُونَهُ وَهَذَا الأَمْرُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا ‏.‏
سعید بن المسیب سے محمدبن عبداللہ بن ابو مریم نے پوچھا میں غلہ خرید کرتا ہوں جار کا تو کبھی میں ایک دینار اور نصف درہم کو خرید کرتا ہوں کیا نصف درہم کے بدلے اناج دے دوں سعید نے کہا نہیں بلکہ ایک درہم دے دے اور جس قدر باقی رہے اس کے بدلے میں بھی اناج لے لے۔ محمد بن سیرین کہتے تھے مت بیچو دانوں کو بالی کے اندر جب تک پک نہ جائے ۔ کہا مالک نے جو شخص اناج خریدے نرخ مقرر کرکے میعاد معین پر جب میعاد پوری ہو تو جس کے ذمہ اناج واجب ہے (مسلم الیہ) وہ کہے میرے پاس اناج نہیں ہے جو اناج میرے ذمہ ہے وہ میرے ہی ہاتھ بیچ ڈال اتنی میعاد پر وہ شخص (رب السلم) کہے یہ جائز نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اناج بیچنے کو جب تک قبضے میں نہ آئے جس کے ذمہ پر اناج ہے وہ کہے اچھا تو کوئی اور اناج میرے ہاتھ بیچ ڈال میعاد پر تاکہ میں اسی اناج کو تیرے حوالے کردوں ۔ تو یہ درست نہیں کیونکہ وہ شخص اناج دے کر پھیرلے گا اور بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو جو قیمت دے گا وہ گویا مشتری (خریدنے والا) کی ہوگی جو اس نے بائع (بچنے والا) کو دی اور یہ اناج درمیان میں حلال کرنے والا ہوگا تو گویا اناج کی بیع ہوگی قبل قبضے کے۔ کہا مالک نے یہ اس واسطے کہ اہل علم نے ان چیزوں میں رواج اور دستور کا اعتبار رکھا ہے اور ان کو مثل بیع کے نہیں سمجھا اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ناقص کم وزن روپے دیئے پھر مسلم الیہ نے اس کو پورے وزن کے روپے ادا کردیئے تو یہ درست ہے مگر ناقص روپوں کی بیع پورے وزن کے روپوں کے بدلے میں درست نہیں اگر اس شخص نے سلم کرتے وقت ناقص کم وزن روپے دے کر پورے روپے لینے کی شرط کی تھی تو درست نہ ہوگا۔ کہا مالک نے اس کی نظیر یہ بھی کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا اور عرایا کی اجازت دی وجہ یہ ہے کہ مزابنہ کا معاملہ رجارت اور ہو شیاری کے طور پر ہوتا ہے اور عرایابطوراحسان اور سلوک کے ہوتا ہے۔ کہا مالک نے یہ درست نہیں کہ ربع یاثلث درہم یا اور کسی کسر کے بدلے میں اناج خریدے اس شرط پر کہ اس ربع یا ثلث یا کسر کے عوض میں اناج دے گا وعدے پر البتہ اس میں کچھ قباحت نہیں کہ ربع یا ثلث درہم یا کسی کسر کے بدلے میں اناج خریدے وعدے پر جب وعدہ گزرے تو ایک درہم حوالے کردے اور باقی کے بدلے میں کوئی اور چیز خرید کرلے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر نے فرمایا ہمارے بازار میں کوئی احتکار نہ کرے جن لوگوں کو ہاتھ میں حاجت سے زیادہ روپیہ ہے وہ کسی ایک غلہ کو جو ہمارے ملک میں آئے خرید کر احتکار نہ کریں اور جو شخص تکلیف اٹھا کر ہمارے ملک میں غلہ لائے گرمی یا جاڑے میں تو وہ مہمان ہے عمر کا جس طرح اللہ کو منظور ہو بیچے اور جس طرح اللہ کو منظور ہو رکھ چھوڑے ۔
حدیث 1345 — موطأ مالك 31:7
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ لاَ حُكْرَةَ فِي سُوقِنَا لاَ يَعْمِدُ رِجَالٌ بِأَيْدِيهِمْ فُضُولٌ مِنْ أَذْهَابٍ إِلَى رِزْقٍ مِنْ رِزْقِ اللَّهِ نَزَلَ بِسَاحَتِنَا فَيَحْتَكِرُونَهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ أَيُّمَا جَالِبٍ جَلَبَ عَلَى عَمُودِ كَبِدِهِ فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَذَلِكَ ضَيْفُ عُمَرَ فَلْيَبِعْ كَيْفَ شَاءَ اللَّهُ وَلْيُمْسِكْ كَيْفَ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہمارے بازار میں کوئی احتکار نہ کرے جن لوگوں کے ہاتھ میں حاجت سے زیادہ روپیہ ہے وہ کسی ایک غلہ کو جو ہمارے ملک میں آئے خرید کر احتکار نہ کریں اور جو شخص تکلیف اٹھاکر ہمارے ملک میں غلہ لائے گرمی یا جائے میں تو وہ مہمان ہے عمر کا جس طرح اللہ کو منظور ہو بیچے اور جس طرح اللہ کو منظور ہو رکھ چھوڑے۔
حدیث 1346 — موطأ مالك 31:8
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، مَرَّ بِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وَهُوَ يَبِيعُ زَبِيبًا لَهُ بِالسُّوقِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِمَّا أَنْ تَزِيدَ فِي السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تُرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب حاطب بن ابی بلتعہ کے پاس سے ہو کر گزرے اور وہ انگور بیچ رہے تھے بازار میں حضرت عمر نے فرمایا تو تم نرخ بڑھا دو یا ہمارے بازار سے اٹھ جاؤ ۔ حضرت عثمان بن عفان منع کرتے تھے احتکار سے ۔
حدیث 1347 — موطأ مالك 31:9
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحُكْرَةِ، ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحُكْرَةِ، ‏.‏
حدیث 1348 — موطأ مالك 31:10
Mauquf Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، بَاعَ جَمَلاً لَهُ يُدْعَى عُصَيْفِيرًا بِعِشْرِينَ بَعِيرًا إِلَى أَجَلٍ ‏.‏
حضرت علی نے اپنا اونٹ جس کا نام عصیفیر تھا بیس اونٹوں کے بدلے میں بیچا وعدے پر ۔
حدیث 1349 — موطأ مالك 31:11
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، اشْتَرَى رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر نے ایک سانڈنی چار اونٹوں کے بدلے میں خریدی اور یہ ٹھہرایا کہ ان چار اونٹوں کو زبذہ میں بائع (بچنے والا) کو پہنچائیں گے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔