قرآني·Qurani
اردو

الجمعة

21 احادیث · #225–245

حدیث 235 — موطأ مالك 5:11
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْكَلاَمِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا نَزَلَ الإِمَامُ عَنِ الْمِنْبَرِ، قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ ‏.‏
امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ابن شہاب زہری سے کہا جب امام منبر سے اترے خطبہ پڑھ کر تو قبل تکبیر کے بات کہنا کیسا ہے کہ ابن شہاب نے کچھ قباحت نہیں ہے ۔
حدیث 236 — موطأ مالك 5:12
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَهِيَ السُّنَّةُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ أَدْرَكْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلاَةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يُصِيبُهُ زِحَامٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيَرْكَعُ وَلاَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ حَتَّى يَقُومَ الإِمَامُ أَوْ يَفْرُغَ الإِمَامُ مِنْ صَلاَتِهِ إِنَّهُ إِنْ قَدَرَ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ إِنْ كَانَ قَدْ رَكَعَ فَلْيَسْجُدْ إِذَا قَامَ النَّاسُ وَإِنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ حَتَّى يَفْرُغَ الإِمَامُ مِنْ صَلاَتِهِ فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَبْتَدِئَ صَلاَتَهُ ظُهْرًا أَرْبَعًا ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے جو شخص جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پائے تو وہ ایک رکعت ادا کرے یہی سنت ہے ۔
حدیث 237 — موطأ مالك 5:13
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ‏}‏ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقْرَؤُهَا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا السَّعْىُ فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعَمَلُ وَالْفِعْلُ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأَرْضِ‏}‏ وَقَالَ تَعَالَى ‏{‏وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَى وَهُوَ يَخْشَى‏}‏ وَقَالَ ‏{‏ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَى‏}‏ وَقَالَ ‏{‏إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى‏}‏ قَالَ مَالِكٌ فَلَيْسَ السَّعْىُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ بِالسَّعْىِ عَلَى الأَقْدَامِ وَلاَ الاِشْتِدَادَ وَإِنَّمَا عَنَى الْعَمَلَ وَالْفِعْلَ ‏.‏
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ اس آیت کی تفسیر کیا ہے اذانودی للصلوة من یوم الجمعہ فاسعو الی ذکر اللہ تو ابن شہاب نے جواب دیا کہ حضرت عمر بن خطاب اس آیت کو یوں پڑھتے تھے اذانودی للصلوة من یوم الجمعة فامضوا (فاسعوا) 62۔ الجمعہ : 9) الی ذکر اللہ ۔
حدیث 238 — موطأ مالك 5:14
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ ‏ "‏ فِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا جمعہ کا پھر کہا کہ اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا بندہ مسلمان اور وہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور مانگتا ہے اللہ سے کچھ مگر دیتا ہے اللہ اس چیز کو اس کو اور اشارہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کہ وہ ساعت تھوڑی ہے ۔
حدیث 239 — موطأ مالك 5:15
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلاَّ الْجِنَّ وَالإِنْسَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَعْبٌ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ‏.‏ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ فَقُلْتُ مِنَ الطُّورِ ‏.‏ فَقَالَ لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلاَّ إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا وَإِلَى مَسْجِدِ إِيلْيَاءَ أَوْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ‏"‏ ‏.‏ يَشُكُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهُ بِهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ قَالَ كَعْبٌ ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ‏.‏ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ كَذَبَ كَعْبٌ ‏.‏ فَقُلْتُ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ صَدَقَ كَعْبٌ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلاَ تَضِنَّ عَلَىَّ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏ وَتِلْكَ السَّاعَةُ سَاعَةٌ لاَ يُصَلَّى فِيهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ فَهُوَ فِي صَلاَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ فَهُوَ ذَلِكَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں گیا کوہ طور پر تو ملا میں کعب بن الاحبار سے اور بیٹھا میں ان کے پاس پس بیان کیں کعب الاحبار نے مجھ سے باتیں تورات کی اور میں نے بیان کیں باتیں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو جو باتیں میں نے ان سے کہیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر سب دنوں میں جن میں سورج نکلا ہے جمعہ کا دن ہے اسی دن پیدا ہوئے آدم اور اسی دن اتارے گئے جنت سے اور اسی دن معاف ہوا گناہ ان کا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی اور کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جو کان نہ لگائے جمعہ کے دن آفتاب نکلنے تک قیامت کے خوف سے مگر جنات اور آدمی غافل رہتے ہیں اور جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا مسلمان بندہ نماز میں اور وہ مانگے اللہ سے کچھ مگر دے اللہ جل جلالہ اس کو کعب الاحبار نے کہا یہ تو ہر سال میں ایک دن ہوتا ہے میں نے کہا نہیں بلکہ ہر جمعہ کو تو کعب نے تورات کو پڑھا پھر کہا سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ابوہریرہ نے پھر ملا میں بصرہ بن ابی بصرہ غفاری سے تو کہا انہوں نے کہاں سے آتے ہو میں نے کہا کہ کوہ طور سے کہا انہوں نے اگر قبل طور جانے کے تم مجھ سے ملتے تو تم نہ جاتے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نہ تیار کئے جائیں اونٹ مگر تین مسجدوں کے لئے ایک مسجد الحرام دوسری میری مسجد یہ تیسری مسجد ایلیا یا بیت المقدس شک ہے راوی کو کہا ابوہریرہ نے پھر ملا میں عبداللہ بن سلام سے اور بیان کیا میں نے ان سے جو گفتگو کی تھی میں نے کعب الاحبار سے جمعہ کے باب میں اور میں نے یہ کہا کہ کعب الاحبار نے کہا یہ دن ہر سال میں ایک بار ہوتا ہے تو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ جھوٹ بولا کعب نے پھر میں نے کہا کہ کعب نے تورات کو پڑھ کر یہ کہا کہ بے شک یہ ساعت ہر جمعہ کو ہوتی ہے تب عبداللہ بن سلام نے کہا کہ سچ کہا کعب نے پھر کہا عبداللہ بن سلام نے میں جانتا ہوں اس ساعت کو وہ کونسی ہے ابوہریرہ نے کہا کہ بتاؤ مجھ کو اور بخل نہ کرو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ وہ آخر ساعت ہے جمعہ کی ابوہریرہ نے کہا کیونکہ آخر ساعت ہوگی حالانکہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا نہیں پاتا اس کو مسلمان بندہ نما میں مگر جو مانگتا ہے اللہ سے دیتا ہے اس کو یہ ساعت تو ایسی ہے کہ اس میں نماز نہیں ہو سکتی ہے تو جواب دیا عبداللہ بن سلام نے کیا نہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص بیٹھے نماز کے انتظار میں تو وہ نماز میں ہے یہاں تک کہ نماز پڑھے ابوہریرہ نے کہا ہاں عبداللہ بن سلام نے کہا پس یہی مطلب ہے ۔
حدیث 240 — موطأ مالك 5:16
حسن Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ لَوِ اتَّخَذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبَىْ مَهْنَتِهِ ‏"‏ ‏.‏
یحیی بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نقصان ہے کسی کا تم میں سے اگر بنا رکھے کپڑے جمعہ کی نماز کے واسطے سوائے روز مرہ کے کپڑوں کے ۔
حدیث 241 — موطأ مالك 5:17
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَرُوحُ إِلَى الْجُمُعَةِ إِلاَّ ادَّهَنَ وَتَطَيَّبَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ حَرَامًا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہ جاتے جمعہ کو یہاں تک کہ تیل لگاتے اور خوشبو مگر جب احرام باندھے ہوتے ۔
حدیث 242 — موطأ مالك 5:18
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لأَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمْ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقْعُدَ حَتَّى إِذَا قَامَ الإِمَامُ يَخْطُبُ جَاءَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنْ يَسْتَقْبِلَ النَّاسُ الإِمَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْطُبَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ يَلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَهَا ‏.‏
ابوہریرہ نے کہا کہ اگر کوئی تم میں سے نماز پڑھے ظہر جرہ میں بہتر ہے اس سے کہ بیٹھا رہے اپنے گھر میں پھر جب امام خطبہ پڑھنے کو کھڑا ہو آئے پھاندتا ہوا گردنوں کو لوگوں کی دن جمعہ کے ۔
حدیث 243 — موطأ مالك 5:19
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ مَاذَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ ‏{‏هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ‏}‏
ضحاک بن قیس نے پوچھا نعمان بن بشیر سے کہ کون سی سورت پڑھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز بعد سورت جمعہ کے کہا کہ پڑھتے تھے ھل اتک حدیث الغاشیہ
حدیث 244 — موطأ مالك 5:20
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، - قَالَ مَالِكٌ لاَ أَدْرِي أَعَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَمْ لاَ - أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلاَ عِلَّةٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ ‏"‏ ‏.‏
صفوان بن سلیم سے روایت ہے لیکن مالک کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا یا نہیں۔ کہا جو شخص چھوڑ دے گا جمعہ کو تین مرتبہ بغیر عذر اور بیماری کے مہر کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کے دل پر ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔