عروہ بن زبیر نے کہا مجھے بقیع میں دفن ہونا پسند نہیں ہے اگر میں کہیں اور دفن ہوں تو اچھا ہے اس لئے کہ بقیع میں جہاں پر میں دفن ہوں گا وہاں پر کوئی گناہگار شخص دفن ہو چکا ہے تو اس کے ساتھ مجھے دفن ہونا منظور نہیں ہے اور یا کوئی نیک شخص دفن ہو چکا ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میرے لئے اس کی ہڈیاں کھودی جائیں ۔
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تھے جنازوں میں پھر بیٹھنے لگے بعد اس کے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت علی تکیہ لگاتے تھے قبروں پر اور لیٹ جاتے تھے ان پر ۔
ابو امامہ کہتے تھے ہم جنازوں میں جاتے تھے تو اخیر کا شخص بھی بدوں اذن کے نہ بیٹھتا تھا۔
حدیث 555 — موطأ مالك 16:36
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ، - وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو أُمِّهِ - أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ " . فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ جَابِرٌ يُسَكِّتُهُنَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلاَ تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوُجُوبُ قَالَ " إِذَا مَاتَ " . فَقَالَتِ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ " . قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشُّهَدَاءُ سَبْعَةٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْحَرِقُ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ " .
جابر بن عتیک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت کی عیادت کو آئے تو دیکھا ان کو بیماری کی شدت میں سو پکارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انہوں نے جواب نہ دیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور فرمایا ہم مغلوب ہوئے تمہارے پر اے ابوالربیع! پس رونا شروع کیا عورتوں نے چلا کر اور جابر بن عتیک ان کو چپ کرانے لگے سو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھی عورتوں کو رونے دو جب آن پڑے تو اس وقت کوئی نہ روئے۔ رونے والی صحابیہ نے پوچھا کیا مطلب ہے آن پڑنے کا فرمایا جب مر جائے۔ اتنے میں عبداللہ بن ثابت کی بیٹی نے کہا مجھے امید تھی کہ تم شہید ہو گے کیونکہ تم سامان جہاد کا تیار کر چکے تھے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل جلالہ اجر دے گا مواقف اس کی نیت کے۔ تم کس چیز کو شہادت سمجھتی ہو بولی اللہ جل جلالہ کی راہ میں مارے جانے کو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوا اس کے سات شہید ہیں ایک وہ جو طاعون سے مر جائے دوسرے وہ جو ڈوب کر مر جائے تیسرے وہ جو ذات الجنب سے مر جائے چوتھے جو پیٹ کی عارضہ سے مر جائے پانچویں وہ جو آگ سے جل کر مر جائے چھٹے وہ جو دب کر مر جائے سا تو اں وہ عورت جو زچگی میں مر جائے ۔
عمرہ بن عبدالر حمن سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب ان کے سامنے بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں مردہ کو عذاب دیا جاتا ہے زندہ کے رونے سے اللہ بخشے ابا عبدالرحمن کو انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے یا چوک گئے اصل اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ایک یہودن پر جو مر گئی تھی اور لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس پر عذاب قبر میں ہو رہا ہے ۔
حدیث 557 — موطأ مالك 16:38
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے تین بچے مر جائیں پھر وہ جہنم میں جائے یہ ممکن نہیں مگر قسم پورا کرنے کو ۔
حدیث 558 — موطأ مالك 16:39
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ السَّلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَحْتَسِبُهُمْ إِلاَّ كَانُوا جُنَّةً مِنَ النَّارِ " . فَقَالَتِ امْرَأَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوِ اثْنَانِ قَالَ " أَوِ اثْنَانِ " .
ابو النصر سلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین لڑکے مر جائیں اور وہ صبر کرے تو قیامت کے روز وہ لڑکے بچائیں گے اس کو جہنم سے ایک عورت نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر دو مر جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی ۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ مسلمان کو مصیبت پہنچتی ہے اس کی اولاد اور عزیزوں میں یہاں تک کہ ملتا ہے اپنے پروردگار سے اور کوئی گناہ اس کا نہیں ہوتا۔
حدیث 559 — موطأ مالك 16:40
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصَابُ فِي وَلَدِهِ وَحَامَّتِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَتْ لَهُ خَطِيئَةٌ " .
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصَابُ فِي وَلَدِهِ وَحَامَّتِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَتْ لَهُ خَطِيئَةٌ " .