وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات چاہتا ہے تو میں بھی اس کی ملاقات چاہتا ہوں اور جب وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے تو میں بھی اس سے نفرت کرتا ہوں ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی جب وہ مرنے لگا تو اپنے لوگوں سے بولا کہ بعد مرنے کے مجھے جلانا اور میری راکھ کے دو حصے کر کے ایک حصہ خشکی میں ڈال دینا اور ایک حصہ دریا میں اس لئے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پا لیا تو ایسا عذاب کرے گا کہ سارے جہاں میں ویسا عذاب کسی کو نہ کرے گا جب وہ مر گیا تو اس کے ساتھ لوگوں نے ایسا ہی کیا اللہ جل جلالہ نے خشکی کو حکم دیا کہ اس کی تمام راکھ اکٹھی کر دی پھر دریا کو حکم کیا اس نے بھی اکٹھی کردی بعد اس کے اللہ جل جلالہ نے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا وہ بولا تیرے خوف سے اے پروردگار اور تو خوب جانتا ہے پس بخش دیا اس کو اللہ جل جلالہ نے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بچہ پیدا ہوتا ہے دین اسلام پر پھر ماں باپ اس کے اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں جیسے اونٹ پیدا ہوتا ہے صحیح سلامت جانور سے بھلا اس میں کوئی کنکٹا بھی ہوتا ہے صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو بچے چھوٹے پن میں مر جائیں ان کا کیا حال ہوگا فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں بڑے ہو کر ۔
حدیث 573 — موطأ مالك 16:54
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت نہیں ہوگی یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص کی قبر کے سامنے سے نکل کر کہے گا کاش کہ میں اس کی جگہ قبر میں ہوتا ۔
ابوقتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا ایک جنازہ تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستریخ ہے یا مستراح منہ، صحابہ نے پوچھا مستریح کسے کہتے ہیں اور مستراح منہ، کسے کہتے ہیں فرمایا بندہ مومنی مستریح ہے یعنی جب مر جاتا ہے تو دنیا کی تکلیفوں اور اذیتوں سے نجات پا کر اللہ تعالیٰ کی رحمت میں راحت پاتا ہے اور بندہ مستراح منہ ہے جب وہ مر جاتا ہے تو لوگوں کو بستیوں کو اور درختوں کو اور جانوروں کو اس سے راحت ہوتی ہے ۔
حدیث 575 — موطأ مالك 16:56
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَمُرَّ بِجَنَازَتِهِ : " ذَهَبْتَ وَلَمْ تَلَبَّسْ مِنْهَا بِشَىْءٍ " .
ابو النصر نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گزرا ان پر جنازہ حضرت عثمان بن مظعون کا چلے گئے تم دنیا سے اور نہیں لیا اس میں سے کچھ ۔
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ کھڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کو اور کپڑے پہنے پھر چلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو کہا میں نے اپنی لونڈی بریرہ سے کہ پیچھے پیچھے جائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو گئی وہ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع پہنچے اور کھڑے ہوئے قریب اس کے جب اللہ کو منظور تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑا رہنا پھر لوٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو بریرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اول میرے پاس پہنچ گئی اور میں نے کچھ ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں کیا یہاں تک کہ صبح ہوئی پھر میں نے ذکر کیا اس کا حضرت سے تو فرمایا مجھے حکم ہوا تھا بقیع والوں کے پاس جانے کا تاکہ دعا کروں ان کے لئے ۔
نافع سے روایت ہے کہ ابوہریرہ نے کہا جلدی کرو جنازہ کو لئے ہوئے چلنے میں اس لئے کہ اگر وہ اچھا ہے تو جلدی اس کو بہتری کی طرف لے جاتے ہو اور اگر برا ہے تو جلدی اپنے کندھوں سے اتارتے ہو ۔