قرآني·Qurani
اردو

الحج

253 احادیث · #705–957

حدیث 795 — موطأ مالك 20:91
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَنْزِعَ الْمُحْرِمُ، حَلَمَةً أَوْ قُرَادًا عَنْ بَعِيرِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر مکروہ جانتے تھے اپنے اونٹ کی جوں یا لیکھ نکالنے کو ۔
حدیث 796 — موطأ مالك 20:92
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ‏.‏ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ ظُفْرٍ، لَهُ انْكَسَرَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ سَعِيدٌ اقْطَعْهُ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَشْتَكِي أُذُنَهُ أَيَقْطُرُ فِي أُذُنِهِ مِنَ الْبَانِ الَّذِي لَمْ يُطَيَّبْ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ لاَ أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا وَلَوْ جَعَلَهُ فِي فِيهِ لَمْ أَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ بَأْسَ أَنْ يَبُطَّ الْمُحْرِمُ خُرَاجَهُ وَيَفْقَأَ دُمَّلَهُ وَيَقْطَعَ عِرْقَهُ إِذَا احْتَاجَ إِلَى ذَلِكَ ‏.‏
محمد بن عبداللہ بن ابی مریم نے پوچھا سعید بن مسیب سے کہ میرا ایک ناخن ٹوٹ گیا ہے اور میں احرام باندھے ہوئے ہوں سعید نے کہا کاٹ ڈال اس کو ۔
حدیث 797 — موطأ مالك 20:93
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فضل بن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے اتنے میں ایک عورت آئی خنعم سے مسئلہ پوچھنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، تو فضل اس عورت کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت فضل کی طرف دیکھنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اور طرف پھیرنے لگے اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج اللہ کا فرض ہوا میرے باپ پر ایسے وقت میں کہ میرا باپ بوڑھا ہے اونٹ پر بیٹھ نہیں سکتا کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں! اور یہ قصہ حجة الوداع میں ہوا۔
حدیث 798 — موطأ مالك 20:94
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَنَحَرُوا الْهَدْىَ وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْىُ ثُمَّ لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَلاَ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا وَلاَ يَعُودُوا لِشَىْءٍ ‏.‏
کہا مالک نے جس شخص کو احصار ہوا دشمن کے باعث سے اور وہ اس کی وجہ سے بیت اللہ تک نہ جاسکا تو وہ احرام کھول ڈالے اور اپنی ہدی کو نحر کرے اور سر منڈائے جہاں پر اس کو احصار ہوا ہے اور قضا اس پر نہیں ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جب روکا کفار نے تو احرام کھول ڈالے حدیبیہ میں اور نحر کیا ہدی کو اور سر منڈائے اور حلال ہو گئے ہر شئے سے یعنی بیت اللہ کا طواف اور اس کی طرف ہدی کو پہنچانے سے پہلے، پھر ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا ہو کسی کو اپنے اصحاب اور ساتھیوں میں سے دوبارہ قضا یا اعادہ کرنے کا ۔
حدیث 799 — موطأ مالك 20:95
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتِمَرًا فِي الْفِتْنَةِ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ ‏.‏ ثُمَّ نَفَذَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَرَأَى ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَى ‏.‏
عبداللہ بن عمر جب نکلے مکہ کی طرف عمرہ کی نیت سے جس سال فساد درپیش تھا یعنی حجاج بن یوسف لڑنے کو آیا تھا عبداللہ بن زبیر سے جو حاکم تھے مکہ کے تو کہا اگر میں روکا جاؤ بیت اللہ جانے سے تو کروں گا جیسا کیا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، جب روکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے تو عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا تھا عمرہ کا اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال میں احرام باندھا تھا عمرہ کا پھر عبداللہ بن عمر نے سوچا تو یہ کہا کہ عمرہ اور حج دونوں کا حکم احصار کی حالت میں یکساں ہے پھر متوجہ ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف اور کہا کہ حج اور عمرہ کا حال یکساں ہے میں نے تم کو گواہ کیا کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی واجب کر لیا عمرہ کے ساتھ پھر چلے گئے عبداللہ یہاں تک کہ آئے بیت اللہ میں اور ایک طواف کیا اور اس کو کافی سمجھا اور نحر کیا ہدی کو ۔
حدیث 800 — موطأ مالك 20:96
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ الْمُحْصَرُ بِمَرَضٍ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِذَا اضْطُرَّ إِلَى لُبْسِ شَىْءٍ مِنَ الثِّيَابِ الَّتِي لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهَا أَوِ الدَّوَاءِ صَنَعَ ذَلِكَ وَافْتَدَى ‏.‏
عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص بیماری کی وجہ سے رک جائے تو وہ حلال نہ ہوگا یہاں تک کہ طواف کرے خانہ کعبہ کا اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں اگر ضرورت ہو کسی کپڑے کے پہننے کی یا دوا کی تو اس کا استعمال کرے اور جزا دے ۔
حدیث 801 — موطأ مالك 20:97
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ الْمُحْرِمُ لاَ يُحِلُّهُ إِلاَّ الْبَيْتُ ‏.‏
ام المومنین عائشہ نے فرمایا کہ محرم حلال نہیں ہوتا بغیر خانہ کعبہ پہنچے ہوئے ۔
حدیث 802 — موطأ مالك 20:98
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانَ قَدِيمًا أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ كُسِرَتْ فَخِذِي فَأَرْسَلْتُ إِلَى مَكَّةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ يُرَخِّصْ لِي أَحَدٌ أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَى ذَلِكَ الْمَاءِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ حَتَّى أَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ‏.‏
ایوب بن ابی تمیمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک شخص سے جو بصرہ کا رہنے والا پرانا آدمی تھا اس نے کہا کہ میں چلا مکہ کو راستہ میں میرا کولہا ٹوٹ گیا تو میں نے مکہ میں کسی کو بھیجا وہاں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور لوگ بھی تھے ان میں سے کسی نے مجھ کو اجازت نہ دی احرام کھول ڈالنے کی یہاں تک کہ میں وہیں پڑا رہا سات مہینے تک جب اچھا ہوا تو عمرہ کر کے احرام کھولا۔
حدیث 803 — موطأ مالك 20:99
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ مَنْ حُبِسَ دُونَ الْبَيْتِ بِمَرَضٍ فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص خانہ کعبہ نہ جا سکے بیماری کی وجہ سے تو اس کا احرام نہ کھلے گا یہاں تک کہ طواف کرے بیت اللہ اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں
حدیث 804 — موطأ مالك 20:100
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مَعْبَدَ بْنَ حُزَابَةَ الْمَخْزُومِيَّ، صُرِعَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَسَأَلَ مَنْ يَلِي عَلَى الْمَاءِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ فَوَجَدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَمَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَذَكَرَ لَهُمُ الَّذِي عَرَضَ لَهُ فَكُلُّهُمْ أَمَرَهُ أَنْ يَتَدَاوَى بِمَا لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهُ وَيَفْتَدِيَ فَإِذَا صَحَّ اعْتَمَرَ فَحَلَّ مِنْ إِحْرَامِهِ ثُمَّ عَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَيُهْدِي مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى هَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ أُحْصِرَ بِغَيْرِ عَدُوٍّ وَقَدْ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ وَهَبَّارَ بْنَ الأَسْوَدِ حِينَ فَاتَهُمَا الْحَجُّ وَأَتَيَا يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَحِلاَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ يَرْجِعَا حَلاَلاً ثُمَّ يَحُجَّانِ عَامًا قَابِلاً وَيُهْدِيَانِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكُلُّ مَنْ حُبِسَ عَنِ الْحَجِّ بَعْدَ مَا يُحْرِمُ إِمَّا بِمَرَضٍ أَوْ بِغَيْرِهِ أَوْ بِخَطَإٍ مِنَ الْعَدَدِ أَوْ خَفِيَ عَلَيْهِ الْهِلاَلُ فَهُوَ مُحْصَرٌ عَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُحْصَرِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَمَّنْ أَهَلَّ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَصَابَهُ كَسْرٌ أَوْ بَطْنٌ مُتَحَرِّقٌ أَوِ امْرَأَةٌ تَطْلُقُ ‏.‏ قَالَ مَنْ أَصَابَهُ هَذَا مِنْهُمْ فَهُوَ مُحْصَرٌ يَكُونُ عَلَيْهِ مِثْلُ مَا عَلَى أَهْلِ الآفَاقِ إِذَا هُمْ أُحْصِرُوا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ قَدِمَ مُعْتَمِرًا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَتَّى إِذَا قَضَى عُمْرَتَهُ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ ثُمَّ كُسِرَ أَوْ أَصَابَهُ أَمْرٌ لاَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَحْضُرَ مَعَ النَّاسِ الْمَوْقِفَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ أَرَى أَنْ يُقِيمَ حَتَّى إِذَا بَرَأَ خَرَجَ إِلَى الْحِلِّ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى مَكَّةَ فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَحِلُّ ثُمَّ عَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْىُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مِنْ مَكَّةَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ مَرِضَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَحْضُرَ مَعَ النَّاسِ الْمَوْقِفَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ إِذَا فَاتَهُ الْحَجُّ فَإِنِ اسْتَطَاعَ خَرَجَ إِلَى الْحِلِّ فَدَخَلَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لأَنَّ الطَّوَافَ الأَوَّلَ لَمْ يَكُنْ نَوَاهُ لِلْعُمْرَةِ فَلِذَلِكَ يَعْمَلُ بِهَذَا وَعَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْىُ ‏.‏ فَإِنْ كَانَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ مَكَّةَ فَأَصَابَهُ مَرَضٌ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَجِّ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَلَّ بِعُمْرَةٍ وَطَافَ بِالْبَيْتِ طَوَافًا آخَرَ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لأَنَّ طَوَافَهُ الأَوَّلَ وَسَعْيَهُ إِنَّمَا كَانَ نَوَاهُ لِلْحَجِّ وَعَلَيْهِ حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْىُ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سعید بن حزابہ مخزومی گر پڑے مکہ کو آتے ہوئے راہ میں اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے تو جہاں پانی دیکھ کر ٹھہرے تھے وہاں پوچھا عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر اور مروان بن حکم ملے ان سے بیان کیا اس عارضے کو ان سب نے کہا جیسی ضرورت ہو ویسی دوا کرے اور فدیہ دے ۔ جب اچھا ہو تو عمرہ کر کے احرام کھولے پھر آئندہ سال حج کرے اور موافق طاقت کے ہدی دے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔