عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فضل بن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے اتنے میں ایک عورت آئی خنعم سے مسئلہ پوچھنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، تو فضل اس عورت کی طرف دیکھنے لگے اور وہ عورت فضل کی طرف دیکھنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اور طرف پھیرنے لگے اس عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج اللہ کا فرض ہوا میرے باپ پر ایسے وقت میں کہ میرا باپ بوڑھا ہے اونٹ پر بیٹھ نہیں سکتا کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں! اور یہ قصہ حجة الوداع میں ہوا۔
حدیث 798 — موطأ مالك 20:94
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَنَحَرُوا الْهَدْىَ وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْىُ ثُمَّ لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَلاَ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا وَلاَ يَعُودُوا لِشَىْءٍ .
کہا مالک نے جس شخص کو احصار ہوا دشمن کے باعث سے اور وہ اس کی وجہ سے بیت اللہ تک نہ جاسکا تو وہ احرام کھول ڈالے اور اپنی ہدی کو نحر کرے اور سر منڈائے جہاں پر اس کو احصار ہوا ہے اور قضا اس پر نہیں ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جب روکا کفار نے تو احرام کھول ڈالے حدیبیہ میں اور نحر کیا ہدی کو اور سر منڈائے اور حلال ہو گئے ہر شئے سے یعنی بیت اللہ کا طواف اور اس کی طرف ہدی کو پہنچانے سے پہلے، پھر ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا ہو کسی کو اپنے اصحاب اور ساتھیوں میں سے دوبارہ قضا یا اعادہ کرنے کا ۔
عبداللہ بن عمر جب نکلے مکہ کی طرف عمرہ کی نیت سے جس سال فساد درپیش تھا یعنی حجاج بن یوسف لڑنے کو آیا تھا عبداللہ بن زبیر سے جو حاکم تھے مکہ کے تو کہا اگر میں روکا جاؤ بیت اللہ جانے سے تو کروں گا جیسا کیا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، جب روکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے تو عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا تھا عمرہ کا اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال میں احرام باندھا تھا عمرہ کا پھر عبداللہ بن عمر نے سوچا تو یہ کہا کہ عمرہ اور حج دونوں کا حکم احصار کی حالت میں یکساں ہے پھر متوجہ ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف اور کہا کہ حج اور عمرہ کا حال یکساں ہے میں نے تم کو گواہ کیا کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی واجب کر لیا عمرہ کے ساتھ پھر چلے گئے عبداللہ یہاں تک کہ آئے بیت اللہ میں اور ایک طواف کیا اور اس کو کافی سمجھا اور نحر کیا ہدی کو ۔
عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص بیماری کی وجہ سے رک جائے تو وہ حلال نہ ہوگا یہاں تک کہ طواف کرے خانہ کعبہ کا اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں اگر ضرورت ہو کسی کپڑے کے پہننے کی یا دوا کی تو اس کا استعمال کرے اور جزا دے ۔
حدیث 801 — موطأ مالك 20:97
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ الْمُحْرِمُ لاَ يُحِلُّهُ إِلاَّ الْبَيْتُ .
ام المومنین عائشہ نے فرمایا کہ محرم حلال نہیں ہوتا بغیر خانہ کعبہ پہنچے ہوئے ۔
ایوب بن ابی تمیمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک شخص سے جو بصرہ کا رہنے والا پرانا آدمی تھا اس نے کہا کہ میں چلا مکہ کو راستہ میں میرا کولہا ٹوٹ گیا تو میں نے مکہ میں کسی کو بھیجا وہاں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور لوگ بھی تھے ان میں سے کسی نے مجھ کو اجازت نہ دی احرام کھول ڈالنے کی یہاں تک کہ میں وہیں پڑا رہا سات مہینے تک جب اچھا ہوا تو عمرہ کر کے احرام کھولا۔
عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص خانہ کعبہ نہ جا سکے بیماری کی وجہ سے تو اس کا احرام نہ کھلے گا یہاں تک کہ طواف کرے بیت اللہ اور سعی کرے صفا اور مروہ کے بیچ میں
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سعید بن حزابہ مخزومی گر پڑے مکہ کو آتے ہوئے راہ میں اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے تو جہاں پانی دیکھ کر ٹھہرے تھے وہاں پوچھا عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر اور مروان بن حکم ملے ان سے بیان کیا اس عارضے کو ان سب نے کہا جیسی ضرورت ہو ویسی دوا کرے اور فدیہ دے ۔ جب اچھا ہو تو عمرہ کر کے احرام کھولے پھر آئندہ سال حج کرے اور موافق طاقت کے ہدی دے ۔