ابو ماعز اسلمی سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے عبداللہ بن عمر کے ساتھ اتنے میں ایک عورت آئی مسئلہ پوچھنے ان سے، تو کہا اس عورت نے کہ میں نے قصد کیا خانہ کعبہ کے طواف کا جب مسجد کے دروازے پر آئی تو مجھے خون آنے لگا سو میں چلی گئی جب خون موقوف ہوا تو پھر آئی جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو خون آنے لگا تو میں پھر چلی گئی پھر جب خون موقوف ہوا پھر آئی جب مسجد کے دروزاے پر پہنچی تو پھر خون آنے لگا عبداللہ بن عمر نے کہا یہ لات ہے شیطان کی، تو غسل کر پھر کپڑے سے شرمگاہ کو باندھ اور طواف کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعد بن ابی وقاص جب مسجد میں آتے اور نویں تاریخ قریب ہوتی تو عرفات کو جاتے قبل طواف اور سعی کے پھر جب وہاں سے پلٹتے تو طواف اور سعی کرتے ۔
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نکلتے مسجد حرام سے صفا کی طرف فرماتے تھے شروع کرتے ہیں ہم اس سے جس سے شروع کیا اللہ جل جلالہ نے تو شروع کی سعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے ۔
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے صفا پر تین بار اللہ اکبر کہتے اور فرماتے نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ پاک کے کوئی اس کا شریک نہیں ہے اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے وہ ہر شئے پر قادر ہے، تین بار اس کو کہتے تھے اور دعا مانگتے تھے پھر مروہ پر پہنچ کر ایسا ہی کرتے ۔
نافع نے سنا عبداللہ بن عمر سے وہ صفا پر دعا مانگتے تھے اے پروردگار! تو نے فرمایا کہ دعا کرو میں قبول کروں گا اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جیسے تو نے مجھ کو اسلام کی راہ دکھائی سو مرتے دم تک اسلام سے نہ چھڑائیوں یہاں تک کہ میں مروں مسلمان رہ کر ۔
عروہ بن زبیر نے کہا کہ میں نے پوچھا ام المومنین عائشہ سے دیکھو اللہ جل جلالہ فرماتا ہے بے شک صفا اور مروہ اللہ کی پاک نشانیوں میں سے ہیں سو جو حج کرے خانہ کعبہ کا یا عمرہ کرے تو ان دونوں کے درمیان سعی کرنے میں اس پر کچھ گناہ نہیں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر سعی نہ کرے تب بھی برا نہیں ہے حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ ہرگز ایسا نہیں اگر جیسا کہ تم سمجھتے ہو ویسا ہوتا تو اللہ جل جلالہ یوں فرماتا کہ گناہ ہے اس پر سعی نہ کرنے میں صفا اور مروہ کے درمیان اور یہ آیت تو انصار کے حق میں اتری ہے وہ لوگ حج کیا کرتے تھے منات کے واسطے اور منات مقابل قدید کے تھا اور قدید ایک قریہ کا نام ہے مکہ اور مدینہ کے درمیان میں وہ لوگ صفا اور مروہ کے بیچ میں سعی کرنا برا سمجھتے تھے جب دین اسلام سے مشرف ہوئے تو انہوں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں تو اس وقت اللہ جل جلالہ نے اتاری یہ آیت کہ صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں جو شخص حج کرے خانہ کعبہ کا اور عمرہ کرے تو سعی کرنا گنا نہیں ہے ان دونوں کے درمیان میں ۔
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ سودہ بیٹی عبداللہ بن عمر کی عروہ بن زبیر کے نکاح میں تھیں ایک روز وہ نکلیں حج یا عمرہ میں پیدل سعی کرنے صفا اور مروہ کے بیچ اور وہ ایک موٹی عورت تھیں تو آئی سعی کرنے کو جب لوگ فارغ ہوئے عشاء کی نماز سے، اور سعی ان کی پوری نہیں ہوئی تھی کہ اذان ہوگئی صبح کی پھر انہوں نے پوری کی سعی اپنی اس درمیان میں، اور عروہ جب لوگوں کو دیکھتے تھے کہ سوار ہو کر سعی کرتے ہیں تو سختی سے منع کرتے تھے اور وہ لوگ بیماری کا حیلہ کر تے تھے عروہ سے شرم کی وجہ سے تو عروہ کہتے تھے ہم سے اپنے لوگوں کے آپس میں ان لوگوں نے نقصان پایا مراد کو نہ پہنچے ۔
حدیث 832 — موطأ مالك 20:128
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَشَى حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا اور مروہ میں جب آتے تو معمولی چال سے چلتے جب وادی کے اندر آپ کے قدم آتے تو دوڑ کر چلتے یہاں تک کہ وادی سے نکل جاتے ۔
ام الفضل سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے سامنے شک کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے میں عرفہ کے دن بعضوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں بعضوں نے کہا نہیں تو ام الفضل نے ایک پیالہ دودھ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر سوار تھے عرفات میں تو پی لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ۔
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ام المومنین عرفہ کے روز روزہ رکھتی تھیں قاسم نے کہا میں نے دیکھا کہ عرفہ کی شام کو جب امام چلا تو وہ ٹھہری رہیں یہاں تک کہ زمین صاف ہوگئی پھر ایک پیالہ پانی کا منگایا اور روزہ افطار کیا ۔