عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص بال گوندھے احرام کے وقت وہ سر منڈا دے احرام کھولتے وقت اور اس طرح بال نہ گوندھو کہ تلبید سے مشابہت ہو جائے ۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص جوڑا باندھے یا گوندھ لے یا تلبید کرے بالوں کو احرام کے وقت تو واجب ہو گیا اس پر سر منڈانا ۔
حدیث 898 — موطأ مالك 20:194
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَسَأَلْتُ بِلاَلاً حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَثَلاَثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے کعبہ شریف کے اندر اور ان کے ساتھ اسامہ بن زید اور بلال بن رابح اور عثمان بن طلحہ تھے تو دروازہ بند کر لیا اور وہاں ٹھہرے رہے، عبداللہ نے کہا میں نے بلال سے پوچھا جب نکلے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ تو کہا انہوں نے ایک ستون پیچھے کو بائیں طرف کیا اور دو ستون داہنی طرف اور تین ستون پیچھے اپنے اور خانہ کعبہ میں ان دنوں چھ ستون تھے پھر نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لکھا عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو جب وہ آیا تھا عبداللہ بن عمر کا کسی بات میں حج کے کاموں میں سے کسی میں اختلاف نہ کرنا، کہا سالم نے جب عرفہ کا روز ہوا تو عبداللہ بن عمر زوال ہوتے ہی آئے اور میں بھی ان کے ساتھ اور پکارا حجاج کے خیمہ کے پاس کہ کہاں ہے حجاج؟ تو نکلا حجاج ایک چادر کسم میں رنگی ہوئی اوڑھے ہوئے اور کہا اے اباعبدالرحمن کیا ہے انہوں نے جواب دیا کہ اگر سنت کی پیروی چاہتا ہے تو چل حجاج بولا ابھی؟ انہوں نے کہا ہاں ابھی، حجاج نے کہا مجھے تھوڑی مہلت دو کہ میں نہالوں پھر نکلتا ہوں عبداللہ بن عمر سواری سے اتر پڑے پھر حجاج نکلا سو میرے اور میرے باپ عبداللہ کے بیچ میں آگیا میں نے اس سے کہا اگر تجھ کو سنت کی پیروی منظور ہو تو آج کے روز خطبہ کو کم کر اور نماز جلد پڑھ وہ عبداللہ کی طرف دیکھنے لگا تاکہ ان سے سنے جب عبداللہ نے یہ دیکھا تو کہا سچ کہا سالم نے ۔
اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے عرفات سے یہاں تک کہ جب پہنچے گھاٹی میں اترے اور پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن پورا وضو نہ کیا میں نے کہا نماز یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز آگے ہے تیرے، پھر سوار ہوئے جب مزدلفہ میں آئے اترے اور پورا وضو کیا پھر تکبیر ہوئی تو نماز پڑھی مغرب کی اس کے بعد ہر شخص نے اپنا اونٹ اپنی جگہ میں بٹھایا پھر تکبیر ہوئی عشاء کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی بیچ میں ان دونوں کے کوئی نماز نہ پڑھی ۔