یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ جو شخص ہدی روانہ کرے مگر خود نہ جائے کیا اس پر کچھ لازم ہوتا ہے وہ بولیں میں نے سنا عائشہ سے کہتی تھیں محرم نہیں ہوتا مگر جو شخص احرام باندھے اور لبیک کہے ۔
ربیعہ بن عبداللہ نے دیکھا ایک شخص کو عراق میں کپڑے اتارے ہوئے تو پوچھا لوگوں سے اس کا سبب لوگوں نے کہا اس نے حکم کیا ہے اپنی ہدی کی تقلید کا سو اس لئے سلے ہوئے کپڑے اتار ڈالے ربیعہ نے کہا میں نے ملاقات کی عبداللہ بن زبیر سے اور یہ قصہ بیان کیا انہوں نے کہا قسم کعبہ کے رب کی یہ امر بدعت ہے ۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو حج یا عمرہ کا پھر اس کو حیض آنا شروع ہوجائے تو وہ لبیک کہا کرے جب اس کا جی چاہے اور طواف نہ کرے اور سعی نہ کرے صفا مروہ کے درمیان باقی سب ارکان ادا کرے لوگوں کے ساتھ فقط طواف اور سعی نہ کرے اور مسجد میں نہ جائے جب تک کہ پاک نہ ہو۔
حدیث 758 — موطأ مالك 20:54
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ ثَلاَثًا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعَامَ الْقَضِيَّةِ وَعَامَ الْجِعِرَّانَةِ .
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے ادا کئے ایک حدیبیہ کے سال اور ایک عمرہ قضا کے سال اور ایک عمرہ جعرانہ کے سال ۔
حدیث 759 — موطأ مالك 20:55
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَعْتَمِرْ إِلاَّ ثَلاَثًا إِحْدَاهُنَّ فِي شَوَّالٍ وَاثْنَتَيْنِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ .
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں عمرہ کیا مگر تین بار ایک شوال اور دو ذیقعدہ میں ۔
حدیث 760 — موطأ مالك 20:56
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ، فَقَالَ سَعِيدٌ نَعَمْ قَدِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ .
عبدالرحمن بن حرملہ اسلمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا سعید بن مسیب سے کہ میں عمرہ کروں قبل حج کے انہوں نے کہا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا قبل حج کے ۔
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن ابی سلمہ نے اجازت مانگی حضرت عمر سے عمرہ کرنے کی شوال میں تو اجازت دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو وہ عمرہ کر کے لوٹ آئے اپنے گھر کو اور حج نہ کیا۔
محمد بن عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سعد بن ابی وقاس اور ضحاک بن قیس سے جس سال معاویہ بن ابی سفیان نے حج کیا اور وہ دونوں ذکر کر رہے تھے تمتع کا تو ضحاک بن قیس نے کہا کہ تمتع وہی کرے گا جو اللہ کے احکام سے ناواقف ہو سعد نے کہا بری بات کہی تم نے اے بھتیجے میرے۔ ضحاک نے کہا کہ عمر بن خطاب نے منع کیا تمتع سے سعد نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ۔