قرآني·Qurani
اردو

الحج

253 احادیث · #705–957

حدیث 775 — موطأ مالك 20:71
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلُوا عَنْ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، فَقَالُوا لاَ يَنْكِحِ الْمُحْرِمُ وَلاَ يُنْكِحْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ الْمُحْرِمِ إِنَّهُ يُرَاجِعُ امْرَأَتَهُ إِنْ شَاءَ إِذَا كَانَتْ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے نہ نکاح کرے محرم اور نہ پیغام بھیجے اپنا اور نہ غیر کا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب اور سالم بن عبداللہ بن سلیمان بن یسار سے سوال ہوا محرم کے نکاح کا تو ان سب نے کہا محرم نہ نکاح کرے اپنا نہ پرایا ۔
حدیث 776 — موطأ مالك 20:72
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوْقَ رَأْسِهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِلَحْيَىْ جَمَلٍ مَكَانٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ‏.‏
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگائے احرام میں اپنے سر پر لحی جمل میں جو ایک مقام ہے مکہ کی راہ میں
حدیث 777 — موطأ مالك 20:73
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلاَّ مِمَّا لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلاَّ مِنْ ضَرُورَةٍ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں محرم پچھنے نہ لگائے مگر جب اس کو ضرورت پڑے۔
حدیث 778 — موطأ مالك 20:74
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے مکہ کے ایک راستے میں ، پیچھے رہ گیا وہ (ابوقتادہ) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن وہ (ابوقتادہ) احرام نہیں باندھے ہوئے تھے انہوں نے ایک گورخر کو دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا انہوں نے انکار کیا پھر برچھا مانگا انہوں نے انکار کیا آخر انہوں نے خود برچھا لے کر حملہ کیا گورخر پر اور قتل کیا اس کو اور بعض صحابہ نے وہ گوشت کھایا اور بعض نے انکار کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک کھانا تھا جو کھلایا تم کو اللہ جل جلالہ نے ۔
حدیث 779 — موطأ مالك 20:75
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، كَانَ يَتَزَوَّدُ صَفِيفَ الظِّبَاءِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالصَّفِيفُ الْقَدِيدُ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زبیر بن عوام ناشتہ کرتے تھے ہرن کے بھونے ہوئے گوشت کا جس کو قدید کہتے ہیں ۔
حدیث 780 — موطأ مالك 20:76
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ إِلاَّ أَنَّ فِي، حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏
عطاء بن یسار نے ابوقتادہ کی حدیث گورخر مارنے کی ویسی ہی روایت کی جیسے اوپر بیان ہوئی مگر اس حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس گوشت میں کچھ تمہارے پاس باقی ہے ۔
حدیث 781 — موطأ مالك 20:77
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارٌ وَحْشِيٌّ عَقِيرٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ دَعُوهُ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ ‏.‏ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالأَثَايَةِ - بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ - إِذَا ظَبْىٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ فِيهِ سَهْمٌ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ لاَ يَرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ ‏.‏
زید بن کعب بہزی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے مکہ کے قصد سے احرام باندھے ہوئے جب روحا میں پہنچے تو ایک گورخر زخمی دیکھا تو بیان کیا یہ ماجرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پڑا رہنے دو اس کا مالک آجائے گا اتنے میں بہزی آیا وہی اس کا مالک تھا وہ بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گورخر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختار ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر کو حکم کیا انہوں نے اس کا گوشت تقسیم کیا سب ساتھیوں کو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے جب اثابہ میں پہنچے جو درمیان میں ہے رویثہ اور عرج کے تو دیکھا کہ ایک ہرن اپنا سر جھکائے ہوئے سائے میں کھڑا ہے اور ایک تیر اس کو لگا ہوا ہے تو کہا بہزی نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہ کھڑا رہے اس کے پاس، تاکہ کوئی اس کو نہ چھیڑے یہاں تک کہ لوگ آگے بڑھ جائیں ۔
حدیث 782 — موطأ مالك 20:78
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّبَذَةِ وَجَدَ رَكْبًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مُحْرِمِينَ فَسَأَلُوهُ عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدُوهُ عِنْدَ أَهْلِ الرَّبَذَةِ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ قَالَ ثُمَّ إِنِّي شَكَكْتُ فِيمَا أَمَرْتُهُمْ بِهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ مَاذَا أَمَرْتَهُمْ بِهِ فَقَالَ أَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَوْ أَمَرْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَفَعَلْتُ بِكَ يَتَوَاعَدُهُ ‏.‏
ابوہریرہ جب آئے بحرین سے تو جب پہنچے ربذہ میں تو چند سوار ملے عراق کے احرام باندھے ہوئے تو پوچھا انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شکار کے گوشت کا حال جو ربذہ والوں کے پاس تھا ابوہریرہ نے ان کو کھانے کی اجازت دی پھر کہا کہ مجھ کو شک ہوا اس حکم میں تو جب آیا میں مدینہ تو ذکر کیا میں نے عمر بن خطاب سے حضرت عمر نے پوچھا تم نے کیا حکم دیا ان کو میں نے کہا کہ میں نے حکم دیا کھانے کا حضرت عمر نے کہا اگر تم ان کو کچھ اور حکم دیتے تو میں تمہارے ساتھ ایسا کرتا یعنی ڈرانے لگے ۔
حدیث 783 — موطأ مالك 20:79
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّهُ مَرَّ بِهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَةِ فَاسْتَفْتَوْهُ فِي لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدُوا نَاسًا أَحِلَّةً يَأْكُلُونَهُ فَأَفْتَاهُمْ بِأَكْلِهِ قَالَ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ بِمَ أَفْتَيْتَهُمْ قَالَ فَقُلْتُ أَفْتَيْتُهُمْ بِأَكْلِهِ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ أَفْتَيْتَهُمْ بِغَيْرِ ذَلِكَ لأَوْجَعْتُكَ ‏.‏
سالم بن عبداللہ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کہتے تھے عبداللہ بن عمر سے کہ مجھ کو ملے کچھ لوگ احرام باندھے ہوئے ربذہ میں تو پوچھا انہوں نے شکار کے گوشت کی بابت جو حلال لوگوں کے پاس موجود ہو وہ کھاتے ہوں اس کو ابوہریرہ نے ان کو کھانے کی اجازت دی، کہا ابوہریرہ نے جب میں مدینہ میں آیا حضرت عمر کے پاس میں نے ان سے بیان کیا انہوں نے کہا تو نے کیا فتوی دیا؟ میں نے کہا میں نے فتوی دیا کھانے کا حضرت عمر نے کہا اگر تو اور کسی بات کا فتوی دیتا تو میں تجھے سزا دیتا ۔
حدیث 784 — موطأ مالك 20:80
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ كَعْبَ الأَحْبَارِ، أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ فِي رَكْبٍ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَجَدُوا لَحْمَ صَيْدٍ فَأَفْتَاهُمْ كَعْبٌ بِأَكْلِهِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَنْ أَفْتَاكُمْ بِهَذَا قَالُوا كَعْبٌ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي قَدْ أَمَّرْتُهُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا ثُمَّ لَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ مَرَّتْ بِهِمْ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَفْتَاهُمْ كَعْبٌ أَنْ يَأْخُذُوهُ فَيَأْكُلُوهُ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَكَرُوا لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تُفْتِيَهُمْ بِهَذَا قَالَ هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ ‏.‏ قَالَ وَمَا يُدْرِيكَ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - إِنْ هِيَ إِلاَّ نَثْرَةُ حُوتٍ يَنْثُرُهُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ ‏.‏
کعب الاحبار جب آئے شام سے تو چند سوار ان کے ساتھ تھے احرام باندھے ہوئے راستے میں انہوں نے شکار کا گوشت دیکھا تو کعب الاحبار نے ان کو کھانے کی اجازت دی جب مدینہ میں آئے تو انہوں نے حضرت عمر سے بیان کیا آپ نے کہا تمہیں کس نے فتوی دیا بولے کعب نے حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے کعب کو تمہارے اوپر حاکم کیا یہاں تک کہ تم لوٹو، پھر ایک روز مکہ کی راہ میں ٹڈیوں کا جھنڈ ملا کعب نے فتوی دیا کہ پکڑ کر کھائیں جب وہ لوگ حضرت عمر کے پاس آئے ان سے بیان کیا آپ نے کعب سے پوچھا کہ تم نے یہ فتوی کیسے دیا کعب نے کہا کہ ٹڈی دریا کا شکار ہے حضرت عمر بولے کیونکر، کعب بولے اے امیر المومنین قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ ٹڈی ایک مچھلی کی چھینک سے نکلتی ہے جو ہر سال میں دوبار چھینکتی ہے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔