قرآني·Qurani
اردو

الديات

44 احادیث · #1552–1595

حدیث 1562 — موطأ مالك 43:11
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْجَنِينَ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَا لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلْ وَلاَ نَطَقَ وَلاَ اسْتَهَلّ وَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا پیٹ کے بچے میں جو قتل کیا جائے ایک غلام یا لونڈی دینے کا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت دینے کا حکم کیا وہ بولا کیونکر میں تاوان دوں اس بچے کا جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ رویا ایسے شخص کا خون ہدر ہے یعنی لغو ہے اس میں دیت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے ۔
حدیث 1563 — موطأ مالك 43:12
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ الْغُرَّةُ تُقَوَّمُ خَمْسِينَ دِينَارًا أَوْ سِتَّمِائَةِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ الْمُسْلِمَةِ خَمْسُمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ سِتَّةُ آلاَفِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَدِيَةُ جَنِينِ الْحُرَّةِ عُشْرُ دِيَتِهَا وَالْعُشْرُ خَمْسُونَ دِينَارًا أَوْ سِتُّمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يُخَالِفُ فِي أَنَّ الْجَنِينَ لاَ تَكُونُ فِيهِ الْغُرَّةُ حَتَّى يُزَايِلَ بَطْنَ
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے کہ غلام یا لونڈی کی قیمت جو پیٹ کے بچے کی دیت میں دی جائے پچاس دینار ہونے چاہئے یا چھ سو درہم اور عورت مسلمان آزاد کی دیت پانچ سو دینار ہیں یا چھ ہزار درہم۔ کہا مالک نے آزاد عورت کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کی دیت عورت کی دیت کا دسواں حصہ ہے اور وہ پچاس دینار ہے یا چھ سو درہم اور یہ دیت پیٹ کے بچے میں اس وقت لازم آتی ہے جب کہ وہ پیٹ سے نکل پڑے مردہ ہو کر میں نے کسی کو اس میں اختلاف کرتے نہیں سنا اگر پیٹ سے زندہ نکل کر مرجائے تو پوری دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے جنین یعنی پیٹ کے بچے کی زندگی اس کے رونے سے معلوم ہوگی اگر رو کرمرجائے تو پوری دیت لازم آئے گی اور لونڈی کے جنین میں اس لونڈی کی قیمت کا دسواں حصہ دینا ہو گا۔ کہا مالک نے اگر ایک عورت حاملہ نے کسی مرد یا عورت کو مار ڈالا تو اس سے قصاص نہ لیا جائے گا جب تک وضع حمل نہ ہو اگر عورت حاملہ کو کسی نے مار ڈالا عمداً یا خطاءً تو اس کے جنین کی دیت واجب نہ ہوگی بلکہ اگر عمداً مارا ہے تو قاتل قتل کیا جائے گا اور اگر خطاءً مارا ہے تو قاتل کے عاقلہ پر عورت کی دیت واجب ہو گی۔ سوال ہوا مالک سے اگر کسی نے یہودیہ یا نصرانیہ کے جنین کو مار ڈالا تو جواب دیا کہ اس کی ماں کی دیت کا دسواں حصہ دینا ہوگا۔
حدیث 1564 — موطأ مالك 43:13
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ كَامِلَةً فَإِذَا قُطِعَتِ السُّفْلَى فَفِيهَا ثُلُثَا الدِّيَةِ ‏.‏
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ دونوں ہونٹوں میں پوری دیت ہے اگر صرف نیچے کا ہونٹ کاٹ ڈالے تو ثلث دینی ہوگی ۔
حدیث 1565 — موطأ مالك 43:14
ضعیف
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الرَّجُلِ الأَعْوَرِ، يَفْقَأُ عَيْنَ الصَّحِيحِ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنْ أَحَبَّ الصَّحِيحُ أَنْ يَسْتَقِيدَ، مِنْهُ فَلَهُ الْقَوَدُ وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ الدِّيَةُ أَلْفُ دِينَارٍ أَوِ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ فِي كُلِّ زَوْجٍ مِنَ الإِنْسَانِ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَأَنَّ فِي اللِّسَانِ الدِّيَةَ كَامِلَةً وَأَنَّ فِي الأُذُنَيْنِ إِذَا ذَهَبَ سَمْعُهُمَا الدِّيَةَ كَامِلَةً اصْطُلِمَتَا أَوْ لَمْ تُصْطَلَمَا وَفِي ذَكَرِ الرَّجُلِ الدِّيَةُ كَامِلَةً وَفِي الأُنْثَيَيْنِ الدِّيَةُ كَامِلَةً ‏.‏ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ فِي ثَدْيَىِ الْمَرْأَةِ الدِّيَةَ كَامِلَةً ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَأَخَفُّ ذَلِكَ عِنْدِي الْحَاجِبَانِ وَثَدْيَا الرَّجُلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا أُصِيبَ مِنْ أَطْرَافِهِ أَكْثَرُ مِنْ دِيَتِهِ فَذَلِكَ لَهُ إِذَا أُصِيبَتْ يَدَاهُ وَرِجْلاَهُ وَعَيْنَاهُ فَلَهُ ثَلاَثُ دِيَاتٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي عَيْنِ الأَعْوَرِ الصَّحِيحَةِ إِذَا فُقِئَتْ خَطَأً إِنَّ فِيهَا الدِّيَةَ كَامِلَةً ‏.‏
کہا مالک نے میں نے ابن شہاب سے پوچھا کہ اگر کانا کسی اچھے آدمی کی آنکھ پھوڑ ڈالے تو انہوں نے کہا کہ اس کو اختیار ہے خواہ کانے کی آنکھ پھوڑے خواہ دیت لے ہزار دیناربارہ ہزار دینار۔ کہا مالک نے مجھے پہنچا کہ جو چیزیں انسان کے جسم میں دو دو ہیں اگر دونوں کو کوئی تلف کردے تو پوری دیت دینی ہو گی۔ اسی طرح زبان میں پوری دیت دینی ہو گی۔ اگر کانوں پر ایسی ضرب لگائے جس کی وجہ سے دونوں کی سماعت جاتی رہے اگرچہ کانوں کو نہ کاٹے تب بھی پوری دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح ذکر (عضوتناسل) اور انیثین (فوطوں) میں پوری دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے مجھے پہنچا جب عورت کی دونوں چھاتیاں کاٹ ڈالے تو اس میں پوری دیت ہوگی لیکن ابروؤں کے اور مرد کی دونوں چھاتیاں کاٹ ڈالنے میں پوری دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے اور دونوں پاؤں اور دونوں آنکھیں بھی اس کی پھوڑ ڈالیں تو اس کو پوری دیت ملے گی ہاتھوں کی الگ اور پاؤں کی الگ اور آنکھوں کی الگ یعنی تین دیتیں دینی ہوں گی۔ کہا مالک نے اگر کانے کی جو آنکھ اچھی تھی اس کو کسی نے پھوڑ ڈالاخطا سے تو پوری دیت لازم ہوگی۔
حدیث 1566 — موطأ مالك 43:15
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، كَانَ يَقُولُ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ إِذَا طَفِئَتْ مِائَةُ دِينَارٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ شَتَرِ الْعَيْنِ وَحِجَاجِ الْعَيْنِ فَقَالَ لَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلاَّ الاِجْتِهَادُ إِلاَّ أَنْ يَنْقُصَ بَصَرُ الْعَيْنِ فَيَكُونُ لَهُ بِقَدْرِ مَا نَقَصَ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ الْعَوْرَاءِ إِذَا طَفِئَتْ وَفِي الْيَدِ الشَّلاَّءِ إِذَا قُطِعَتْ إِنَّهُ لَيْسَ فِي ذَلِكَ إِلاَّ الاِجْتِهَادُ وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ عَقْلٌ مُسَمًّى ‏.‏
زید بن ثابت کہتے تھے کہ جب آنکھ قائم رہے اور روشنی جاتی رہے تو سو دینار ہوں گے ۔
حدیث 1567 — موطأ مالك 43:16
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَذْكُرُ أَنَّ الْمُوضِحَةَ، فِي الْوَجْهِ مِثْلُ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ إِلاَّ أَنْ تَعِيبَ الْوَجْهَ فَيُزَادُ فِي عَقْلِهَا مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَقْلِ نِصْفِ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ فَيَكُونُ فِيهَا خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ دِينَارًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ فِي الْمُنَقَّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً ‏.‏ قَالَ وَالْمُنَقَّلَةُ الَّتِي يَطِيرُ فِرَاشُهَا مِنَ الْعَظْمِ وَلاَ تَخْرِقُ إِلَى الدِّمَاغِ وَهِيَ تَكُونُ فِي الرَّأْسِ وَفِي الْوَجْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَأْمُومَةَ وَالْجَائِفَةَ لَيْسَ فِيهِمَا قَوَدٌ ‏.‏ وَقَدْ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَيْسَ فِي الْمَأْمُومَةِ قَوَدٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْمَأْمُومَةُ مَا خَرَقَ الْعَظْمَ إِلَى الدِّمَاغِ وَلاَ تَكُونُ الْمَأْمُومَةُ إِلاَّ فِي الرَّأْسِ وَمَا يَصِلُ إِلَى الدِّمَاغِ إِذَا خَرَقَ الْعَظْمَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ مِنَ الشِّجَاجِ عَقْلٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمُوضِحَةَ وَإِنَّمَا الْعَقْلُ فِي الْمُوضِحَةِ فَمَا فَوْقَهَا وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَهَى إِلَى الْمُوضِحَةِ فِي كِتَابِهِ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَجَعَلَ فِيهَا خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ وَلَمْ تَقْضِ الأَئِمَّةُ فِي الْقَدِيمِ وَلاَ فِي الْحَدِيثِ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ بِعَقْلٍ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَذْكُرُ أَنَّ الْمُوضِحَةَ، فِي الْوَجْهِ مِثْلُ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ إِلاَّ أَنْ تَعِيبَ الْوَجْهَ فَيُزَادُ فِي عَقْلِهَا مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَقْلِ نِصْفِ الْمُوضِحَةِ فِي الرَّأْسِ فَيَكُونُ فِيهَا خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ دِينَارًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ فِي الْمُنَقَّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً ‏.‏ قَالَ وَالْمُنَقَّلَةُ الَّتِي يَطِيرُ فِرَاشُهَا مِنَ الْعَظْمِ وَلاَ تَخْرِقُ إِلَى الدِّمَاغِ وَهِيَ تَكُونُ فِي الرَّأْسِ وَفِي الْوَجْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَأْمُومَةَ وَالْجَائِفَةَ لَيْسَ فِيهِمَا قَوَدٌ ‏.‏ وَقَدْ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَيْسَ فِي الْمَأْمُومَةِ قَوَدٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْمَأْمُومَةُ مَا خَرَقَ الْعَظْمَ إِلَى الدِّمَاغِ وَلاَ تَكُونُ الْمَأْمُومَةُ إِلاَّ فِي الرَّأْسِ وَمَا يَصِلُ إِلَى الدِّمَاغِ إِذَا خَرَقَ الْعَظْمَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ مِنَ الشِّجَاجِ عَقْلٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمُوضِحَةَ وَإِنَّمَا الْعَقْلُ فِي الْمُوضِحَةِ فَمَا فَوْقَهَا وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَهَى إِلَى الْمُوضِحَةِ فِي كِتَابِهِ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَجَعَلَ فِيهَا خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ وَلَمْ تَقْضِ الأَئِمَّةُ فِي الْقَدِيمِ وَلاَ فِي الْحَدِيثِ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ بِعَقْلٍ ‏.‏
حدیث 1568 — موطأ مالك 43:17
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ كُلُّ نَافِذَةٍ فِي عُضْوٍ مِنَ الأَعْضَاءِ فَفِيهَا ثُلُثُ عَقْلِ ذَلِكَ الْعُضْوِ ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا کہ جو زخم پار ہو جائے کسی عضو میں تو اس کی دیت دینی ہوگی ۔ کہا مالک نے ابن شہاب کی یہ رائے نہ تھی۔
حدیث 1569 — موطأ مالك 43:18
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، كَانَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ يَرَى ذَلِكَ وَأَنَا لاَ، أَرَى فِي نَافِذَةٍ فِي عُضْوٍ مِنَ الأَعْضَاءِ فِي الْجَسَدِ أَمْرًا مُجْتَمَعًا عَلَيْهِ وَلَكِنِّي أَرَى فِيهَا الاِجْتِهَادَ يَجْتَهِدُ الإِمَامُ فِي ذَلِكَ وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ أَمْرٌ مُجْتَمَعٌ عَلَيْهِ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَأْمُومَةَ وَالْمُنَقَّلَةَ وَالْمُوضِحَةَ لاَ تَكُونُ إِلاَّ فِي الْوَجْهِ وَالرَّأْسِ فَمَا كَانَ فِي الْجَسَدِ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيهِ إِلاَّ الاِجْتِهَادُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَلاَ أَرَى اللَّحْىَ الأَسْفَلَ وَالأَنْفَ مِنَ الرَّأْسِ فِي جِرَاحِهِمَا لأَنَّهُمَا عَظْمَانِ مُنْفَرِدَانِ وَالرَّأْسُ بَعْدَهُمَا عَظْمٌ وَاحِدٌ ‏.‏
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، كَانَ ابْنُ شِهَابٍ لاَ يَرَى ذَلِكَ وَأَنَا لاَ، أَرَى فِي نَافِذَةٍ فِي عُضْوٍ مِنَ الأَعْضَاءِ فِي الْجَسَدِ أَمْرًا مُجْتَمَعًا عَلَيْهِ وَلَكِنِّي أَرَى فِيهَا الاِجْتِهَادَ يَجْتَهِدُ الإِمَامُ فِي ذَلِكَ وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ أَمْرٌ مُجْتَمَعٌ عَلَيْهِ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمَأْمُومَةَ وَالْمُنَقَّلَةَ وَالْمُوضِحَةَ لاَ تَكُونُ إِلاَّ فِي الْوَجْهِ وَالرَّأْسِ فَمَا كَانَ فِي الْجَسَدِ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيهِ إِلاَّ الاِجْتِهَادُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَلاَ أَرَى اللَّحْىَ الأَسْفَلَ وَالأَنْفَ مِنَ الرَّأْسِ فِي جِرَاحِهِمَا لأَنَّهُمَا عَظْمَانِ مُنْفَرِدَانِ وَالرَّأْسُ بَعْدَهُمَا عَظْمٌ وَاحِدٌ ‏.‏
حدیث 1570 — موطأ مالك 43:19
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَقَادَ مِنَ الْمُنَقَّلَةِ ‏.‏
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قصاص لیا منقلہ کا
حدیث 1571 — موطأ مالك 43:20
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ كَمْ فِي إِصْبَعِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ فَقُلْتُ كَمْ فِي إِصْبَعَيْنِ قَالَ عِشْرُونَ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ فَقُلْتُ كَمْ فِي ثَلاَثٍ فَقَالَ ثَلاَثُونَ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ فَقُلْتُ كَمْ فِي أَرْبَعٍ قَالَ عِشْرُونَ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ فَقُلْتُ حِينَ عَظُمَ جُرْحُهَا وَاشْتَدَّتْ مُصِيبَتُهَا نَقَصَ عَقْلُهَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَعِرَاقِيٌّ أَنْتَ فَقُلْتُ بَلْ عَالِمٌ مُتَثَبِّتٌ أَوْ جَاهِلٌ مُتَعَلِّمٌ ‏.‏ فَقَالَ سَعِيدٌ هِيَ السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي أَصَابِعِ الْكَفِّ إِذَا قُطِعَتْ فَقَدْ تَمَّ عَقْلُهَا وَذَلِكَ أَنَّ خَمْسَ الأَصَابِعِ إِذَا قُطِعَتْ كَانَ عَقْلُهَا عَقْلَ الْكَفِّ خَمْسِينَ مِنَ الإِبِلِ فِي كُلِّ إِصْبَعٍ عَشَرَةٌ مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَحِسَابُ الأَصَابِعِ ثَلاَثَةٌ وَثَلاَثُونَ دِينَارٍ وَثُلُثُ دِينَارٍ فِي كُلِّ أَنْمُلَةٍ وَهِيَ مِنَ الإِبِلِ ثَلاَثُ فَرَائِضَ وَثُلُثُ فَرِيضَةٍ ‏.‏
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کہ عورت کی انگلی میں کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ دس اونٹ ہیں میں نے کہا دو انگلیوں میں تو انہوں نے کہا بیس اونٹ ہیں میں نے کہا تین انگلیوں میں تو انہوں نے کہا تیس اونٹ میں نے کہا چار انگلیوں میں تو انہوں نے کہا بیس اونٹ میں نے کہا کیا خوب جب زخم زیادہ ہو گیا اور نقصان زیادہ ہو تو دیت کم ہوگئی سعد نے کہا کیا تو عراقی ہے میں نے کہا نہیں بلکہ مجھے جس چیز کا علم ہے اس پر جما ہوا ہوں اور جو چیز نہیں جانتا اس کو پوچھتا ہوں سعید نے کہا کہ سنت میں ایسا ہی ہے اے میرے بھائی کے بیٹے کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ جب پوری ایک ہتھیلی کی انگلیاں کاٹ ڈالی جائیں تو دیت لازم ہوگی اس حساب سے کہ ہر انگلی میں دس اونٹ تو پچاس اونٹ لازم ہوں گے اور ہتھیلی بھی اگر اس کی کاٹی جائے تو اس میں حاکم کی رائے کے موافق دینا ہو گا۔ دنانیر کے حساب سے ہر انگلی کے سو دینار اور ہر ایک پور کے تینتیس دینار ہوئے اور ہر ایک پور کے تین اونٹ اور ثلث اونٹ ہوئے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔