قرآني·Qurani
اردو

الصيد

15 احادیث · #1052–1066

حدیث 1052 — موطأ مالك 25:1
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ رَمَيْتُ طَائِرَيْنِ بِحَجَرٍ وَأَنَا بِالْجُرْفِ، فَأَصَبْتُهُمَا فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَمَاتَ فَطَرَحَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَمَّا الآخَرُ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُذَكِّيهِ بِقَدُومٍ فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُذَكِّيَهُ فَطَرَحَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَيْضًا ‏.‏
نافع نے کہا میں نے دو چڑیاں ماریں پتھر سے جرف میں ایک مر گئی اس کو پھینک دیا عبداللہ بن عمر نے اور دوسری کو دوڑے ذبح کرنے کو بسولے سے وہ مر گئی ذبح سے پہلے، اس کو بھی پھینک دیا عبداللہ بن عمر نے قاسم بن محمد؛ اس جانور کو کھانا مکروہ جانتے تھے جو لاٹھی یا گولی سے مارا جائے سعید بن مسیب مکروہ جانتے تھے ہلے ہوئے جانور کا مارنا اس طرح جیسے شکار کو مارتے ہیں تیر وغیرہ سے ۔
حدیث 1053 — موطأ مالك 25:2
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، كَانَ يَكْرَهُ مَا قَتَلَ الْمِعْرَاضُ وَالْبُنْدُقَةُ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، كَانَ يَكْرَهُ مَا قَتَلَ الْمِعْرَاضُ وَالْبُنْدُقَةُ ‏.‏
حدیث 1054 — موطأ مالك 25:3
Maqtu Daif
حدیث 1055 — موطأ مالك 25:4
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ كُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ إِنْ قَتَلَ وَإِنْ لَمْ يَقْتُلْ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ كُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ إِنْ قَتَلَ وَإِنْ لَمْ يَقْتُلْ ‏.‏
حدیث 1056 — موطأ مالك 25:5
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَمَّنْ سَمِعَ نَافِعًا، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَإِنْ أَكَلَ وَإِنْ لَمْ يَأْكُلْ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَمَّنْ سَمِعَ نَافِعًا، يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَإِنْ أَكَلَ وَإِنْ لَمْ يَأْكُلْ ‏.‏
حدیث 1057 — موطأ مالك 25:6
Mauquf Hasan
عبداللہ بن عمر کہتے ہیں اگرچہ وہ کتا اس شکار میں سے کچھ کھالے تب بھی اس کا کھانا درست ہے ۔ سعد بن ابی وقاص سے سوال ہوا کہ سیکھتا ہوا کتا اگر شکار کو مار کر کھالے تو؟ سعد نے کہا کہ تو کھالے جس قدر بچ رہے اگرچہ ایک ہی بوٹی ہو ۔ کہا مالک نے میں نے سنا اہل علم سے کہتے تھے کہ باز اور عقاب اور صقر اور جو جانور ان کے مشابہ ہیں اگر ان کو تعلیم دی جائے اور وہ سمجھدار ہو جائیں جیسے سکھائے ہوئے کتے سمجھدار ہوتے ہیں تو ان کا مارا ہوا جانور بھی درست ہے بشرطیکہ بسم اللہ کہہ کر چھوڑے جائیں ۔۔ کہا مالک نے اگر باز کے پنچے سے یا کتے کے منہ سے شکار چھوٹ کر مر جائے تو اس کا کھانا درست نہیں ۔ کہا مالک نے نے جس جانور کے ذبح کرنے پر آدمی قادر ہو جائے مگر اس کو ذبح نہ کرے اور باز کے پنجے یا کتے کے منہ میں رہنے دے یہاں تک کہ باز یا کتا اس کو مار ڈالے تو اس کا کھانا درست نہیں ۔
حدیث 1058 — موطأ مالك 25:7
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَنَهَاهُ عَنْ أَكْلِهِ، ‏.‏ قَالَ نَافِعٌ ثُمَّ انْقَلَبَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ فَقَرَأَ ‏{‏أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ‏}‏ قَالَ نَافِعٌ فَأَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِأَكْلِهِ ‏.‏
عبدالرحمن بن ابی ہریرہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے اس جانور کے بارے جس کو دریا پھینک دے، تو منع کیا عبداللہ نے اس کے کھانے سے، پھر عبداللہ گھر گئے اور کلام اللہ کو منگوایا اور پڑھا اس آیت کو "حلال کیا گیا واسطے تمہارے شکار دریا کا اور طعام دریا کا " نافع نے کہا پھر عبداللہ بن عمر نے مجھ کو بھیجا عبدالرحمن بن ابی اہریرہ کے پاس یہ کہنے کو کہ اس جانور کا کھانا درست ہے ۔
حدیث 1059 — موطأ مالك 25:8
Mauquf Hasan
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْحِيتَانِ، يَقْتُلُ بَعْضُهَا بَعْضًا أَوْ تَمُوتُ صَرَدًا فَقَالَ لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ ثُمَّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
سعد جاری مولیٰ عمر بن خطاب نے کہا کہ میں نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے جو مچھلیاں ان کو مچھلیاں مار ڈالیں یا سردی سے مر جائیں انہوں نے کہا ان کا کھانا درست ہے پھر میں نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ۔
حدیث 1060 — موطأ مالك 25:9
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمَا كَانَا لاَ يَرَيَانِ بِمَا لَفَظَ الْبَحْرُ بَأْسًا ‏.‏
ابوہریرہ اور زید بن ثابت اس جانور کا کھانا جس کو دریا پھینک دے درست جانتے تھے ۔
حدیث 1061 — موطأ مالك 25:10
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَهْلِ الْجَارِ قَدِمُوا فَسَأَلُوا مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ عَمَّا لَفَظَ الْبَحْرُ فَقَالَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَقَالَ اذْهَبُوا إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَاسْأَلُوهُمَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ ائْتُونِي فَأَخْبِرُونِي مَاذَا يَقُولاَنِ فَأَتَوْهُمَا فَسَأَلُوهُمَا فَقَالاَ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ فَأَتَوْا مَرْوَانَ فَأَخْبَرُوهُ ‏.‏ فَقَالَ مَرْوَانُ قَدْ قُلْتُ لَكُمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ بَأْسَ بِأَكْلِ الْحِيتَانِ يَصِيدُهَا الْمَجُوسِيُّ لأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْبَحْرِ ‏ "‏ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِذَا أُكِلَ ذَلِكَ مَيْتًا فَلاَ يَضُرُّهُ مَنْ صَادَهُ ‏.‏
ابی سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ کچھ لوگ جار کے رہنے والے مروان کے پاس آئے اور پوچھا کہ جس جانور کو دریا پیھنک دے اس کا کیا حکم ہے مروان نے کہا اس کا کھانا درست ہے اور تم جاؤ زید بن ثابت اور ابوہریرہ کے پاس اور پوچھو ان سے پھر مجھ کو آن کر خبر کرو کیا کہتے ہیں، انہوں نے پوچھا ان دونوں سے دونوں نے کہا درست ہے ان لوگوں نے پھر آن کر مروان سے کہا مروان نے کہا میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ چکا تھا ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔