قرآني·Qurani
اردو

الطلاق

122 احادیث · #1150–1271

حدیث 1250 — موطأ مالك 29:47
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمَرْأَةِ الْبَدَوِيَّةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِنَّهَا تَنْتَوِي حَيْثُ انْتَوَى أَهْلُهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
ہشام بن عروہ سے روایت ہے ان کے باپ عروہ کہتے تھے کہ جو لوگ جنگل میں رہا کرتے ہیں اگر ان میں سے کسی کا خاوند مرجائے تو وہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہے جہاں وہ اتریں وہاں وہ بھی اترے ۔ (عذر کی وجہ سے)
حدیث 1251 — موطأ مالك 29:48
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ تَبِيتُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَلاَ الْمَبْتُوتَةُ إِلاَّ فِي بَيْتِهَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے یا طلاق دے دے وہ رات کو اپنے گھر میں رہا کرے ۔
حدیث 1252 — موطأ مالك 29:49
Maqtu Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ إِنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ فَرَّقَ بَيْنَ رِجَالٍ وَبَيْنَ نِسَائِهِمْ وَكُنَّ أُمَّهَاتِ أَوْلاَدِ رِجَالٍ هَلَكُوا فَتَزَوَّجُوهُنَّ بَعْدَ حَيْضَةٍ أَوْ حَيْضَتَيْنِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ حَتَّى يَعْتَدُّونَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏.‏ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ سُبْحَانَ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا‏}‏ مَا هُنَّ مِنَ الأَزْوَاجِ ‏.‏
قاسم بن محمد کہتے تھے کہ یزید بن عبدالملک نے مردوں اور ان عورتوں کے درمیان جو ام ولد تھیں تفریق کر دی اور ان کے مولیٰ مر گئے تھے انہوں نے ایک حیض یا دو حیض کے بعد نکاح کر لئے تھے اور حکم دیا چار مہینے دس دن عدت کرنے کاتب قاسم بن محمد نے کہا سبحان اللہ اللہ فرماتا ہے جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت کریں اور ام دلد بیبیوں میں داخل نہیں ۔
حدیث 1253 — موطأ مالك 29:50
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا حَيْضَةٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمر نے کہا ام ولد کا مولیٰ جب مر جائے تو ایک حیض تک عدت کرے ۔
حدیث 1254 — موطأ مالك 29:51
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا حَيْضَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهُوَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ مِمَّنْ تَحِيضُ فَعِدَّتُهَا ثَلاَثَةُ أَشْهُرٍ ‏.‏
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ ام ولد کا جب آقا مر جائے تو ایک حیض تک عدت کرے اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے
حدیث 1255 — موطأ مالك 29:52
Maqtu Daif
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، كَانَا يَقُولاَنِ عِدَّةُ الأَمَةِ إِذَا هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَانِ وَخَمْسُ لَيَالٍ ‏.‏
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، كَانَا يَقُولاَنِ عِدَّةُ الأَمَةِ إِذَا هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَانِ وَخَمْسُ لَيَالٍ ‏.‏
حدیث 1256 — موطأ مالك 29:53
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ يُطَلِّقُ الأَمَةَ طَلاَقًا لَمْ يَبُتَّهَا فِيهِ لَهُ عَلَيْهَا فِيهِ الرَّجْعَةُ ثُمَّ يَمُوتُ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلاَقِهِ إِنَّهَا تَعْتَدُّ عِدَّةَ الأَمَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَيْنِ وَخَمْسَ لَيَالٍ وَإِنَّهَا إِنْ عَتَقَتْ وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ ثُمَّ لَمْ تَخْتَرْ فِرَاقَهُ بَعْدَ الْعِتْقِ حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلاَقِهِ اعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْحُرَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَذَلِكَ أَنَّهَا إِنَّمَا وَقَعَتْ عَلَيْهَا عِدَّةُ الْوَفَاةِ بَعْدَ مَا عَتَقَتْ فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْحُرَّةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ لونڈی کا خاوند جب مر جائے تو اس کی عدت دو مہینے پانچ دن ہے ۔ ابن شہاب نے بھی ایسا ہی کہا ہے ۔ کہا مالک نے جو غلام لونڈی کو طلاق رجعی دے پھر مرجائے اور اس کی عورت عدت میں ہو تو اب دو مہینے پانچ دن تک عدت کرے۔ اگر وہ لونڈی آزاد ہوجائے اور اپنے خاوند سے جدا نہ ہونا چاہے یہاں تک کہ خاوند اس کا عدت میں مرجائے تو اب وہ لونڈی مثل آزاد عورت کے چار مہینے دس دن تک عدت کرے کیونکہ عدت وفات کے بعد آزادی کے اس پر لازم ہوئی تو مثل آزاد عورت کے کرنا چاہیے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
حدیث 1257 — موطأ مالك 29:54
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْىِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ فَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ ‏.‏ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ وَهِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابن محیریز سے روای تھے کہ میں مسجد میں گیا وہاں ابوسعید خدری کو بیٹھے دیکھا میں نے پوچھا عزل درست ہوئے انہوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بن مصطلق میں گئے وہاں عورتیں کافروں کی قید ہوئی ہم لوگوں کو شہوت ہوئی اور مجردی دشوار گزری اور یہ بھی کہ ہم چاہتے تھے کہ ان عورتوں کو بیچ کر روپیہ حاصل کریں اس لے ہم نے چاہا کہ عزل کریں پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے کیونکر عزل کریں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عزل رکنے میں کچھ قباحت نہیں کیونکہ جس جان کو پیدا کرنا اللہ کو منظور ہے وہ خوار مخواہ پیدا ہوگی قیامت تک ۔
حدیث 1258 — موطأ مالك 29:55
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ ‏.‏
سعد بن ابی وقاص عزل کرتے تھے
حدیث 1259 — موطأ مالك 29:56
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ، لأَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ ‏.‏
ابو ایوب انصاری عزل کرتے تھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔