قرآني·Qurani
اردو

الطلاق

122 احادیث · #1150–1271

حدیث 1160 — موطأ مالك 29:11
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ بِهِ إِلاَّ أَنْ يُنْكِرَ عَلَيْهَا وَيَقُولَ لَمْ أُرِدْ إِلاَّ وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ وَيَكُونُ أَمْلَكَ بِهَا مَا كَانَتْ فِي عِدَّتِهَا ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے تو جب بھی طلاق عورت چاہے اپنے اوپر ڈال لے مگر جب خاوند انکار کرے اور کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اور حلف کرے تو اس عورت کامستحق ہوگا جب تک وہ عدت میں ہے ۔
حدیث 1161 — موطأ مالك 29:12
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ الْقَدَرُ ‏.‏ فَقَالَ زَيْدٌ ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَمْلَكُ بِهَا ‏.‏
خارجہ بن زید سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ زید بن ثابت کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے زید نے پوچھا کیوں انہوں نے کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے مجھے چھوڑ دیا زید نے کہا تو نے کیوں اختیار دیا انہوں نے کہا تقدیر میں یوں ہی تھا زید نے کہا اگر تو چاہے تو رجعت کر لے کیونکہ ایک طلاق پڑی ہے ابھی تو اس کا مالک ہے۔
حدیث 1162 — موطأ مالك 29:13
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ ثَقِيفٍ مَلَّكَ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَقَالَتْ أَنْتَ الطَّلاَقُ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ الطَّلاَقُ فَقَالَ بِفِيكِ الْحَجَرُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَتْ أَنْتَ الطَّلاَقُ فَقَالَ بِفِيكِ الْحَجَرُ ‏.‏ فَاخْتَصَمَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَاسْتَحْلَفَهُ مَا مَلَّكَهَا إِلاَّ وَاحِدَةً وَرَدَّهَا إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَكَانَ الْقَاسِمُ يُعْجِبُهُ هَذَا الْقَضَاءُ وَيَرَاهُ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ وَأَحَبُّهُ إِلَىَّ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص ثقفی نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا اس نے اپنے تئیں ایک طلاق دی یہ چپ ہو رہا پھر اس نے دوسری طلاق دی اس نے کہا تیرے منہ میں پتھر اس نے تیسری طلاق دی اس نے کہا تیرے منہ میں پتھر پھر دونوں لڑتے ہرئے مروان کے پاس آئے مروان نے اس بات کی قسم لی کہ میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اس کے بعد وہ عورت اس کے حوالہ کر دی ۔ کہا مالک نے عبدالرحمن کہتے تھے کہ قاسم بن محمد اس فیصلہ کو پسند کرتے تھے اور مجھے بھی بہت پسند ہے۔
حدیث 1163 — موطأ مالك 29:14
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا خَطَبَتْ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قُرَيْبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ فَزَوَّجُوهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالُوا مَا زَوَّجْنَا إِلاَّ عَائِشَةَ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَجَعَلَ أَمْرَ قُرَيْبَةَ بِيَدِهَا فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلاَقًا ‏.‏
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی عبدالرحمن کا پیام بھیجا قریبہ بنت ابی امیہ کے پاس ان کے لوگوں نے ان کا عبدالرحمن کے ساتھ نکاح کر دیا اس کے بعد لڑائی ہوئی ان لوگوں نے کہا یہ نکاح حضرت عائشہ نے کروایا ہے حضرت عائشہ نے عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا عبدالرحمن نے اختیار دے دیا قریبہ نے اپنے خاوند کو اختیار کیا اس کو طلاق نہ سمجھا ۔
حدیث 1164 — موطأ مالك 29:15
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَوَّجَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ - وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ - فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ وَمِثْلِي يُصْنَعُ هَذَا بِهِ وَمِثْلِي يُفْتَاتُ عَلَيْهِ فَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ الْمُنْذِرُ فَإِنَّ ذَلِكَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا كُنْتُ لأَرُدَّ أَمْرًا قَضَيْتِيهِ فَقَرَّتْ حَفْصَةُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلاَقًا ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے حفصہ بنت عبدالرحمن (اپنی بھتیجی) کا منذر بن زبیر سے نکاح کیا اور عبدالرحمن جو کہ لڑکی کے باپ تھے شام کو گئے ہوئے تھے جب عبدالرحمن آئے تو انہوں نے کہا کیا مجھ ہی سے ایسا کرنا تھا اور میرے اوپر جلدی کرنا تھا۔ف1 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے منذر بن زبیر سے بیان کیا منذر نے کہا عبدالرحمن کو اختیار ہے۔ عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہا جس کام کو تم کر چکیں اس کام کو میں توڑنے والا نہیں پھر رہیں حضرت حفصہ منذر کے پاس اور اس اختیار کو طلاق نہ سمجھا۔ مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال ہوا ایک شخص اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے مگر عورت اس کو قبول نہ کرے نہ اپنے تئیں طلاق دے انہوں نے کہا طلاق نہ پڑے گی ۔
حدیث 1165 — موطأ مالك 29:16
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ سُئِلاَ عَنِ الرَّجُلِ، يُمَلِّكُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَتَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلاَ تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا فَقَالاَ لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاَقٍ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا، هُرَيْرَةَ سُئِلاَ عَنِ الرَّجُلِ، يُمَلِّكُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَتَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلاَ تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا فَقَالاَ لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاَقٍ ‏.‏
حدیث 1166 — موطأ مالك 29:17
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَلَمْ تُفَارِقْهُ وَقَرَّتْ عِنْدَهُ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاَقٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُمَلَّكَةِ إِذَا مَلَّكَهَا زَوْجُهَا أَمْرَهَا ثُمَّ افْتَرَقَا وَلَمْ تَقْبَلْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَيْسَ بِيَدِهَا مِنْ ذَلِكَ شَىْءٌ وَهُوَ لَهَا مَا دَامَا فِي مَجْلِسِهِمَا ‏.‏
سعید بن مسیب نے کہا جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے مگر عورت خاوند سے جدا ہونا قبول نہ کرے اسی کے پاس رہنا چاہے تو طلاق نہ ہوگی ۔ کہا مالک نے جس مجلس میں خاوند عورت کو طلاق کا اختیار دے اسی مجلس میں عورت کو اختیار ہوگا اگر وہ مجلس برخواست ہوئی اور عورت نے طلاق نہ لی تو پھر اختیار نہ رہے گا۔
حدیث 1167 — موطأ مالك #1167
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ طَلاَقٌ وَإِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ حَتَّى يُوقَفَ فَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ وَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
کہا مالک نے ایک شخص نے اسباب رہن رکھا وہ مرتہن کے پاس تلف ہوگیا لیکن راہن اور متہن کو زر رہن کی مقدار میں اختلاف نہیں ہے البتہ شئے مرہوں کی قیمت میں اختلاف ہے راہن کہتا ہے اس کی قیمت بیس دینار ہے ۔ اور مرتہن کہتا ہے اس کی قیمت دس دینار تھی اور رہن بیس دینار ہے اور مرہن سے کہا جائے گا کہ شئے مرہوں کے اوصاف بیان کر جب وہ بیان کرے تو اس سے حلف لے کر نگاہ والوں سے ایسی شئے کی قیمت دریافت کریں اگر وہ قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو مرتہن سے کہا جائے گا جس قدر زیادہ ہے وہ راہن کو دے اگر قیمت کم ہے تو مرتہن جس قدر کم ہے راہن سے لے لے اگر برابر ہے تو خیر قصہ چکا نہ یہ کچھ دے نہ وہ کچھ دے۔
حدیث 1168 — موطأ مالك 29:19
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ وُقِفَ حَتَّى يُطَلِّقَ أَوْ يَفِيءَ وَلاَ يَقَعُ عَلَيْهِ طَلاَقٌ إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ حَتَّى يُوقَفَ ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص ایلا کرے اپنی عورت سے جب چار مہنے گزر جائیں تو خاوند کو حاکم کے سامنے مجبور کریں طلاق دے یا رجوع کرے اور بغیر طلاق دئیے چار مہینے گزر جانے سے عورت پر طلاق نہ پڑے گی ۔
حدیث 1169 — موطأ مالك 29:20
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَا يَقُولاَنِ فِي الرَّجُلِ يُولِي مِنِ امْرَأَتِهِ إِنَّهَا إِذَا مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَلِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ ‏.‏
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے تھے جو شخص ایال کرے اپنی عورت سے تو جب چار مہینے گزر جائیں ایک طلاق پڑ جائے گی مگر خاوند کو اختیار ہے کہ جب تک عورت عدت میں ہے رجعت کر لے ۔ مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم حکم کرتے تھے جب کوئی شخص اپنی عورت سے ایلا کرے اور چار مہینے گز رجائیں تو ایک طلاق پڑ جائے گی مگر خاوند کو اختیار رہے گا کہ جب تک عورت عدت میں ہے رجعت کر لے ۔ کہا مالک نے ابن شہاب کی رائے یہی تھی ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔