قرآني·Qurani
اردو

الطلاق

122 احادیث · #1150–1271

حدیث 1180 — موطأ مالك 29:4
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ إِنَّ الأَمَةَ لَهَا الْخِيَارُ مَا لَمْ يَمَسَّهَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ مَسَّهَا زَوْجُهَا فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ وَلاَ تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنَ الْجَهَالَةِ وَلاَ خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا ‏.‏
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ لونڈی اگر غلام کے نکاح میں ہو پھر آزاد ہو جائے تو اس کو اختیار ہوگا آزادی کے بعد جب تک اس کا شوہر اس اس سے جماع نہ کرے ۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے آزادی کے بعد اس سے جماع کیا اور لونڈی نے یہ کہا کہ مجھ کو یہ اختیار کا مسئلہ معلوم نہیں تھا تو عذر اس کا مسموع نہ ہوگا اور اس کو اختیار نہ رہے گا۔
حدیث 1181 — موطأ مالك 29:5
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَوْلاَةً، لِبَنِي عَدِيٍّ يُقَالُ لَهَا زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ قَالَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَىَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا وَلاَ أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمْسَسْكِ زَوْجُكِ فَإِنْ مَسَّكِ فَلَيْسَ لَكِ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ هُوَ الطَّلاَقُ ثُمَّ الطَّلاَقُ ثُمَّ الطَّلاَقُ ‏.‏ فَفَارَقَتْهُ ثَلاَثًا ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَوْلاَةً، لِبَنِي عَدِيٍّ يُقَالُ لَهَا زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ قَالَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَىَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَتْنِي فَقَالَتْ إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا وَلاَ أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمْسَسْكِ زَوْجُكِ فَإِنْ مَسَّكِ فَلَيْسَ لَكِ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ هُوَ الطَّلاَقُ ثُمَّ الطَّلاَقُ ثُمَّ الطَّلاَقُ ‏.‏ فَفَارَقَتْهُ ثَلاَثًا ‏.‏
حدیث 1182 — موطأ مالك 29:6
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهِ جُنُونٌ أَوْ ضَرَرٌ فَإِنَّهَا تُخَيَّرُ فَإِنْ شَاءَتْ قَرَّتْ وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ ثُمَّ تَعْتِقُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَوْ يَمَسَّهَا إِنَّهَا إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَلاَ صَدَاقَ لَهَا وَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بنی عدی کی لونڈی جس کا نام زبرا تھا ایک غلام کے نکاح میں تھی وہ آزاد ہوگئی حضرت حفصہ نے اس کو بلایا اور کہا میں تجھ سے ایک بات کہتی ہوں مگر یہ نہیں چاہتی کہ تو کچھ کر بیٹھے تجھے اختیار ہے جب تک تیرا خاوند تجھ سے جماع نہ کرے اگر جماع کرے گا پھر تجھے اختیار نہ رہے گا زبرا بول اٹھی اگر ایسا ہی ہے تو طلاق ہے طلاق ہے پھر طلاق ہے جدا ہوگئی اپنے خاوند سے تین بار کہہ کر ۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب نے کہا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور خاوند کو جنون یا اور کوئی مرض نکلے تو عورت کو اختیار ہے خواہ مرد کے پاس رہے یا جدا ہو جائے ۔ کہا مالک نے جو لونڈی غلام کے نکاح میں آئے پھر آزاد ہو جائے صحبت سے پہلے اور خاوند سے جداہونا اختیار کرے تو اس کو مہر نہ ملے گا ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
حدیث 1183 — موطأ مالك 29:7
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْهُ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلاَقٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُخَيَّرَةِ إِذَا خَيَّرَهَا زَوْجُهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَقَدْ طَلُقَتْ ثَلاَثًا وَإِنْ قَالَ زَوْجُهَا لَمْ أُخَيِّرْكِ إِلاَّ وَاحِدَةً فَلَيْسَ لَهُ ذَلِكَ ‏.‏ وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ خَيَّرَهَا فَقَالَتْ قَدْ قَبِلْتُ وَاحِدَةً وَقَالَ لَمْ أُرِدْ هَذَا وَإِنَّمَا خَيَّرْتُكِ فِي الثَّلاَثِ جَمِيعًا أَنَّهَا إِنْ لَمْ تَقْبَلْ إِلاَّ وَاحِدَةً أَقَامَتْ عِنْدَهُ عَلَى نِكَاحِهَا وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِرَاقًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ‏.‏
کہا مالک نے ابن شہاب کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق دے اور عورت خاوند کو اختیار کرے تو طلاق نہ پڑے گی ۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا۔ کہا مالک نے جب مرد عورت کو اختیار دے اور عورت اپنی تئیں اختیار کرے تو تین طلاق پڑ جائیں گی اگر خاوند کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا تو یہ نہ سنا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر خاوند نے بی بی کو طلاق کا اختیار دیا عورت نے کہا میں نے ایک طلاق قبول کی خاوند نے کہا میری غرض یہ نہ تھی میں نے تجھے تین طلاق کا اختیار دیا تھا مگر عورت ایک ہی طلاق کو قبول کرے زیادہ نہ لے تو وہ خاوند سے جدا نہ ہوگی ۔
حدیث 1184 — موطأ مالك 29:8
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عِنْدَ بَابِهِ فِي الْغَلَسِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ أَنَا وَلاَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ‏.‏ لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَاءَ زَوْجُهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ‏"‏ خُذْ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي بَيْتِ أَهْلِهَا ‏.‏
حبیبہ بنت سہل ثابت بن قیس کے نکاح میں تھیں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں فجر کی نماز کو نکلے حبیبہ کو دروازے پر پایا پوچھا کون بولی میں حبیبیہ بنت سہل ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں کیا ہے بولی یا میں نہیں یا ثابت بن قیس نہیں جب ثابت بن قیس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا اس حبیبہ بنت سہل نے مجھ سے کہا جو کچھ اللہ کو منظور تھا حبیبہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت سے فرمایا تم اپنی چیز لے لو انہوں نے لے لی اور حبیبہ اپنے میکے میں بیٹھی رہیں ۔،
حدیث 1185 — موطأ مالك 29:9
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ مَوْلاَةٍ، لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ‏.‏ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَىْءٍ لَهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُفْتَدِيَةِ الَّتِي تَفْتَدِي مِنْ زَوْجِهَا أَنَّهُ إِذَا عُلِمَ أَنَّ زَوْجَهَا أَضَرَّ بِهَا وَضَيَّقَ عَلَيْهَا وَعُلِمَ أَنَّهُ ظَالِمٌ لَهَا مَضَى الطَّلاَقُ وَرَدَّ عَلَيْهَا مَالَهَا ‏.‏ قَالَ فَهَذَا الَّذِي كُنْتُ أَسْمَعُ وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ لاَ بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَا ‏.‏
صفیہ بنت ابوعبید کی لونڈی نے اپنے خاوند سے سارے مال کے بدلے میں خلع کیا تو عبداللہ بن عمر نے اس کو برا نہ جانا ۔ کہا مالک نے جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے پھر معلوم ہو کہ خاوند نے سرا سر ظلم کیا تھا اور عورت کا کچھ قصور نہ تھا بلکہ خاوند نے زور ڈال کر زبردستی سے اس کا پیسہ مار لیا تو عورت پر طلاق پڑ جائے گی ۔ اور مالک اس کا پھر وادیا جائے گا میں نے یہی سنا اور میرے نزدیک یہی حکم ہے اگر عورت جتنا خاوند نے اس کو دیا ہے اس سے زیادہ دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو کچھ قباحت نہیں ۔
حدیث 1186 — موطأ مالك 29:10
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، جَاءَتْ هِيَ وَعَمُّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا فِي زَمَانِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ ‏.‏
نافع سے روایت ہے کہ ربیع بنت معوذ بن عفرا اور ان کی پھوبھی عبداللہ بن عمر کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ انہوں نے اپنے خاوند سے خلع کیا تھا حضرت عثمان کے زمانے میں جب یہ خبر حضرت عثمان کو پہنچی انہوں نے برا نہ جانا عبداللہ بن عمر نے کہا جو عورت خلع کرے اس کی عدت مطلقہ کی عدت کی طرح ہے ۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار اور ابن شہاب کہتے تھے جو عورت خلع کرے وہ تین طہر تک عدت کرے جیسے مطلقہ عدت کرتی ہے ۔ کہا مالک نے جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو پھر اپنے خاوند سے مل نہیں سکتی مگر نیا نکاح کر کے۔ کہا مالک نے یہ میں نے اچھا سنا۔
حدیث 1187 — موطأ مالك 29:11
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَابْنَ، شِهَابٍ كَانُوا يَقُولُونَ عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثَةُ قُرُوءٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُفْتَدِيَةِ إِنَّهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا إِلاَّ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ فَإِنْ هُوَ نَكَحَهَا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا عِدَّةٌ مِنَ الطَّلاَقِ الآخَرِ وَتَبْنِي عَلَى عِدَّتِهَا الأُولَى ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ إِذَا افْتَدَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِشَىْءٍ عَلَى أَنْ يُطَلِّقَهَا فَطَلَّقَهَا طَلاَقًا مُتَتَابِعًا نَسَقًا فَذَلِكَ ثَابِتٌ عَلَيْهِ فَإِنْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ صُمَاتٌ فَمَا أَتْبَعَهُ بَعْدَ الصُّمَاتِ فَلَيْسَ بِشَىْءٍ ‏.‏
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَابْنَ، شِهَابٍ كَانُوا يَقُولُونَ عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ مِثْلُ عِدَّةِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثَةُ قُرُوءٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُفْتَدِيَةِ إِنَّهَا لاَ تَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا إِلاَّ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ فَإِنْ هُوَ نَكَحَهَا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا عِدَّةٌ مِنَ الطَّلاَقِ الآخَرِ وَتَبْنِي عَلَى عِدَّتِهَا الأُولَى ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ إِذَا افْتَدَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِشَىْءٍ عَلَى أَنْ يُطَلِّقَهَا فَطَلَّقَهَا طَلاَقًا مُتَتَابِعًا نَسَقًا فَذَلِكَ ثَابِتٌ عَلَيْهِ فَإِنْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ صُمَاتٌ فَمَا أَتْبَعَهُ بَعْدَ الصُّمَاتِ فَلَيْسَ بِشَىْءٍ ‏.‏
حدیث 1188 — موطأ مالك 29:12
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا ‏.‏ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا ‏.‏ فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلاَعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا ‏.‏ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ تِلْكَ بَعْدُ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏.‏
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی کے پاس آئے اور پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے پھر کیا کرے اگر اس کو مار ڈالے تو خود بھی مارا جاتا ہے تم میرے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کو پوچھو عاصم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو نا پسند کیا اور برا کہا عاصم کو یہ امر نہایت دشوار گزرا وہ جب لوٹ کر اپنے گھر میں آئے عویمر نے آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا عاصم نے کہا تم سے مجھے بھلائی نہ پہنچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو برا جانا عویمر نے کہا قسم اللہ کی میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پوچھے نہ رہوں گا پھر عویمر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لوگ جمع تھے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی بیگانے مرد کو اپنی بی بی کے ساتھ پائے اور اس کو مار ڈالے تو خود مارا جاتا ہے پھر کیا کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بی بی کے حق میں اللہ کا حکم اترا ہے تم اپنی بی بی کو لے آؤ سہل کہتے ہیں دونوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا جب لعان سے فارغ ہوئے عویمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اس عورت کو رکھوں تو گویا میں نے جھوٹ بولا یہ کہہ کر تین طلاق دے دیں بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے ہوئے ابن شہاب نے کہا پھر یہی متلاعنین کا طریقہ جاری رہا ۔
حدیث 1189 — موطأ مالك 29:13
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، لاَعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَانْتَفَلَ مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لعان کیا اور اس کے لڑکے کو یہ کہا کہ میرا نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں تفریق کر دی اور لڑکے کو ماں کے حوالے کر دیا ۔ کہا مالک نے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو لوگ تہمت لگاتے ہیں اپنی جوروؤں کو اور کوئی گواہ نہ ہو ان کے پاس سوائے ان کے خود کے تو اس صورت میں کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار دفعہ گواہی دے اللہ کے نام کی کہ بے شک عورت سچی ہے اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اللہ کی پھٹکار ہو اس شخص پر اگر وہ جھوٹا ہو اور عورت بھی گواہی دے چار دفعہ گواہی اللہ کے نام کی کہ بے شک وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ اللہ کا غضب آئے اس عورت پر اگر وہ شخص سچا ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک سنت یہ ہے کہ متلاعنین پھر کبھی آپس میں نکاح نہیں کر سکتے اور اگر خاوند عبد لعان کے اپنے آپ کو جھٹلا دے تو اس کے تئیں حد قذف پڑے گی۔ اور لڑکے کا نسب پھر اس سے ملا دیا جائے گا یہی سنت ہمارے ہاں چلی آتی ہے جس میں نہ کوئی شک ہے نہ اختلاف۔ کہا مالک نے جب مرد اپنی عورت کو طلاق بائن دے پھر اس کے حمل کو کہے کہ میرا نہیں ہے تو لعان واجب ہوگا۔ جس حالت میں وہ حمل اتنے دنوں کا ہو کہ اس کا ہو سکتا ہو ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اور ہم نے ایسا ہی سنا۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنی عورت کو تین طلاق دیں اور اس کو حمل کا اقرار تھا اس کے بعد اس کو زنا کی تہمت لگائی تو خاوند پر حد قذف پڑے گا اور لعان اس پر واجب نہ ہوگا البتہ اگر طلاق کے بعد اس کے حمل کا انکار کرے تو لعان واجب ہے میں نے ایسا ہی کیا۔ کہا مالک نے غلام بھی لعان اور قذف دونوں میں آزاد شخص کی طرح ہے مگر جو شخص لونڈی کو زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف لازم نہ ہوگی۔ کہا مالک نے جب مسلمان مرد کسی مسلمان لونڈی یا آزاد عورت یا یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کرے اور اس کو زنا کی تہمت لگائے تو لعان واجب ہوگا۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت سے لعان کرے پھر ایک یا دو گواہیوں کے بعد اپنے آپ کو جھٹلائے تو حد قذف لگائی جائے گی اور تفریق نہ ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی عورت کو طلاق دے پھر تین مہینے کے بعد عورت کہے میں حاملہ ہوں اور خاوند اس کے حمل کا انکار کرے تو لعان واجب ہوگا۔ کہا مالک نے جس لونڈی سے اس کا خاوند لعان کرے پھر اس کو خریدے تو اس سے وطی نہ کرے کیونکہ سنت جاری ہے کہ متلاعنین کبھی جمع نہیں ہوتے ۔ کہا مالک نے اگر خاوند اپنی عورت سے لعان کرے صحبت سے پہلے تو عورت کو آدھا مہر ملے گا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔