قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

114 احادیث · #32–145

حدیث 132 — موطأ مالك 2:101
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا حَائِضٌ ‏.‏
حضرت عائشہ نے کہا کنگھی کرتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں اور حائضہ ہوتی تھی ۔
حدیث 133 — موطأ مالك 2:102
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَلْتَقْرُصْهُ ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ لِتُصَلِّي فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
اسما بنت ابی بکر صدیق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اگر ہمارے کپڑے کو خون حیض کا لگ جائے تو کیا کریں فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھر جائے کسی ایک کے کپڑے میں تم سے خون حیض کا تو مل ڈالے اس کو پھر دھو ڈالے پانی سے پھر نماز پڑھے اس کپڑے سے ۔
حدیث 134 — موطأ مالك 2:103
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لاَ أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلاَةَ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
عائشہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بن ابی حبیش نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پاک نہیں ہوتی ہوں تو کیا چھوڑ دوں نماز کو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خون کسی رگ کا ہے اور حیض نہیں ہے تو جب حیض آئے تو چھوڑ دے نماز کو پھر جب مدت گزر جائے تو خون دھو کر نماز پڑھ لے ۔
حدیث 135 — موطأ مالك 2:104
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لِتَنْظُرْ إِلَى عَدَدِ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلاَةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّي ‏"‏ ‏.‏
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خون بہا کرتا تھا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تو فتوی پوچھا اسی کے واسطے ام سلمہ نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شمار کرے ان دنوں اور راتوں کا جن میں حیض آتا تھا قبل اس بیماری کے تو چھوڑ دے نماز کو اس قدر مدت میں ہر مہینے سے پس جب گز رجائے وہ مدت تو غسل کرے اور ایک کپڑا باندھ لے فرج پر پھر نماز پڑھے ۔
حدیث 136 — موطأ مالك 2:105
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا رَأَتْ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَكَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ‏.‏
زینب بن ابی سلمہ نے دیکھا زینب بنت جحش کو جو نکاح میں تھیں عبدالرحمن بن عوف کے ان کو استحاضہ تھا اور وہ غسل کر کے نماز پڑھتی تھیں ۔
حدیث 137 — موطأ مالك 2:106
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ الْقَعْقَاعَ بْنَ حَكِيمٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، أَرْسَلاَهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ يَسْأَلُهُ كَيْفَ تَغْتَسِلُ الْمُسْتَحَاضَةُ فَقَالَ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَثْفَرَتْ ‏.‏
قعقاع بن حکیم اور زید بن اسلم نے سمی کو بھیجا سعید بن مسیب کے پاس کہ پوچھیں ان سے کیوں کر غسل کرے مستحاضہ کہا سعید نے غسل کرے ایک طہر سے دوسرے طہر تک اور وضو کرے ہر نماز کے لئے تو اگر خون بہت آئے تو ایک کپڑا باندھ لے اپنی فرج پر ۔
حدیث 138 — موطأ مالك 2:107
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَحَاضَةِ إِلاَّ أَنْ تَغْتَسِلَ غُسْلاً وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأُ بَعْدَ ذَلِكَ لِكُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ إِذَا صَلَّتْ أَنَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يُصِيبَهَا وَكَذَلِكَ النُّفَسَاءُ إِذَا بَلَغَتْ أَقْصَى مَا يُمْسِكُ النِّسَاءَ الدَّمُ فَإِنْ رَأَتِ الدَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يُصِيبُهَا زَوْجُهَا وَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ عَلَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ ‏.‏
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہا انہوں نے مستحاضہ پر ایک ہی غسل ہے پھر وضو کیا کرے ہر نماز کے لئے ۔
حدیث 139 — موطأ مالك 2:108
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لڑکا لائے سو اس نے پیشاب کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پس منگوایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی تو ڈال دیا اس پر ۔
حدیث 140 — موطأ مالك 2:109
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْلَسَهُ فِي حَجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ ‏.‏
ام قیس سے روایت ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچے کو جس نے نہ کھانا کھایا تھا لے آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تو بٹھا لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو گود میں اپنی تو پیشاب کر دیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پس منگایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور ڈال دیا اس پر اور نہ دھویا کپڑے کو ۔
حدیث 141 — موطأ مالك 2:110
ضعیف
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ فَكَشَفَ عَنْ فَرْجِهِ لِيَبُولَ فَصَاحَ النَّاسُ بِهِ حَتَّى عَلاَ الصَّوْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اتْرُكُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَتَرَكُوهُ فَبَالَ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى ذَلِكَ الْمَكَانِ ‏.‏
یحیی بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں آیا اور ستر اپنا کھولا پیشاب کے لئے تو غل مچایا لوگوں نے اور بڑا پکارا تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دو اس کو پس چھوڑ دیا لوگوں نے جب وہ پیشاب کر چکا تو حکم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی کا ڈال دیا گیا اس جگہ پر ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔