وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ وَضُوءًا فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فِي إِنَاءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ يَتَوَضَّئُونَ مِنْهُ - قَالَ أَنَسٌ - فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ .
انس بن مالک سے روایت ہے کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قریب آگیا عصر کا وقت پس ڈھونڈا لوگوں نے پانی وضو کے لئے مگر نہ پایا اور ایک برتن میں پانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھ دیا اور لوگوں کو حکم دیا وضو کرنے کا انس کہتے ہیں کہ میں دیکھتا تھا پانی کا فوارہ نکلتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پھر وضو کر لیا لوگوں نے یہاں تک کہ جو سب سے اخیر میں تھا اس نے بھی وضو کر لیا ۔
نعیم بن عبداللہ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے جس نے وضو کیا اچھی طرح پھر نکلا نماز کی نیت سے تو وہ گویا نماز میں ہے جب تک نماز کا قصد رکھتا ہے ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹائی جاتی ہے تو جب کوئی تم میں سے تکبیر نماز کی سنے تو نہ دوڑے کیونکہ زیادہ ثواب اسی کو ہے جس کا مکان زیادہ دور ہو کہا انہوں نے کیوں اے ابوہریرہ کہا اس وجہ سے کہ اس کے قدم زیادہ ہوں گے
سعید بن مسیب سوال کئے گئے بعد پاخانے کے پانی لینے سے تو کہا کہ یہ طہارت عورتوں کی ہے ۔
حدیث 65 — موطأ مالك 2:34
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
حدیث 66 — موطأ مالك 2:35
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْمَلُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلاَةُ وَلاَ يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلاَّ مُؤْمِنٌ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پی جائے کتا تمہارے کسی برتن میں تو دھوئے اس کو سات بار۔ مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھی راہ پر رہو اور نہ شمار کر سکو گے اس کے ثواب کا یا نہ طاقت رکھو گے تم استقامت کی اور سب کاموں میں تمہارے بہتر نماز ہے اور نہیں محافظت کرے گا وضو پر مگر مومن ۔
عبداللہ بن عمر اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے ۔ مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری پوچھے گئے عمامہ پر مسح کرنے سے تو کہا کہ نہ کرے یہاں تک کہ مسح کرے بال کا پانی سے ۔
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا صفیہ کو جو بیوی تھیں عبداللہ بن عمر کی اتارتی تھیں اس کپڑے کو جس سے سر ڈھانپتے ہیں اور مسح کرتی تھیں اپنے سر پر پانی سے اور نافع اس وقت نابالغ تھے ۔
حدیث 71 — موطأ مالك 2:40
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ - قَالَ الْمُغِيرَةُ - فَذَهَبْتُ مَعَهُ بِمَاءٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّىْ جُبَّتِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ ضِيقِ كُمَّىِ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِمْ فَفَزِعَ النَّاسُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَحْسَنْتُمْ " .
مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے حاجت ضروری کو جنگ تبوک میں تو میں نے پانی ساتھ لے کر گیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈالا تو دھویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ اپنا پھر نکالنے لگے ہاتھ اپنے جبہ کی آستینوں سے مگر وہ اس قدر تنگ تھیں کہ ہاتھ نہ نکل سکے آخر نکالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو جبہ کے نیچے سے اور ہاتھ دھوئے اور مسح کیا سر پر اور موزوں پر پھر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عبدالرحمن بن عوف امامت کر رہے تھے اور ایک رکعت ہو چکی تھی پس پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت جو باقی تھی عبدالرحمن بن عوف کے پیچھے اور لوگ گھبرائے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا کہ اچھا کیا تم نے ۔