کہا مالک نے کہ میں نے سنا ہے بہت سارے علماء سے کہتے تھے عید الفطر اور عید الضحی میں اذان اور اقامت نہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اب تک مالک نے کہا ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر غسل کر تے تھے عید فطر کے دن قبل عید گاہ جانے کے۔
حدیث 430 — موطأ مالك 10:3
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى قَبْلَ الْخُطْبَةِ .
روایت ہے ابن شہاب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے عید الفطر اور عید الضحی کی قبل خطبے کے (یعنی خطبہ عیدین کا بعد نماز عیدین کے) پڑھتے تھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ابوبکر اور عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
ابو عبید سے جو مولیٰ ہیں عبدالرحمن بن ازہر کے روایت ہے کہ میں حاضر ہوا عید کے روز عمر بن خطاب کے ساتھ تو نماز پڑھی حضرت عمر نے پھر فارغ ہوئے اور خطبہ پڑھا تو کہا کہ یہ دو دن وہ دن ہیں کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے ان دنوں میں یہ عید الفطر کا دن ہے جس دن تم روزہ موقوف کرتے ہو اور عید الضحی وہ دن ہے کہ اس دن اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ابوعبید نے کہا کہ پھر حاضر ہوا میں عید کو عثمان بن عفان کے ساتھ تو انہوں نے آکر نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا اور کہا کہ آج کے روزہ دو عید ہیں تو جس شخص کا جی چاہے باہر والوں سے تو ٹھہر جائے جمعہ کے واسطے اور جو چاہے کہ اپنے گھر جائے تو چلا جائے میں نے اجازت دی کہا ابوعبید نے پھر حاضر ہوا میں عید کو ساتھ علی بن ابی طالب کے اور عثمان گھرے ہوئے تھے تو حضرت علی نے آکر نماز پڑھائی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا ۔
نافع سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی عید الضحی اور عید الفطر کی ساتھ ابوہریرہ کے تو پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں قبل قرأت کے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قبل قرأت کے ۔