عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے وہ بیمار تھیں اور ایک یہودی عورت ان پر پڑھ کر پھونک رہی تھی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کلام اللہ پڑھ کر پھونک ۔
حدیث 1722 — موطأ مالك 50:12
Isnaad Daif
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَجُلاً، فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَصَابَهُ جُرْحٌ فَاحْتَقَنَ الْجُرْحُ الدَّمَ وَأَنَّ الرَّجُلَ دَعَا رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي أَنْمَارٍ فَنَظَرَا إِلَيْهِ فَزَعَمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُمَا " أَيُّكُمَا أَطَبُّ " . فَقَالاَ أَوَ فِي الطِّبِّ خَيْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمَ زَيْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنْزَلَ الدَّوَاءَ الَّذِي أَنْزَلَ الأَدْوَاءَ " .
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زخم لگا اور خون وہاں آکر بھر گیا تو اس شخص نے دو شخصوں کو بلایا بنی انمار میں سے ان دونوں نے آکر دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا کہ تم دونوں میں سے کون طب زیادہ جانتا ہے وہ بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طب میں بھی کچھ فائدہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دوا بھی اسی نے اتاری ہے جس نے بیماری اتاری ہے ۔
حدیث 1723 — موطأ مالك 50:13
صحیح Lighairihi
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ، اكْتَوَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الذُّبَحَةِ فَمَاتَ .
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ سعد بن زرارہ نے داغ لیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں خناق کی بیماری میں تو مر گئے ۔
فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس جب کوئی عورت آتی جو بخار میں مبتلا ہوتی تو پانی منگا کر اس کے گریبان میں ڈالتیں اور کہتیں کہ رسول اللہ حکم دیتے تھے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا پانی سے ۔
حدیث 1726 — موطأ مالك 50:16
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " .
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بخار جہنم کا جوش ہے اس کو ٹھنڈا کرو پانی سے ،۔
حدیث 1727 — موطأ مالك 50:17
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " .
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " .
حدیث 1728 — موطأ مالك 50:18
صحیح
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمَرِيضَ خَاضَ الرَّحْمَةَ حَتَّى إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ قَرَّتْ فِيهِ " . أَوْ نَحْوَ هَذَا .
جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی تم میں سے بیمار کو دیکھنے جاتا ہے تو گھس جاتا ہے پروردگار کی رحمت میں پھر جب وہاں بیٹھتا ہے تو وہ رحمت میں اس شخص کے اندر بیٹھ جاتی ہے یا مثل اس کے کچھ فرمایا ۔ ابن عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہے عدوی اور نہ صفر کا مہینہ لیکن بیماری اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے لوگوں نے پوچھا اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مرض سے نفرت ہوتی ہے یا تکلیف ہوتی ہے ۔
حدیث 1729 — موطأ مالك 50:19
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ هَامَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ وَلْيَحْلُلِ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَاءَ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ أَذًى " .
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ هَامَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ وَلْيَحْلُلِ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَاءَ " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّهُ أَذًى " .