حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ لأَخِيهِ يَا كَافِرُ . فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔
حدیث 1812 — موطأ مالك 56:2
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ . فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو سنے کسی کو یہ کہتے ہوئے کہ لوگ تباہ ہو گئے تو وہ سب سے زیادہ تباہ ہے
حدیث 1813 — موطأ مالك 56:3
صحیح
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ . فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی تم میں سے زمانے کو برا نہ کہے کیونکہ اللہ خود زمانہ ہے ۔
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ کے سامنے ایک سور آیا راہ میں، آپ نے فرمایا چلا جا سلامتی سے، لوگوں نے کہا آپ سور سے اس طرح فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری زبان کو بری بات چیت کی عادت نہ ہو جائے ۔
بلال بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی ایک بات کہہ دیتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے اللہ اپنی رضا مندی قیامت تک اس بندے سے لکھ دیتا ہے اور ایک ایسی بات کہتا ہے جس کو وہ نہیں جانتا کہ کہاں تک اس کا اثر ہوگا اس کی وجہ سے قیامت تک اللہ اپنی نارا ضگی اس بندے کیلئے لکھ دیتا ہے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آدمی بے سمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جہنم میں جاتا ہے، آدمی بے سمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جنت میں جاتا ہے
ز ید بن اسلم سے روایت ہے کہ دو آدمی پورب (مشرق) سے آئے انہوں نے خطبہ پڑھا لوگ سن کر فریفتہ ہوگئے آپ نے فرمایا بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں کہ مت باتیں کرو بے کار سوائے یاد الٰہی کے کہ کہیں سخت ہو جائیں دل تمہارے اور سخت دل دور ہے اللہ سے لیکن تم نہیں سمجھتے اور مت دیکھو دوسروں کے گناہ کو گویا تم رب ہو۔ اپنے گناہوں کو دیکھو اپنے تئیں بندہ سمجھ کر، کیونکہ لوگوں میں سب طرح کے لوگ ہیں بعض اچھے ہیں۔ تو رحم کرو بیماروں پر اور اللہ کا شکر کرو اپنی تندرستی پر ۔ مالک کو پہنچا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بعد نماز عشاء کے اپنے لوگوں سے کہلا بھیجتیں کیا اب بھی تم آرام نہیں دیتے لکھنے والے فرشتوں کو ۔
حدیث 1819 — موطأ مالك 56:9
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي مَالِكُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تُرْسِلُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِهَا بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَتَقُولُ أَلاَ تُرِيحُونَ الْكُتَّابَ
وَحَدَّثَنِي مَالِكُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تُرْسِلُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِهَا بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَتَقُولُ أَلاَ تُرِيحُونَ الْكُتَّابَ
حدیث 1820 — موطأ مالك 56:10
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبَ الْمَخْزُومِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا الْغِيبَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْ تَذْكُرَ مِنَ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ " . قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ حَقًّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قُلْتَ بَاطِلاً فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ " .
مطلب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غیبت کس کو کہتے ہیں آپ نے فرمایا کسی کا حال ایسا بیان کرے جو اگر وہ سنے تو اس کو برا معلوم ہو، وہ بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگرچہ سچ ہو آپ نے فرمایا اگر جھوٹ ہو تو وہ بہتان ہے ۔