وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا حَرَامٌ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے اگر میں ہرنوں کو چرتے ہوئے دیکھوں مدینہ میں تو ہرگز نہ چھیڑوں ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے دونوں کنارے حرام ہیں ۔
ابو ایوب انصاری نے لڑکوں کو دیکھا انہوں نے ایک لومڑی کو گھیر رکھا تھا ایک کونے میں تو آپ نے لڑکوں کو ہنکا دیا اور لومڑی کو چھوڑ دیا ۔ کہا مالک نے ابوایوب نے یہ کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں ایسا کام ہوتا ہے۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ میرے پاس زید بن ثابت آئے اور میں اسواف میں تھا اور میں نے شکار کیا تھا ایک چڑیا کا انہوں نے میرے ہاتھ سے اس کو لے کر چھوڑ دیا ۔
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے تو ابوبکر اور بلال کو بخار آیا حضرت عائشہ ان کے پاس گئیں اور کہا کہ اے میرے باپ کیا حال ہے اے بلال کیا حال ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ابوبکر کو جب بخار آتا تو وہ ایک شعر پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے ہر آدمی صبح کرتا ہے اپنے گھر میں اور موت اس سے نزدیک ہوتی ہے اس کے جوتی کے تسمے سے ۔ اور بلال کا جب بخار اترتا تو اپنی آواز نکالتے اور پکار کر کہتے کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات پھر مکہ کی وادی میں رہوں گا اور میرے گرد اذخر اور جلیل ہوں گی ( اذخر اور جلیل دونوں گھاس ہیں مکہ کی ) اور کبھی میں پھر اتروں گا مجنہ کے پانی پر ( مجنہ ایک جگہ ہے کئی میل پر مکہ سے وہاں زمانہ جاہلیت میں بازار تھے ) اور کبھی پھر دکھلائی دینگے مجھے شامہ طفیل (دو پہاڑ ہیں مکہ سے تیس میل پر یا دو چشمے ہیں ) حضرت عائشہ نے یہ باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر بیان کیں آپ نے دعا فرمائی اے پروردگار محبت ڈال دے ہمارے دلوں میں مدینہ کی جتنی محبت تھی مکہ کی یا اس سے بھی زیادہ اور صحت اور تندرستی کردے مدینہ میں اور برکت دے اس کے صاع اور مد میں اور دور کردے بخار وہاں کا اور بھیج دے اس بخار کو جحفہ (ایک بستی ہے مکہ سے بیاسی میل دور وہاں یہودی رہتے تھے) میں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ عامر بن فہیرہ کہتے تھے کہ میں نے موت کو مرنے سے آگے دیکھ لیا نامرد کی موت اوپر سے آتی ہے ۔
عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری کلام یہ فرمایا اللہ جل جلالہ تباہ کرے یہود اور نصاری کو انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنایا آگاہ رہو عرب میں دو دین نہ رہیں۔
اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ ہم مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عیاش کی ملاقات کو گئے ، ان کے پاس نیبذ پائی اسلم نے کہا کہ اس شربت کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت چاہتے ہیں عبداللہ بن عیاش ایک بڑا سا پیالہ بھر کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا انہوں نے اس کو اٹھا کر پینا چاہا پھر سر اٹھا کر کہا یہ شربت بہت اچھا ہے پھر اس کو پیا اس کے بعد ایک شخص ان کے داہنی طرف بیٹھا تھا اس کو دے دیا جب عبداللہ بن عیاش لوٹ کر چلے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو بلایا اور کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ وہ حرم ہے اللہ کا اور امن کی جگہ ہے اور وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم کا نہیں پوچھتا (بلکہ ان دونوں میں کون سا افضل ہے) پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے، عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ مکہ میں اللہ کا حرم ہے اور امن کی جگہ ہے وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم میں کچھ نہیں کہتا پھر عبداللہ بن عیاش چلے گئے۔