قرآني·Qurani
اردو

النذور والأيمان

19 احادیث · #1009–1027

حدیث 1009 — موطأ مالك 22:1
صحیح
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْضِهِ عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میری ماں مر گئی اور اس پر ایک نذر واجب تھی اس نے ادا نہیں کی آپ نے فرمایا تو ادا کرو اس کی طرف سے ۔
حدیث 1010 — موطأ مالك 22:2
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهَا كَانَتْ جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا مَشْيًا إِلَى مَسْجِدِ قُبَاءٍ فَمَاتَتْ وَلَمْ تَقْضِهِ فَأَفْتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ابْنَتَهَا أَنْ تَمْشِيَ عَنْهَا ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ لاَ يَمْشِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ ‏.‏
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا اپنی پھوپھی سے انہوں نے بیان کیا کہ ان کی دادی نے نذر کی مسجد قبا میں پیدل جانے کی پھر مر گئیں اور اس نذر کو ادا نہیں کیا تو عبداللہ بن عباس نے ان کی بیٹی کو حکم کیا کہ وہ ان کی طرف سے اس نذر کو ادا کریں ۔
حدیث 1011 — موطأ مالك 22:3
Maqtu Daif
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ قُلْتُ لِرَجُلٍ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ، مَا عَلَى الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ عَلَىَّ مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ عَلَىَّ نَذْرُ مَشْىٍ ‏.‏ فَقَالَ لِي رَجُلٌ هَلْ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا الْجِرْوَ - لِجِرْوِ قِثَّاءٍ فِي يَدِهِ - وَتَقُولُ عَلَىَّ مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقُلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ ثُمَّ مَكَثْتُ حَتَّى عَقَلْتُ فَقِيلَ لِي إِنَّ عَلَيْكَ مَشْيًا فَجِئْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِي عَلَيْكَ مَشْىٌ ‏.‏ فَمَشَيْتُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
عبداللہ بن ابی حبیبہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا ایک شخص سے اور میں کمسن تھا کہ اگر کوئی شخص صرف اتنا ہی کہے کہ علی مشئی الی بیت اللہ یعنی میرے اوپر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک اور یہ نہیں کہا کہ میرے اوپر نذر ہے پیدل چلنے کی بیت اللہ تک تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا، وہ شخص مجھ سے بولا کہ میرے ہاتھ میں یہ ککڑی ہے تجھے دیتا ہوں تو اتنا کہہ دے کہ میرے اوپر پیدل چلنا ہے بیت اللہ تک میں نے کہا ہاں کہتا ہوں تو میں نے کہہ دیا اور میں کم سن تھا پھر ٹھہر کر تھوڑی دیر میں مجھے عقل آئی اور لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تجھ پیدل چلنا بیت اللہ تک واجب ہوا میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور ان سے پوچھا انہوں نے بھی کہا کہ تجھ پر پیدل چلنا واجب ہوا بیت اللہ تک تو میں پیدل چلا بیت اللہ تک ۔
حدیث 1012 — موطأ مالك 22:4
Mauquf Hasan
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أُذَيْنَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ جَدَّةٍ لِي عَلَيْهَا مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَجَزَتْ فَأَرْسَلَتْ مَوْلًى لَهَا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ ثُمَّ لْتَمْشِي مِنْ حَيْثُ عَجَزَتْ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَنَرَى عَلَيْهَا مَعَ ذَلِكَ الْهَدْىَ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَا يَقُولاَنِ مِثْلَ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ‏
عروہ بن اذینه لیثی سے روایت ہے کہ کہا میں نکلا اپنی دادی کے ساتھ اور اس نے نذر کی تھی بیت اللہ تک پیدل جانے کی، راستے میں تھک گئیں تو اپنے غلام کو بھیجا عبداللہ بن عمر کے پاس مسئلہ پوچھنے کو میں بھی ساتھ گیا اس نے عبداللہ بن عمر سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ اب سوار ہو جائے پھر دوبارہ جب آئے جہاں سے سوار ہوئی تھیں وہاں سے پیدل چلے ۔ کہا مالک نے اور باوجود اس کے ایک ہدیہ بھی اس پر واجب ہے ۔ سعید بن مسیب اور ابا سلمہ بن عبدالرحمن کہتے تھے اس مسئلہ میں جیسا عبداللہ بن عمر نے کہا ۔
حدیث 1013 — موطأ مالك #1013
Maqtu Daif
حدیث 1014 — موطأ مالك #1014
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ عَلَىَّ مَشْىٌ فَأَصَابَتْنِي خَاصِرَةٌ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرَهُ فَقَالُوا عَلَيْكَ هَدْىٌ ‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلْتُ عُلَمَاءَهَا فَأَمَرُونِي أَنْ أَمْشِيَ مَرَّةً أُخْرَى مِنْ حَيْثُ عَجَزْتُ فَمَشَيْتُ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَسَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فَالأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ يَقُولُ عَلَىَّ مَشْىٌ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ أَنَّهُ إِذَا عَجَزَ رَكِبَ ثُمَّ عَادَ فَمَشَى مِنْ حَيْثُ عَجَزَ فَإِنْ كَانَ لاَ يَسْتَطِيعُ الْمَشْىَ فَلْيَمْشِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَرْكَبْ وَعَلَيْهِ هَدْىُ بَدَنَةٍ أَوْ بَقَرَةٍ أَوْ شَاةٍ إِنْ لَمْ يَجِدْ إِلاَّ هِيَ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ أَنَا أَحْمِلُكَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَقَالَ مَالِكٌ إِنْ نَوَى أَنْ يَحْمِلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ يُرِيدُ بِذَلِكَ الْمَشَقَّةَ وَتَعَبَ نَفْسِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلْيَمْشِ عَلَى رِجْلَيْهِ وَلْيُهْدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَوَى شَيْئًا فَلْيَحْجُجْ وَلْيَرْكَبْ وَلْيَحْجُجْ بِذَلِكَ الرَّجُلِ مَعَهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ قَالَ أَنَا أَحْمِلُكَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فَإِنْ أَبَى أَنْ يَحُجَّ مَعَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَىْءٌ وَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الرَّجُلِ يَحْلِفُ بِنُذُورٍ مُسَمَّاةٍ مَشْيًا إِلَى بَيْتِ اللَّهِ أَنْ لاَ يُكَلِّمَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ بِكَذَا وَكَذَا نَذْرًا لِشَىْءٍ لاَ يَقْوَى عَلَيْهِ وَلَوْ تَكَلَّفَ ذَلِكَ كُلَّ عَامٍ لَعُرِفَ أَنَّهُ لاَ يَبْلُغُ عُمْرُهُ مَا جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ هَلْ يُجْزِيهِ مِنْ ذَلِكَ نَذْرٌ وَاحِدٌ أَوْ نُذُورٌ مُسَمَّاةٌ فَقَالَ مَالِكٌ مَا أَعْلَمُهُ يُجْزِئُهُ مِنْ ذَلِكَ إِلاَّ الْوَفَاءُ بِمَا جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ فَلْيَمْشِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ مِنَ الزَّمَانِ وَلْيَتَقَرَّبْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمَا اسْتَطَاعَ مِنَ الْخَيْرِ ‏.‏
کہا مالک نے اگر مرد یا عورت قسم کھائے کعبہ شریف کو پیدل جانے کی پھر قسم اس کی ٹوٹے اور اس کو پیدل جانا کعبہ کا لازم آئے تو عمرہ میں جب تک سعی سے فارغ ہو پیدل چلے اور حج میں جب تک طواف الزیارۃ سے فارغ ہوپیدل چلے۔
حدیث 1015 — موطأ مالك 22:2
صحیح Lighairihi
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، وَثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً قَائِمًا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ ‏"‏ مَا بَالُ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَذَرَ أَنْ لاَ يَتَكَلَّمَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ مِنَ الشَّمْسِ وَلاَ يَجْلِسَ وَيَصُومَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ بِكَفَّارَةٍ وَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتِمَّ مَا كَانَ لِلَّهِ طَاعَةً وَيَتْرُكَ مَا كَانَ لِلَّهِ مَعْصِيَةً ‏.‏
حمید بن قیس اور ثور بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑا ہوا دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث پوچھا لوگوں نے کہا اس نے نذر کی ہے کہ میں کسی سے بات نہ کروں گا نہ سایہ لوں گا نہ بیٹھوں گا اور روزہ سے رہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو حکم کرو بات کرے، سایہ میں آئے، بیٹھے، روزہ اپنا پورا کرے ۔
حدیث 1016 — موطأ مالك 22:3
Mauquf Sahih
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ تَنْحَرِي ابْنَكِ وَكَفِّرِي عَنْ يَمِينِكِ، ‏.‏ فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَكَيْفَ يَكُونُ فِي هَذَا كَفَّارَةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ وَ ‏{‏الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ‏}‏ ثُمَّ جَعَلَ فِيهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ مَا قَدْ رَأَيْتَ ‏.‏
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک عورت عبداللہ بن عباس کے پاس آئی اور بولی میں نے نذر کی اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی ابن عباس نے کہا مت ذبح کر اپنے بیٹے کو اور کفارہ دے اپنی قسم کا ایک شخص بولا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس نذر میں کفارہ کیوں ہوگا ابن عباس نے جواب دیا کہ ظہار بھی ایک معصیت ہے اور اس میں اللہ نے کفارہ مقرر کیا ۔
حدیث 1017 — موطأ مالك 22:4
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصِّدِّيقِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلاَ يَعْصِهِ ‏"‏ ‏.‏
کہا مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا اگر کوئی نذر کرے اللہ کی معصیت کی تو معصیت نہ کرے مراد اس سے یہ ہے کہ مثلا آدمی نذر کرے شام یا مصر یا جدہ یا زبدہ میں جانے کی یا اور کسی کام کی جو ثواب نہیں ہے اگر ایسے امورات میں اس کی قسم ٹوٹے مثلا یوں کہے کہ اگر میں زید سے بات کروں تو مصر جاؤں گا پھر زید سے پات کرے تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا بلکہ اس نذر کا پورا کرنا ضرور ہے جس میں ثواب ہو۔
حدیث 1018 — موطأ مالك 22:5
Mauquf Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ لَغْوُ الْيَمِينِ قَوْلُ الإِنْسَانِ لاَ وَاللَّهِ بَلَى وَاللَّهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي هَذَا أَنَّ اللَّغْوَ حَلِفُ الإِنْسَانِ عَلَى الشَّىْءِ يَسْتَيْقِنُ أَنَّهُ كَذَلِكَ ثُمَّ يُوجَدُ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ اللَّغْوُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَقْدُ الْيَمِينِ أَنْ يَحْلِفَ الرَّجُلُ أَنْ لاَ يَبِيعَ ثَوْبَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ ثُمَّ يَبِيعَهُ بِذَلِكَ أَوْ يَحْلِفَ لَيَضْرِبَنَّ غُلاَمَهُ ثُمَّ لاَ يَضْرِبُهُ وَنَحْوَ هَذَا فَهَذَا الَّذِي يُكَفِّرُ صَاحِبُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَلَيْسَ فِي اللَّغْوِ كَفَّارَةٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَأَمَّا الَّذِي يَحْلِفُ عَلَى الشَّىْءِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ آثِمٌ وَيَحْلِفُ عَلَى الْكَذِبِ وَهُوَ يَعْلَمُ لِيُرْضِيَ بِهِ أَحَدًا أَوْ لِيَعْتَذِرَ بِهِ إِلَى مُعْتَذَرٍ إِلَيْهِ أَوْ لِيَقْطَعَ بِهِ مَالاً فَهَذَا أَعْظَمُ مِنْ أَنْ تَكُونَ فِيهِ كَفَّارَةٌ ‏.‏
حضرت ام المومنین عائشہ فرماتی تھیں کہ لغو قسم وہ ہے جو آدمی باتوں میں کہتا ہے نہیں و اللہ ہاں و اللہ ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔