وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَعِيشُ بِهِنَّ وَلاَ تُكْثِرْ عَلَىَّ فَأَنْسَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَغْضَبْ " .
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اور بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے چند باتیں بتاد یجئے جن سے میں نفع اٹھاؤں اور بہت باتیں نہ بتانا میں بھول جاؤں گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو غصہ مت کیا کر۔
حدیث 1644 — موطأ مالك 47:12
صحیح
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ وہ آدمی وزر آور نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے وزر آور ہے جو اپنے نفس پر قادر ہو غصے کے وقت۔
ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو درست نہیں کہ اپنے بھائی مسلمان کی ملاقات ترک کرے یعنی اس کو چھوڑ دے تین دن سے زیادہ یا یہ ملے تو وہ نہ دیکھے یا وہ ملے تو نہ دیکھے بہتر ان دونوں میں وہ ہے جو پہلے سلام علیک کرے ۔
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مت بغض کرو مر حسد کرو مت پیٹھ پھیرو ایک دوسرے سے بلکہ ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی نہیں درست ہے کسی مسلمان کو کہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے تین راتوں سے زیادہ ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ بچو تم بد گمانی سے کیونکہ بد گمانی بڑا جھوٹ ہے اور مت کھوج لگاؤ اور مت تفتیش کرو اور مت حرص کرو دنیا کی اور مت حسد کرو نہ بغض کرو نہ ایک دوسرے سے پیٹھ موڑو بلکہ ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی ۔
حدیث 1648 — موطأ مالك 47:16
ضعیف
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَافَحُوا يَذْهَبِ الْغِلُّ وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ " .
عطا بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خراسانی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا مصافحہ کرو ایک دوسرے سے دل کا کینہ جاتا رہے گا ہدیہ بھیجو ایک دوسرے کی دوست ہو جاؤ گے اور دشمنی جاتی رہے گی ۔
ابوہریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جنت کے دروازے کھل جائے ہیں پیر اور جمعرات کے روز تو ہر بندہ مسلمان جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا وہ بخش دیا جاتا ہے مگر وہ شخص جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ ان دونوں آدمیوں کے متعلق کہ دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے رہو جب تک وہ مل جائیں ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز بندوں کے اعمال دیکھے جاتے ہیں پھر ہر مومن بندہ بخش دیا جاتا ہے مگر وہ بندہ جو اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہو تو حکم ہوتا ہے کہ ابھی ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ مل جائیں