قرآني·Qurani
اردو

كراء الأرض

5 احادیث · #1390–1394

حدیث 1390 — موطأ مالك 34:1
صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ قَالَ حَنْظَلَةُ فَسَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏
رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کھیتوں کے کرایہ دینے سے حنظلہ نے کہا میں نے رافع سے پوچھا اگر سونے یا چاندی کے بدلے میں کرایہ کر دے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں ۔
حدیث 1391 — موطأ مالك 34:2
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏
سعید بن مسیب سے ابن شہاب نے پوچھا زمین کو کرایہ پر دینا سونے یا چاندی کے بدلے میں درست ہے کہا ہاں کچھ قباحت نہیں ۔
حدیث 1392 — موطأ مالك 34:3
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَقُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ الْحَدِيثَ الَّذِي يُذْكَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَقَالَ أَكْثَرَ رَافِعٌ وَلَوْ كَانَ لِي مَزْرَعَةٌ أَكْرَيْتُهَا ‏.‏
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَقُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ الْحَدِيثَ الَّذِي يُذْكَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَقَالَ أَكْثَرَ رَافِعٌ وَلَوْ كَانَ لِي مَزْرَعَةٌ أَكْرَيْتُهَا ‏.‏
حدیث 1393 — موطأ مالك 34:4
Mauquf Daif
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَكَارَى أَرْضًا فَلَمْ تَزَلْ فِي يَدَيْهِ بِكِرَاءٍ حَتَّى مَاتَ قَالَ ابْنُهُ فَمَا كُنْتُ أُرَاهَا إِلاَّ لَنَا مِنْ طُولِ مَا مَكَثَتْ فِي يَدَيْهِ حَتَّى ذَكَرَهَا لَنَا عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَمَرَنَا بِقَضَاءِ شَىْءٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ كِرَائِهَا ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ ‏.‏
ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کہ کھتیوں کا کرایہ دینا کیسا ہے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں سونے یا چاندی کے بدلے میں ابن شہاب نے کہا کیا تم کو رافع بن خدیج کی حدیث نہیں پہنچی سام نے کہا رافع نے زیادتی کی اگر میرے پاس زمین مزروعہ ہوتی تو میں اس کو کرایہ دیتا ۔ عبدالرحمن بن عورف نے ایک زمین کرایہ کو لی ہمیشہ ان کے پاس رہی مرے دم تک ان کے بیٹے نے کہا ہم اس کو اپنی ملک سمجھتے تھے اس وجہ سے کہ معت تک ہمارے پاس رہی جب عبدالرحمن مرنے لگے تو انہوں نے کہا وہ کرایہ کی ہے اور حکم کیا کہ کرایہ ادا کرنے کا جو ان پر باقی تھا سونے یا چاندی کی قسم سے ۔
حدیث 1394 — موطأ مالك 34:5
Maqtu Sahih
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ رَجُلٍ أَكْرَى مَزْرَعَتَهُ بِمِائَةِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ أَوْ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنَ الْحِنْطَةِ أَوْ مِنْ غَيْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَكَرِهَ ذَلِكَ ‏.‏
عروہ بن زبیر اپنی زمین کو کرایہ پر دیتے تھے چاندی یا سونے کے بدلے میں ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔