قرآني·Qurani
اردو

أحكام رمضان

30 احادیث · #1371–1400

حدیث 1371 — سنن أبي داود 6:1
حسن Sahihصحیحصحیحصحیح Muslim (759)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، - قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ - رضى الله عنه - وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ رضى الله عنه ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ عُقَيْلٌ وَيُونُسُ وَأَبُو أُوَيْسٍ ‏"‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏ وَرَوَى عُقَيْلٌ ‏"‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے، پھر فرماتے: جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح عقیل، یونس اور ابواویس نے «من قام رمضان» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں «من صام رمضان وقامه» ہے۔
حدیث 1372 — سنن أبي داود 6:2
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2014)
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزے رمضان ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث 1373 — سنن أبي داود 6:3
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2012) Sahih Muslim (761)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ ‏ "‏ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلاَّ أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہی نہیں، جب صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے تمہارے عمل کو دیکھا، لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے ۱؎ اور یہ بات رمضان کی ہے۔
حدیث 1374 — سنن أبي داود 6:4
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ أَوْزَاعًا فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبْتُ لَهُ حَصِيرًا فَصَلَّى عَلَيْهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَتْ فِيهِ قَالَ - تَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - ‏ "‏ أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ لَيْلَتِي هَذِهِ بِحَمْدِ اللَّهِ غَافِلاً وَلاَ خَفِيَ عَلَىَّ مَكَانُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ رمضان میں مسجد کے اندر الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، میں نے آپ کے لیے چٹائی بچھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی، پھر آگے انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے بحمد اللہ یہ رات غفلت میں نہیں گذاری اور نہ ہی مجھ پر تمہارا یہاں ہونا مخفی رہا ۔
حدیث 1375 — سنن أبي داود 6:5
صحیحصحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاَحُ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا الْفَلاَحُ قَالَ السُّحُورُ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ ‏.‏
سیدنا ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ کوئی قیام نہ کیا، حتیٰ کہ مہینے میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا، تو آپ ﷺ نے ہمیں قیام کروایا، حتیٰ کہ تہائی رات ہو گئی۔ جب (آخر سے) چھٹی رات آئی تو آپ ﷺ نے قیام نہ کرایا۔ جب پانچویں رات آئی تو ہمیں قیام کروایا، حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں بقیہ رات بھی اس کا قیام کروا دیتے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔“ جب چوتھی رات آئی تو آپ ﷺ نے قیام نہ کرایا۔ جب تیسری رات آئی تو آپ ﷺ نے اپنے اقارب، بیویوں اور دوسرے لوگوں کو جمع فرمایا اور ہمیں قیام کرایا، یہاں تک کہ ہمیں فکر ہوئی کہ کہیں ہماری ”فلاح“ ہی نہ رہ جائے۔ (جبیر نے کہا) میں نے پوچھا کہ ”فلاح“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا ”سحری“ پھر بقیہ راتوں میں آپ ﷺ نے ہم کو قیام نہیں کرایا۔
حدیث 1376 — سنن أبي داود 6:6
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2024) Sahih Muslim (1174)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَدَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، - وَقَالَ دَاوُدُ عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، - عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو يَعْفُورٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جاگتے اور ( عبادت کے لیے ) کمربستہ ہو جاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔
حدیث 1377 — سنن أبي داود 6:7
ضعیفضعیفضعیفصحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏"‏ مَا هَؤُلاَءِ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ هَؤُلاَءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصَابُوا وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْقَوِيِّ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ ‏.‏
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ رمضان میں مسجد کی ایک جانب میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان کو کیا ہے؟“ کہا گیا کہ ان لوگوں کو قرآن یاد نہیں ہے اور ابی بن کعب ؓ نماز پڑھ رہے ہیں تو یہ لوگ بھی ان کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے درست کیا اور بہت خوب کیا۔“ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ مسلم بن خالد ضعیف ہے۔
حدیث 1378 — سنن أبي داود 6:8
حسن Sahihحسن Sahihحسنصحیح Muslim (1169)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ قُلْتُ لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَإِنَّ صَاحِبَنَا سُئِلَ عَنْهَا ‏.‏ فَقَالَ مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا ‏.‏ فَقَالَ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ - زَادَ مُسَدَّدٌ وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا أَوْ أَحَبَّ أَنْ لاَ يَتَّكِلُوا ثُمَّ اتَّفَقَا - وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لاَ يَسْتَثْنِي ‏.‏ قُلْتُ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ قَالَ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قُلْتُ لِزِرٍّ مَا الآيَةُ قَالَ تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِثْلَ الطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ ‏.‏
زر کہتے ہیں کہ ابومنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو پورے سال قیام کرے اسے پا لے گا، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے ( مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کر لیں، ( آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے ) اللہ کی قسم! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا: اے ابومنذر! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: اس علامت سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائی تھی۔ ( عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا: وہ علامت کیا تھی؟ جواب دیا: اس رات ( کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں ) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔
حدیث 1379 — سنن أبي داود 6:9
حسن Sahihحسن Sahihحسنضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلِمَةَ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، فَقَالُوا مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ ‏.‏ فَخَرَجْتُ فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْمَغْرِبِ ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ فَمَرَّ بِي فَقَالَ ‏"‏ ادْخُلْ ‏"‏ ‏.‏ فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ ‏"‏ نَاوِلْنِي نَعْلِي ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَقَالَ ‏"‏ كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَجَلْ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ ‏"‏ كَمِ اللَّيْلَةُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ قَالَ ‏"‏ هِيَ اللَّيْلَةُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ ‏"‏ أَوِ الْقَابِلَةُ ‏"‏ ‏.‏ يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ ‏.‏
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اندر آ جاؤ ، میں اندر داخل ہو گیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے میرا جوتا دو ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟ ، میں نے کہا: جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آج کون سی رات ہے؟ ، میں نے کہا: بائیسویں رات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی شب قدر ہے ، پھر لوٹے اور فرمایا: یا کل کی رات ہو گی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔
حدیث 1380 — سنن أبي داود 6:10
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْدِ اللَّهِ فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاِبْنِهِ كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ قَالَ كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلاَ يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَيْهَا فَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ ‏.‏
عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیئسویں شب کو آیا کرو ۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا: تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے، پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آ جاتے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔