قرآني·Qurani
اردو

أحكام رمضان

30 احادیث · #1371–1400

حدیث 1381 — سنن أبي داود 6:11
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2021)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى وَفِي سَابِعَةٍ تَبْقَى وَفِي خَامِسَةٍ تَبْقَى ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ( یعنی شب قدر کو ) رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو جب نو راتیں باقی رہ جائیں ( یعنی اکیسویں شب کو ) اور جب سات راتیں باقی رہ جائیں ( یعنی تئیسویں شب کو ) اور جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں ( یعنی پچیسویں شب کو ) ۔
حدیث 1382 — سنن أبي داود 6:12
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2027) Sahih Muslim (1167)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَمُطِرَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَبْصَرَتْ عَيْنَاىَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے ( دہے ) میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں، میں نے یہ ( قدر کی ) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی، اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔
حدیث 1383 — سنن أبي داود 6:13
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1167)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا ‏.‏ قَالَ أَجَلْ ‏.‏ قُلْتُ مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ قَالَ إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ وَإِذَا مَضَى ثَلاَثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ وَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لاَ أَدْرِي أَخَفِيَ عَلَىَّ مِنْهُ شَىْءٌ أَمْ لاَ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو ۔ ابونضرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوسعید! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب ( ۲۱ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے، اور جب ( ۲۳ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے، اور جب ( ۲۵ ) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔
حدیث 1384 — سنن أبي داود 6:14
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اطْلُبُوهَا لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ وَلَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَلَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَكَتَ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: شب قدر کو رمضان کی سترہویں، اکیسویں اور تئیسویں رات میں تلاش کرو ، پھر چپ ہو گئے۔
حدیث 1385 — سنن أبي داود 6:15
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1165)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو اخیر کی سات راتوں میں تلاش کرو ۔
حدیث 1386 — سنن أبي داود 6:16
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُطَرِّفًا، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ ‏ "‏ لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏
معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا: شب قدر ستائیسویں رات ہے ۔
حدیث 1387 — سنن أبي داود 6:17
صحیح Muqufصحیح Muqufصحیح Muqufضعیف
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُويَهْ النَّسَائِيُّ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ ‏ "‏ هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ لَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں ( اس گفتگو کو ) سن رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہو سکتی ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابواسحاق کے واسطے سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔
حدیث 1388 — سنن أبي داود 6:18
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (5054) Sahih Muslim (1159)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ فِي عَشْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلاَ تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بیس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پندرہ دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم ( مسلم بن ابراہیم ) کی روایت زیادہ کامل ہے۔
حدیث 1389 — سنن أبي داود 6:19
صحیحصحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ فَنَاقَصَنِي وَنَاقَصْتُهُ فَقَالَ ‏"‏ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَطَاءٌ وَاخْتَلَفْنَا عَنْ أَبِي فَقَالَ بَعْضُنَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ بَعْضُنَا خَمْسًا ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو ، پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی ۱؎ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو ۔ عطا کہتے ہیں: ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے، ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔
حدیث 1390 — سنن أبي داود 6:20
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ ‏"‏ فِي شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ - يُرَدِّدُ الْكَلاَمَ أَبُو مُوسَى - وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ ‏"‏ اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاَثٍ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ایک ماہ میں ، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں ( ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے ) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سات دن میں ختم کیا کرو ، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ۱؎ ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔