قرآني·Qurani
اردو

الأدب

502 احادیث · #4773–5274

حدیث 4883 — سنن أبي داود 43:111
حسنحسنضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ ‏"‏ ‏.‏ أُرَاهُ قَالَ ‏"‏ بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَىْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ ‏"‏ ‏.‏
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے جو کچھ کہا ہے اس سے نکل جائے۔
حدیث 4884 — سنن أبي داود 43:112
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ إِسْمَاعِيلَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبَا، طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الأَنْصَارِيَّ يَقُولاَنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنِ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلاَّ خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ وَمَا مِنِ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلاَّ نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَعُقْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قِيلَ عُتْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ مَوْضِعَ عُقْبَةَ ‏.‏
جابربن عبداللہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان شخص کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا، جہاں اس کی بے عزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا، اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آ رہی ہو اور اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا، جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہو گی ۔
حدیث 4885 — سنن أبي داود 43:113
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادَى اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى مَا قَالَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏
ابوعبداللہ جشمی کہتے ہیں کہ ہم سے جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اس نے اپنی سواری بٹھائی پھر اسے باندھا، اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے اس نے کھولا پھر اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کر ( یعنی کسی اور پر رحم نہ فرما ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کیا کہتے ہو؟ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور سنا ہے ۔
حدیث 4886 — سنن أبي داود 43:114
صحیح Maqtuصحیح Maqtuضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ، مِثْلَ أَبِي ضَيْغَمٍ - أَوْ ضَمْضَمٍ شَكَّ ابْنُ عُبَيْدٍ - كَانَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِعِرْضِي عَلَى عِبَادِكَ ‏.‏
قتادہ کہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص ابوضیغم یا ضمضم کی طرح ہونے سے عاجز ہے، وہ جب صبح کرتے تو کہتے: اے اللہ میں نے اپنی عزت و آبرو کو تیرے بندوں پر صدقہ کر دیا ہے۔
حدیث 4887 — سنن أبي داود 43:115
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلاَنَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَمْضَمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَمَنْ أَبُو ضَمْضَمٍ قَالَ ‏"‏ رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ بِمَعْنَاهُ قَالَ ‏"‏ عِرْضِي لِمَنْ شَتَمَنِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيِّ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو لوگوں نے عرض کیا: ابوضمضم کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( «عرضي على عبادك» ) کے بجائے ( «عرضي لمن شتمني» ) ( میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں: ہم سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
حدیث 4888 — سنن أبي داود 43:116
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، وَابْنُ، عَوْفٍ - وَهَذَا لَفْظُهُ - قَالاَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعَهَا مُعَاوِيَةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَفَعَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا ‏.‏
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو ۱؎۔ ابو الدرداء کہتے ہیں: یہ وہ کلمہ ہے جسے معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے۔
حدیث 4889 — سنن أبي داود 43:117
صحیحصحیح LighairihiحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، وَعَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ، وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، وَأَبِي، أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
جبیر بن نفیر، کثیر بن مرہ، عمرو بن اسود، مقدام بن معد یکرب اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حاکم جب لوگوں کے معاملات میں بدگمانی اور تہمت پر عمل کرے گا تو انہیں بگاڑ دے گا ۔
حدیث 4890 — سنن أبي داود 43:118
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقِيلَ هَذَا فُلاَنٌ تَقْطُرُ لِحْيَتُهُ خَمْرًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنِ التَّجَسُّسِ وَلَكِنْ إِنْ يَظْهَرْ لَنَا شَىْءٌ نَأْخُذْ بِهِ ‏.‏
زید بن وہب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کسی آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا: یہ فلاں شخص ہے جس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے تو عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) نے کہا: ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے، ہاں البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آئے تو ہم اسے پکڑیں گے۔
حدیث 4891 — سنن أبي داود 43:119
ضعیفضعیفحسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً ‏"‏ ‏.‏
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کا کوئی عیب دیکھے پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی زندہ دفنائی گئی لڑکی کو نئی زندگی بخشی ہو ۔
حدیث 4892 — سنن أبي داود 43:120
ضعیفضعیفحسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ دُخَيْنًا، كَاتِبَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَنَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِنَّ جِيرَانَنَا هَؤُلاَءِ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَإِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ ‏.‏ فَقَالَ دَعْهُمْ ‏.‏ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى عُقْبَةَ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ إِنَّ جِيرَانَنَا قَدْ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ ‏.‏ قَالَ وَيْحَكَ دَعْهُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسْلِمٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ لَيْثٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ لاَ تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ ‏.‏
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی (سکریٹری) دخین کہتے ہیں کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے تھے، میں نے انہیں منع کیا تو وہ باز نہیں آئے، چنانچہ میں نے عقبہ بن عامر سے کہا کہ ہمارے یہ پڑوسی شراب پیتے ہیں، ہم نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہیں آئے، لہٰذا اب میں ان کے لیے پولیس کو بلاؤں گا، تو انہوں نے کہا: انہیں چھوڑ دو، پھر میں دوبارہ عقبہ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے ان سے کہا: میرے پڑوسیوں نے شراب پینے سے باز آنے سے انکار کر دیا ہے، اور اب میں ان کے لیے پولیس بلانے والا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، انہیں چھوڑ دو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے … پھر انہوں نے مسلم جیسی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہاشم بن قاسم نے کہا کہ اس حدیث میں لیث سے اس طرح روایت ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہا: ایسا نہ کرو بلکہ انہیں نصیحت کرو اور انہیں دھمکاؤ ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔