قرآني·Qurani
اردو

الأدب

502 احادیث · #4773–5274

حدیث 4893 — سنن أبي داود 43:121
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (2442) Sahih Muslim (2580)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ فَإِنَّ اللَّهَ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ ( خود ) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے ( کسی ظالم ) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
حدیث 4894 — سنن أبي داود 43:122
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (2587)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالاَ فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہم گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا جس نے ابتداء کی ہو گی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے ( اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہو گا ) ۔
حدیث 4895 — سنن أبي داود 43:123
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَىَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لاَ يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلاَ يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ ‏"‏ ‏.‏
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھ کو وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر کرے ۔
حدیث 4896 — سنن أبي داود 43:124
حسنحسن Lighairihiحسن Lighairihiحسن
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرَّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَعَ رَجُلٌ بِأَبِي بَكْرٍ فَآذَاهُ فَصَمَتَ عنه أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ آذَاهُ الثَّانِيَةَ فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ آذَاهُ الثَّالِثَةَ فَانْتَصَرَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَوَجَدْتَ عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ ‏"‏ ‏.‏
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھ پڑا اور آپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آ پڑا پھر جب شیطان آ پڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں ۔
حدیث 4897 — سنن أبي داود 43:125
حسنحسنحسن LighairihiIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ يَسُبُّ أَبَا بَكْرٍ وَسَاقَ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔
حدیث 4898 — سنن أبي داود 43:126
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ كُنْتُ أَسْأَلُ عَنْ الاِنْتِصَارِ، ‏{‏ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ ‏}‏ فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَجَعَلَ يَصْنَعُ شَيْئًا بِيَدِهِ فَقُلْتُ بِيَدِهِ حَتَّى فَطَنْتُهُ لَهَا فَأَمْسَكَ وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تَقْحَمُ لِعَائِشَةَ رضى الله عنها فَنَهَاهَا فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ فَقَالَ لِعَائِشَةَ ‏"‏ سُبِّيهَا ‏"‏ فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ إِلَى عَلِيٍّ رضى الله عنه فَقَالَتْ إِنَّ عَائِشَةَ رضى الله عنها وَقَعَتْ بِكُمْ وَفَعَلَتْ ‏.‏ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَانْصَرَفَتْ فَقَالَتْ لَهُمْ إِنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لِي كَذَا وَكَذَا ‏.‏ قَالَ وَجَاءَ عَلِيٌّ رضى الله عنه إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ ‏.‏
ابن عون کہتے ہیں آیت کریمہ «ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل» اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد ( برابر کا ) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں ( سورۃ الشوریٰ: ۴۱ ) میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا، وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے، ( ابن عون کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ وہ ( ام محمد ) ام المؤمنین ۱؎ کے پاس جایا کرتی تھیں ) ام محمد کہتی ہیں: ام المؤمنین نے کہا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، ہمارے پاس زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے ( جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے ) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتا دیا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا: تم بھی انہیں کہو ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آ گئیں، تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا، علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں یعنی بنو ہاشم کو گالیاں دیں ہیں ( کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں ) پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کرنے ) آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ ( یعنی عائشہ ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
حدیث 4899 — سنن أبي داود 43:127
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ لاَ تَقَعُوا فِيهِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارا ساتھی ( یعنی مسلمان جس کے ساتھ تم رہتے سہتے ہو ) مر جائے تو اسے چھوڑ دو ۱؎ اس کے عیوب نہ بیان کرو۔
حدیث 4900 — سنن أبي داود 43:128
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎ ۔
حدیث 4901 — سنن أبي داود 43:129
صحیحصحیحIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ كَانَ رَجُلاَنِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَآخِيَيْنِ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ وَالآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ فَكَانَ لاَ يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ أَقْصِرْ ‏.‏ فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ فَقَالَ لَهُ أَقْصِرْ فَقَالَ خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَىَّ رَقِيبًا فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَوْ لاَ يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ ‏.‏ فَقُبِضَ أَرْوَاحُهُمَا فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ أَكُنْتَ بِي عَالِمًا أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي وَقَالَ لِلآخَرِ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بنی اسرائیل میں دو شخص برابر کے تھے، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا اور دوسرا عبادت میں کوشاں رہتا تھا، عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا: باز رہ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا: باز رہ اس نے کہا: قسم ہے میرے رب کی تو مجھے چھوڑ دے ( اپنا کام کرو ) کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا، پھر ان کی روحیں قبض کر لی گئیں تو وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھا ہوئے، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا: تو مجھے جانتا تھا، یا تو اس پر قادر تھا، جو میرے دست قدرت میں ہے؟ اور گنہگار سے کہا: جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جا، اور دوسرے کے متعلق کہا: اسے جہنم میں لے جاؤ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کر دی۔
حدیث 4902 — سنن أبي داود 43:130
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا - مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الآخِرَةِ - مِثْلُ الْبَغْىِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ ‏"‏ ‏.‏
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم و بغاوت اور قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ۱؎ ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔