قرآني·Qurani
اردو

الأيمان والنذور

84 احادیث · #3242–3325

حدیث 3302 — سنن أبي داود 22:61
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1620)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏:‏ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں ناتھ ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی ناتھ کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ۔
حدیث 3303 — سنن أبي داود 22:62
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ - عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏:‏ أَنَّ أُخْتَ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، مَاشِيَةً وَأَنَّهَا لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْىِ أُخْتِكَ، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور پیدل جانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں، ( تم اپنی بہن سے کہو کہ ) وہ سوار ہو جائیں اور ( نذر کے کفارہ کے طور پر ) ایک اونٹ کی قربانی دے دیں ۔
حدیث 3304 — سنن أبي داود 22:63
صحیحصحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ ‏.‏ فَقَالَ ‏:‏ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يَصْنَعُ بِمَشْىِ أُخْتِكَ إِلَى الْبَيْتِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہن کے پیدل بیت اللہ جانے کا اللہ کوئی ثواب نہ دے گا ۔
حدیث 3305 — سنن أبي داود 22:64
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏:‏ أَنَّ رَجُلاً، قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ صَلِّ هَا هُنَا ‏"‏ ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ صَلِّ هَا هُنَا ‏"‏ ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ شَأْنَكَ إِذًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ رُوِيَ نَحْوُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہیں پڑھ لو ( یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے ) ، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: یہیں پڑھ لو پھر اس نے ( سہ بارہ ) وہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری مرضی ( چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔
حدیث 3306 — سنن أبي داود 22:65
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، - الْمَعْنَى - قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَمْرًا، وَقَالَ، عَبَّاسٌ ‏:‏ ابْنَ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْخَبَرِ ‏.‏ زَادَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَا هُنَا لأَجْزَأَ عَنْكَ صَلاَةً فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ ‏:‏ رَوَاهُ الأَنْصَارِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرٍو، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ حَيَّةَ وَقَالَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں ( یعنی مسجد الحرام میں ) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا ( وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔
حدیث 3307 — سنن أبي داود 22:66
صحیحصحیحصحیح Bukhari (2761) Sahih Muslim (1638)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏:‏ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏:‏ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ لَمْ تَقْضِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اقْضِهِ عَنْهَا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی جانب سے پوری کر دو ۔
حدیث 3308 — سنن أبي داود 22:67
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏:‏ أَنَّ امْرَأَةً، رَكِبَتِ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَنَجَّاهَا اللَّهُ فَلَمْ تَصُمْ حَتَّى مَاتَتْ، فَجَاءَتِ ابْنَتُهَا أَوْ أُخْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آ گئی، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مسئلہ پوچھنے ) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
حدیث 3309 — سنن أبي داود 22:68
صحیحصحیحصحیحصحیح Muslim (1149)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بُرَيْدَةَ ‏:‏ أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ ‏:‏ كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَمْرٍو ‏.‏
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تمہارا اجر مل گیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی اس نے کہا: وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا، پھر عمرو ( عمرو بن عون ) کی حدیث ( نمبر ۳۳۰۸ ) کی طرح ذکر کیا۔
حدیث 3310 — سنن أبي داود 22:69
صحیحصحیحصحیحصحیح Bukhari (1953) Sahih Muslim (1148)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، - الْمَعْنَى - عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏:‏ أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ ‏:‏ إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ‏:‏ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے ۔
حدیث 3311 — سنن أبي داود 22:70
صحیحصحیحصحیح Bukhari (1952) Sahih Muslim (1147)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔